Ch Farrukh Shezad copy

’’اگر تم لوٹنا چاہو۔۔۔‘‘

آج کی تیز رفتار زندگی میں کچھ چیزیں ہمیں رومانویت اور ماضی کے جھروکوں میں کھو جانے پر مجبور کرتی ہیں، ان میں ریل گاڑی کے انجن کی پٹری اور فضاؤں کا سینہ چیرتی ریلوے انجن کی سیٹی کی آواز ہے۔ یہ دونوں یاد گاریں زندگی کی مقصدیت کی ملامت ہیں کیونکہ یہ انسانوں کو منزل مقصود تک پہنچانے اور بچھڑوں کو ملانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اسی لیے آئزن ہاور نے کہا تھا کہ کوئی دانشمند یا بہادر یہ نہیں سوچ سکتا کہ تاریخ کی پٹری پر لیٹ کر مستقبل کی گاڑی تلے کچلے جانے کا انتظار کرے۔ زندگی اور ریل گاڑی میں قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں ہی روانی کا نام ہے اور ان کی رفتار کی معطلی گویا موت کی علامت ہے۔ ریل گاڑیاں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک تو وہ ہیں جو خیبر سے کراچی تک رواں دواں ہو کر ملکی ترقی کے سفر میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں جبکہ دوسری قسم خیالات کی گاڑی ہے جسے اہل مغرب Train of thoughts کا نام دیتے ہیں۔ یہ سوچ اور تخیل کا وہ حسین سفر ہے جو ہمیشہ نئی منزلوں کی کھوج میں رہتا ہے اور جس کی رنگینیاں ہماری زندگی کی دلکشی میں اضافہ کرتی ہیں۔ بظاہر یہ دونوں بہت غیر متوازی بلکہ متضاد عمل ہیں مگر حالیہ تناظر میں ان کو یکجا کر دیا جائے تو ہمارے ذہن میں جو نام ابھر کر سامنے آتا ہے وہ محترم محمد جاوید انور ہیں جو پاکستان ریلویز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور سینئر جنرل منیجر ہیں جو سینئر بیورو کریٹ ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر مصنف اور دانشور ہیں۔ انہوں نے محکمہ ریلوے کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہونے کے بعد ریلوے کے خسارے میں کمی کے ساتھ مسافروں کی تعداد، ریونیو اور دسیتاب سہولتوں میں گراں قدر اضافہ کیا ہے جس پر الگ بحث کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا موضوع ان کی غزلوں اور نظموں پر مشتمل ان کی حال ہی میں شائع ہونے والی شعری تصنیف ’اگر تم لوٹنا چاہو‘ ہے۔ جو ان کے تجربات اور تخلیقی سفر کا حامل ہے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا اور پھر مقابلے کے امتحان میں کامیابی کے بعد ریلوے سے وابستہ ہو گئے۔ جس طرح ریل گاڑی اور خیالات کی گاڑی آپس میں غیر متوازی ہیں بالکل اسی طرح شاعری اور بیورو کریسی بھی ایک دوسرے کی ضد ہیں مگر یہ جاوید انور صاحب کی ذات کی کرشمہ سازی ہے کہ وہ
ان ساری لا متناہیات کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں اور سب کے ساتھ یکساں انصاف اور مساوات پر قائم ہیں۔ ’’اگر تم لوٹنا چاہو‘‘ کے بارے میں ان کا اپنا خیال یہ ہے کہ یہ شاعری انہوں نے کی نہیں بلکہ ان سے سرزد ہو گئی ہے۔
انسان سوچتا کچھ اور ہے مگر ہوتا کچھ اور ہے۔ زندگی میں جاوید انور صاحب کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ وہ ابتدائی تعلیمی دور میں ڈاکٹر بننا چاہتے تھے لیکن ادب سے وابستگی انہیں بغاوت پہ آمادہ کرتی تھی چنانچہ ادب اور طب کی اس محاذ آرائی میں ادب کو فتح حاصل ہوئی اور وہ اپنے کیریر کی گاڑی کا کانٹا بدلنے میں کامیاب ہو گئے۔ کہتے ہیں کہ آپ غلط گاڑی میں سوار ہو جائیں تو ڈبے میں مخالف سمت کی جانب جتنی چاہے بھاگ دوڑ کر لیں آپ اپنی منزل سے ہمکنار نہیں ہو سکتے۔ لیکن جاوید انور صاحب کی مشکل یہ تھی کہ وہ محکمہ ریلوے کی اس گاڑی میں سوار ہوئے تھے اور 1982 ء سے لے کہ اب تک اس میں اصلاح احوال میں مصروف ہیں اور بطورچیف ایگزیکٹو انہوں نے ریلوے نظام میں انقلابی تبدیلیوں کا عمل متعارف کروایا ہے۔ وہ زندگی کی جہد مسلسل میں اخلاص، دیانتداری اور سچی لگن کے قائل ہیں۔ ہمارے دینی و دنیاوی اعمال میں یکسوئی اور یک رنگی کے فقدان کی وجہ سے ان کے نتائج و ثمرات ہماری توقع کے مطابق نہیں مل رہے۔ جاوید انور صاحب نیم دلی میں منافقت کے مخالف ہیں۔ وہ ایک perfectionist ہیں جن کا عقیدہ ہے کہ جو کام آپ نے کرنا ہے خلوص نیت سے کریں ورنہ اسے چھوڑ دیں۔مکافات عمل ہمارے قدرتی نظام کا حصہ ہے لیکن ہم اس پر غور نہیں کرتے۔ ہمارے اعمال کی جزا و سزا دنیا میں ہی ملتی ہے۔ لیکن انسان سمجھتا نہیں۔ محترم جاوید انور صاحب کا خوبصورت شعر اس کی یوں عکاسی کرتا ہے۔
کبھی جو ظلم پہ نازاں تھی ہستی
وہ خود مظلوم ہوتی جا رہی ہے
ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں آج کاظالم کل کا مظلوم ہے۔ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی ۔ اس شعر میں ہمارے لیے ایک عبرت ناک سبق موجود ہے کہ آپ کو زیادتیوں کا بدلہ اسی دنیا میں چکانا پڑے گا۔جاوید انور کا تعلق نارووال کے گاؤں مرالی کے ایک جٹ گھرانے سے ہے جو بوبک کہلاتے ہیں۔ وہ مرے کالج سیالکوٹ کے طالبعلم رہے ہیں۔ یہ وہی کالج ہے جہاں شاعر مشرق علامہ اقبال نے تعلیم حاصل کی۔ وہ کہتے ہیں کہ
غزل معدوم ہوتی جا رہی ہے
فضاء مسموم ہوتی جا رہی ہے
یہ شعر ہماری معاشرتی اقدار کی عکاسی کرتا ہے جہاں مادیت پرستی نے اخلاقی و تخلیقی صلاحیتوں کو گہرے زخم لگائے ہیں۔ ہم سماجی روایات اور اقدار کی بجائے چیزوں کو نفع نقصان کے ترازو میں دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سی خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ اس گھٹن اور افراتفری کے ماحول کو سازگار بنانے کے لیے ادب اور فنون لطیفہ کی ترویج معاشرے میں ہم آہنگی اخوت بھائی چارے کی فضا پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ہمیں محبت کو فروغ دینا ہو گا۔جاوید انور کا المیہ یہ ہے کہ وہ آج کی اس کثیر جہتی دنیا میں صرف ایک ہی چہرہ لیے پھرتا ہے جبکہ آج کامیابی کے لیے لوگ multiple faces یا کئی کئی روپ دھارے پھرتے ہیں۔ شاعر نے اس صورت حال کو دبے لفظوں میں بازار حسن کا نام دیا ہے جہاں olx کی طرح سب کچھ بکتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ۔۔۔
یک رخی عنقا ہے اِن حسن کے بازاروں میں
جنس نایاب پہ کیوں فکر لٹاتے جائیں
’’اگر تم لوٹنا چاہو‘‘ کے دوسرے حصے میں جاوید انور کی نظموں کا مجموعہ شامل ہے جس میں ان کی مشہور نظم تیرے نام سر فہرست ہے۔ یہ ان کی عشقیہ شاعری کا نقطہ کمال ہے۔ یہ کائنات محبت کے رنگوں کے بغیر نا مکمل ہے اور محبت ہی ہمارے رشتوں کی اساس ہے۔ اس کے بغیر اندگی کا سفر ایسے ہی ہے جیسے ریل گاڑی وسیع سبزازاروں میں چلتے چلتے اچانک کسی اندھیری سرنگ میں گھس جاتی ہے اور چاروں طرف اندھیرا چھا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں جاوید انور کی نظم ہمیں زندگی کا احساس دلاتی ہے
کتاب کا آخری حصہ ان کی چند پنجابی نظموں پہ مشتمل ہے۔ ان کی پنجابی شاعری میں خیالات کی پختگی اور لفظوں کی جادوگری شاید ان کے اردوکلام سے بھی بڑھ کر ہے۔
محترم جاوید انور کے ساتھ ہماری خفیہ نیاز مندی کے پیچھے ان کے برادر خرد چوہدری نوید انور بوبک ہیں جو مرچنٹ نیوی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارا پیار محبت کا اٹوٹ رشتہ ہے۔ ’’اگر تم لوٹنا چاہو‘‘ کی شاعری اور خیالات اپنا ایک جداگانہ اسلوب رکھتے ہیں۔ یہی اس کی انفرادیت ہے۔