Aaghar-Nadeem-Sahar

اگر چیف جسٹس چاہیں

مجھے سابق گورنر پنجاب نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان کا ایک مشہور واقعہ یاد آرہا ہے۔
ملک صاحب اخبار پڑھ رہے تھے کہ ایک خبر پر نظر پڑی کہ بے چاری ماں پچھلے تین دن سے گمشدہ بچی کی تلاش میں مدد کے لیے ڈی سی کے دفتر کے چکر کاٹ لگا رہی ہے مگر کوئی نہیں سن رہا۔ملک امیر نے خبر کا نوٹس لیا،ڈی سی او اور ایس پی گورنر ہاؤس بلایا۔خبر کی تصدیق کی اور دونوں افسران سے پوچھا کہ بچی کتنے دن میں بازیاب ہوگی،دونوں افسران نے دو دن مانگے۔ دو دن بعد ملک امیر نے دونوں افسروں کو دوبارہ بلوا لیا اور پوچھا کہ بچی ملی؟دونوں نے سرکاری زبان کا استعمال کیا۔ملک امیر محمد خان غصے میں آ گئے اور حکم دیا کہ ان دو نوں افسران کے بچے گھروں سے لے کر گورنر ہاؤس پہنچائے جائیں،اہلکار بچے لے آئے۔ نواب آف کالا باغ ملک محمد امیر خان نے اب دوبارہ افسروں سے پوچھا کہ بچی کتنے دن میں برآمد ہوگی۔دونوں افسروں نے چوبیس گھنٹے کا وقت مانگا۔ملک امیر اگلے دن گیارہ بجے گورنر ہاؤس پہنچے تو دونوں افسران بچی بازیاب کروا کے لا چکے تھے۔اسی طرح کا ایک اور واقعہ ملاحظہ کریں۔ گوڑھا محلہ،منڈی بہاؤالدین ایک غریب خاتون رفیقن کا بیٹا اغوا ہوا، بے چاری بہت بھاگی دوڑی مگر کہیں شنوائی نہ ہوئی۔آخر کار اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کے کچن میں کام کرنے والے ایک لالہ موسیٰ کے آدمی سے شناسائی ہوئی،اس کے توسط سے جنرل مشرف سے ملاقات ہو گئی،رفیقن جنرل مشرف کے محل میں اس سے ملی ۔رفیقن نے مسئلہ مشرف کے سامنے رکھ دیا،مشرف نے فون اٹھا یا اور ڈی آئی جی پنجاب کو حکم دیا کہ مجھے چوبیس گھنٹے میں رپورٹ دیں۔رفیقن گھر پہنچی تو ڈی پی او منڈی بہاؤالدین اس کے گھر اس کا انتظارکر رہا تھا،اسی رات گوجرانوالہ سے ایک ملزم گرفتار ہوا اور اس کی چھترول کے بعد اس نے بتا دیا کہ بچی سندھ کے علاقہ ٹھٹھہ میں فروخت کی۔
اب آپ ایک تازہ واقعہ دیکھیں۔منڈی بہاؤالدین کا رہائشی ذیشان حیدر جونویں کلاس کا طالب علم ہے،اس کا والد ذولفقار موچی لاہور میں ایک فیکٹری میں متوسط طبقے کا ملازم ہے،ذیشان پچھلے بارہ دن سے لاپتہ ہے۔آپ پولیس کی بے حسی ملاحظہ کریں،ذیشان کے گھر والے تھانہ کٹھیالہ شیخاں میں ایف آئی آر کے لیے گئے توپولیس نے ٹال مٹول شروع کر دی،کئی گھنٹوں کی عرق ریزی کے بعداس شرط پہ ایف آئی آر درج کی گئی کہ موبال کالز ڈیٹا(سی ڈی آر)آپ خود نکلوا کر دیں،حالانکہ یہ ذمہ داری انسانیت کے تحفظ کے دعویدار محکموں کی ہوتی ہے۔خیر ذیشان کے والد نے جیسے تیسے کر کے موبائل ڈیٹا نکلوا دیا مگر معاملہ پھر کھائی میں چلا گیا ۔ذیشان کا والد موبائل ڈیٹا ہاتھ میں لیے کئی دن در در کی ٹھوکریں کھاتا رہا،وہ زمینداروں،جاگیرداروں سے لے کر تھانوں،کچہریوں،اور چوپالوں تک کے دھکے کھا رہا ہے،ذیشان کی ماں تھانے کے باہرکئی کئی دن جا کے جھولی پھیلا کر بیٹھتی رہی مگر انصاف نہ ملا،انصاف ملتا بھی کیوں ؟۔انصاف تو اس ملک میں شریفوں، ذرادریوں، چودھریوں یا جاگیرداروں کو ملتا ہے۔ذیشان کے والد کو ہیومن رائٹس پروٹکشن فاؤنڈیشن کا دروازہ نظر آیا ،اسے لگا کہ یہ لوگ انسانیت کا دکھ اور مداوا سمجھ سکتے ہیں ،اس نے اس فاؤنڈیشن کے چیئرپرسن یوسف بدر سے ملاقات کی،اللہ بھلا کرے برادریوسف بدر کا ،کہ وہ یہ معاملہ کورٹ تک لے کر پہنچے اور اب معاملہ کچھ سلجھتا دکھائی دیا۔
اسی طرح آپ زینب کو دیکھ لیجیے۔زینب کا تعلق اس قصور سے ہے جہاں اس سے قبل ایک سال کے اندر گیارہ ایسے اسکینڈل سامنے آ چکے ہیں جن میں معصوم بچوں کو درندگی کا نشانہ بنا کر یا تو قتل کر دیا گیا یا پھر ان کا نام و نشاں تک مٹا دیا گیا۔اسی شہر میں دو سال قبل ایک جنسی اسکینڈل سامنے آیاتھا،پانچ سو بچوں کی برہنہ ذیادتی کی ویڈیو بنا کر انہیں بلیک میل کیا جاتا تھا،ملزمان با اثر تھے اور سز ا سے بچ گئے۔اسی طرح کا واقعہ دو روز قبل پھرعارف والا میں بھی پیش آیا جہاں پانچ سالہ ام کلثوم کا ذیادتی جا نشانہ بنا کر مار دیا گیا اور خبر دب گئی۔ یہ ایک سال میں بارہواں واقعہ ہے جس میں معصوم بچوں کو درندگی کا نشانہ بناکرلاش کوڑا دان پر پھینکی گئی۔اس واقعے کے بعد زینب کے والدین کیا کریں،عدالت جائیں،پولیس کا دروازہ کھٹکھٹائیں یا مکمل طور پر خاموش ہو جائیں۔میرے خیال میں آخری آپشن بہتر ہے۔کیونکہ عدالت میں جائیں گے تو انہیں وکیل کرنا پڑے گا ،ان کی بھاری فیسیں دینی پڑیں گی،مجرموں کے خلاف گواہ اکٹھے کرنے پڑیں گے جو ناممکن ہے اور اگر گواہ مل بھی گئے تو یا وہ ضمانت پر رہا ہو جائیں گے یا پھر صدر ممنون حسین ان کی عمر قید کی سزا معاف کر دیں گے لہٰذا زینب کے والدین خاموشی کو بہتر جانیں گے اور معاملہ تب تک پھر رفع دفعہ ہو جائے گا جب تک کہ کوئی اور زینب ان درندوں کے ہاتھ نہیں لگتی۔
محترم چیف جسٹس میرے سامنے کئی ایسے واقعات کی فہرست پڑی ہے جن میں ملزمان با اثر تھے ،ان کی ضمانتیں ہو گئیں یا وہ بری کر دیے گئے۔اس میں نو سالہ طیبہ سرفہرست ہے،جو جج صاحب کے گھر کام کرتی تھی،جس پرمسلسل تشدد کیا جاتا تھا،کئی کئی دن سخت سردی میں اسٹور میں بند کیا جاتا تھا۔رات کو ہوس پوری کی جاتی تھی مگر آخر کا ر والدین کو صلح کرنی پڑی۔اس فہرست میں کراچی میں زیادتی کا نشانہ بننے والی طوبیٰ بھی شامل ہے جس کی زیادتی کے بعد نسیں،گردن اور ہاتھ تک کاٹ دیے گئے تھے مگر اس کے بعد کیا ہوا،کچھ بھی نہیں۔اس فہرست میں فیصل آباد کا عمران بھی شامل ہے جسے مدرسے میں اجتماعی زیادتی کے بعد تیسری منزل سے برہنہ دھکا دے دیا گیا ،اس کی لاش پانچ گھنٹے سڑک پر پڑی رہی اور معاملہ خود کشی کہہ کر سمیٹ دیا گیا۔اس فہرست میں سابق وزیر مملکت صدیق کانجو کا بیٹا مصطفی کانجو بھی شامل ہے جس نے گیارہ سالہ زین کو لاہور میں گاڑی کی ٹکر سے مار ڈالا تھا مگر معاملہ خاموش ہو گیا۔چیف جسٹس صاحب ان تمام معاملات میں نہ ہی طیبہ کا جج،طوبیٰ کا مجرم اور نہ فیصل آباد کا مولوی پکڑا گیا،آج تک مصطفی کانجو کو بھی کوئی نہیں پوچھ سکا۔ریمنڈ ڈیوس اورشارخ جتوئی کے بارے میں کون نہیں جانتا۔ میں بار بار معصوم زینب اور ذیشان کی تصویر دیکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں محترم چیف جسٹس اگر آپ چاہیں تو متوسط اورغربت کی چکی میں پسے ہوئے عوام کا عدالتوں کے بارے کھویا ہوا اعتماد بحال ہوسکتا ہے ،یہ بے چارے غریب اور ازلی غلام بہت کمزور ہیں،یہ ڈرتے ہیں کہ اگر اپنے کیسز عدالتوں اور تھانوں تک لے کر پہنچے تو ان کا منہ یا تو پیسوں سے بند کروا دیا جائے گا یا پھر دھمکیوں اور چھریوں سے۔خدا را اس ملک کو جانورستان نہ بننے دیا جائے۔محترم چیف جسٹس صاحب معاملہ عدالتوں میں دھکیلنے کی بجائے سیدھا سزا پہ لائیں،وزیر اعلیٰ زینب کے گھر گئے اور ان کو حوصلہ دیا کہ زینب میری بیٹی تھی۔شہباز شریف صاحب اگر واقعی زینب آپکی بیٹی تھی تو ثابت کریں آپ اپنی بیٹی کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔محترم چیف جسٹس اور وزیر اعلیٰ صاحب اب یہ سب آپ کے ہاتھ میں ہے،اپنی بیٹی زینب کا بدلہ کیسے لینا ہے،فیصلہ کریں۔