Abrar Bhatti copy

اڑھائی کروڑ بچے اور ایک چیف جسٹس

پانامہ کیس کے دورا ن ایک بات جو محترم جج صاحبان نے بار بار دہرائی وہ یہی تھی کہ پاکستان میں ادارے اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں اور زیادہ تر بوجھ عدالتوں پر آن پڑا ہے ۔ عدالت عظمیٰ کے یہ ریمارکس گویا پورے پاکستانیوں کے دل کی آواز تھے۔ پاکستان ایک ایسے سماجی مسئلہ کی زد میں ہے جو ہمارے سیاسی لیڈروں کے دانشوروں کی نظر میں کسی اہمیت کا حامل نہیں، اگر ہوتا تو اس مسئلہ پر کوئی بحث مباحثہ، سیمینار یا ٹاک شو ہوتا لیکن مصیبت یہ ہے کہ نہ اس سے کوئی ریٹنگ بڑھ سکتی ہے نہ ووٹ بینک میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ نہ ہی اپنے بینک اکاؤنٹ میں بڑھوتری ہوسکتی ہے۔ یہ مسئلہ ہے ان بچوں کا جن کے ہاتھوں سے کھلونے چھین کر ہم جیسے لوگوں کے گھروں میں اوپر کا کام کرنے کے لیے دھکیل دیا گیا ہے، جن سے ان کے بچپن سے شرارتیں اور شوخیاں چھین کر ان کی معصومیت کو داغدار کر دیا گیا ہے۔ صاحب لوگوں کے گھروں میں ان پر جو ظلم ہوتے ہیں، ان میں سے چند ایک بڑے گھروں کی اونچی دیواروں سے نکل کر کبھی کبھار ہمارے ضمیر پر تازیانے لگانے کے لیے اخبارات اور میڈیا کی زینت بن جاتے ہیں۔ وہ بھی اگر کوئی صاحب ضمیر ہو تو،چیف جسٹس پاکستان جناب ثاقب نثار 2 مہینے میں 3از خود نوٹس لے چکے ہیں ۔ پہلے جس کیس کی بازگشت پورے پاکستان میں سنی گئی، وہ دس سالہ طیبہ تھی جو ایک ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی خاں کے گھر ملازمہ تھی ۔ ان کی اہلیہ نے اس معصوم بچی پر اس قدر بہیمانہ ظلم کیا کہ اس کا انگ انگ زخموں سے چھلنی، منہ سو جا ہوا ، جسم گرم چمٹے کی مار سے داغ داغ تھا ۔ اس کی تصویریں اور ویڈیو دیکھ کر پورا پاکستان لرز اٹھا ۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے یہ محسوس کر کے کہ اس میں عدلیہ کے اہم عہدے دار کی فیملی ملوث ہے، اس کیس کا از خود نوٹس لے لیا تاکہ مظلوم کو انصاف میسر آسکے۔ دوسرا کیس انسانیت کے نام پر دھبہ ہے۔ 13سالہ عرفان ملزم شفقت علی کے گھر ملازم تھا ۔ مالکن نے اسے بھینسوں کے لیے چارا کاٹنے کا حکم اس وقت دیا جب اس بدنصیب کو خود بھوک لگی ہوئی تھی ۔ اس کے کھانا مانگنے اور تنخواہ طلب کرنے پر اس ہاتھ کو ہی چارا کاٹنے والی مشین میں دے کر کاٹ دیا جس ہاتھ سے اس نے حق محنت وصول کرنا تھا ۔ اس المناک خبر پر چیف جسٹس پاکستان نے I.Gپنجاب سے 48گھنٹوں میں از خود نوٹس کے تحت رپورٹ مانگ لی ۔ یہ واقعہ 7مئی کو وقوع پذیر ہوا تھا ۔ عرفان کی ماں کی آہوں اور سسکیوں نے تھانے کے درو دیوار ہلا دیے تھے۔ اس کا بوڑھا دادا اپنی چھاتی پیٹ رہا تھا لیکن پنجاب پولیس اپنا پیٹ دیکھے یا کسی بوڑھے بیمار لاغر فریادی کی سینہ کوبی ؟واقعہ کی FIRدرج نہ کی گئی۔ جب میڈیا پر شور مچا تو 8مئی کو FIR کا اندراج ممکن ہوا ۔ تیسرا ازخود نوٹس چیف جسٹس نے سندھ کی 12سالہ گھریلوملازمہ سے زیادتی کے حوالے سے میڈیا پر آنے والی خبروں پر لیا اور I.G سندھ کو حکم دیا کہ ایک ہفتہ کے اندر اندراس کی تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے۔
شیخوپورہ کے عرفان علی کے اندو ہناک حادثہ پر چیف جسٹس سپریم کورٹ کے از خود نوٹس لینے کے بعد جناب خادم اعلیٰ پنجاب حسب روایت ننکانہ صاحب کے گاؤں مچھروالی پہنچے ۔ عرفان ، اس کے والدین اور اس کے دادا سے ملاقات کی اور واقعہ کی تفصیلات سے آگاہی حاصل کی اور اظہار ہمدردی کیا۔ خادم اعلیٰ نے کہا کہ واقعہ کی تحقیقات کے لیے شاندار ریکارڈ کے حامل ایماندار افسروں کی کمیٹی بنا دی ہے ۔ شفاف انکوائری ہوگی اور قصور وار پائے جانے والے کسی بھی بااثر اور طاقت ور کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیگا اور یہ روایتی فقرہ بھی بولا ’’زیادتی کرنے والا کوئی شخص قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکے گا ،ہاتھ کاٹنے والے ظالم کو قانون کے شکنجے سے کوئی نہیں بچا سکتا،متاثرہ خاندان کے بچوں کی مفت تعلیم و تربیت کے اخراجات پنجاب حکومت برداشت کرے گی اور متاثرہ خاندان کو مفت طبی سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔ مزید یہ کہ مظلوم عرفان کے “اکلوتے “ہاتھ میں دس لاکھ کا چیک تھما کر آندھی کی طرح گئے اور بگولے کی طرح لوٹ آئے۔ سوال یہ ہے کہ ایک خاندان کو انصاف کی یقین دہانی مفت طبی سہولتیں، مفت تعلیم و تربیت بہم پہچانے کے لیے ایک 13سالہ بچے کا ہاتھ کٹوانا ضروری ہے ؟ کیا آئین پاکستان نے پاکستانیوں کو صحت و تعلیم دینے کی ذمہ داری ریاست کی نہیں ٹھہرائی۔ کیا ہمارے لیڈروں کو خبر نہیں کہ اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یہی وہ بچے ہیں جو نام و نہاد اشرافیہ کے گھروں میں ہر قسم کے ظلم و تعّدی کا شکار ہیں۔ 20کروڑ کی آبادی میں صر ف ڈیڑھ لاکھ سرکاری سکول جن میں سے 11ہزار سکول عمارتوں کے بغیر 15ہزار سکولوں کی عمارتیں مخدوش ہوچکی ہیں، 50ہزارسکولوں کی عمارتیں فوری مرمت مانگتی ہیں۔ کیا کبھی کسی لیڈر نے بچوں کی تعلیم و تربیت کا جامع منشور پیش کیا۔ جب بھی سنا یہی سنا موٹروے کے بغیر ترقی نہیں ہوسکتی ، جدید انفراسٹرکچر تعمیر کیے بغیر ترقی نہیں ہوسکتی۔ کیا کسی سیاستدان نے قوم کے بچوں کاذہن تعمیر کرنے کا پروگرام پیش کیا۔ کیا پسماندہ ،ان پڑھ ذہن جدید انفراسٹرکچر سے فیض یا ب ہوسکتا ہے ۔ لے وے کہ ایک صرف عمران خان ہے جو ہیومن ڈویلپمنٹ کی بات کرتا ہے وہ بھی پتا نہیں کسی کی سمجھ میں آتی ہے کہ نہیں۔ پسماندگی، جدید انفراسٹرکچر کو کیسے استعمال کرتی ہے ۔ جس نے دیکھنا ہوجا کرپنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی دیکھ لے۔ جدید ترین ہسپتال کا وہ حال ہو چکا ہے کہ ڈیڑھ سو سال پرانا میو ہسپتال بھی دیکھ کر شرمائے۔
یہ اڑھائی کروڑ بچے جو تعلیم و تربیت سے محروم ہیں ان کا کیا مستقبل ہے جن کا حال گرم چمٹے سے داغے جانا۔۔۔ گرم استری سے کھال جلائے جانا۔ دس، دس، بارہ بارہ سالہ لڑکیوں کا جنسی استحصال، تنخواہ مانگنے پر اس ہاتھ ہی کا کاٹ دینا جس ہاتھ سے محنت کر کے اس نے زندگی بھر رزق کمانا تھا ۔ یہ اڑھائی کروڑ بچے اپنے پچپن اور تعلیم سے یک لخت باہر نہیں ہوئے۔ میرے نزدیک تو یہ معصوم انسانی دائرے سے ہی باہر کر دئیے گئے ہیں۔ اس عمل کو ہمارے معاشرے میں دھیرے دھیرے داخل کیا گیا۔ آہستہ آہستہ ریاست نے صحت ، تعلیم اور بنیادی سہولتوں سے ہاتھ اٹھانا شروع کیا اور جلد ی جلد ی پرائیویٹ مافیا نے حکومتی ملی بھگت سے اس کی خالی کی ہوئی جگہوں کو پورا کرنا شروع کر دیا اور گزشتہ چالیس برسوں میں میڈیکل اور تعلیم کے شعبہ میں پرائیویٹ مافیا کا قبضہ ہوگیا جن کی فیسیں غریب عوام کی برداشت سے باہر ہیں ۔ سرکاری سکولوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ غریب عوام نے اپنے بچے بڑے گھروں میں نوکر کروانے شروع کر دئیے ۔ اس ضمن میں آپ کو ایک ذاتی واقعہ سناتا ہوں جس سے ہوسکتا ہے صورت حال واضح ہوجائے کہ ہم یہاں تک پہنچے کیسے۔ 1995ء کی بات ہے میں آفس جا رہا تھا کہ والدہ کا بلاوا آگیا کہ ڈرائنگ روم میں آؤ۔ میں گاڑی سے اتر کر ڈرائنگ روم کی طرف لپکا۔ اندر داخل ہوا تو نیم فربہ عورت صاف ستھرے کپڑے پہنے صوفہ پر بیٹھی تھی، سامنے تپائی پر چائے اور گولڈ لیف کا پیکٹ پڑا تھا اور وہ خود بڑے مزے سے سگریٹ پی رہی تھی۔ والدہ نے تعارف کرایا کہ خداداد کی ماں ہے۔ یہ ہمارا گھریلو چھوٹا تھا اس وقت اس کی عمر تقریباً12برس تھی ۔ میں نے سوالیہ نظروں سے والدہ کو دیکھا کہ اگر اس کی ماں ہے تو مجھ سے کیا کام۔ انہوں نے بڑے رسان سے مجھے بیٹھنے کے لیے کہا، خیر میں بیٹھ گیا۔ غائبانہ طور پر میں اتنا ضرور جانتا تھا کہ اس محترمہ کے دس بچے ہیں۔ 9تو بیٹیاں ہیں اور اکلوتا خداداد ہے اور وہ دس کے دس ماڈل ٹاؤن کے مختلف گھروں میں ملازم تھے جن میں چا ر پانچ تو ہمارے رشتے داروں کے گھر میں تھے۔ محترمہ مجھ سے مخاطب ہوئیں کہ بیٹا میں پنجابی میں شاعری کرتی ہوں اگر کوئی واقفیت ہے تو میں P.T.Vپر اپنا کلام پڑھنا چاہتی ہوں ۔ میں نے بڑے ادب سے جواب دیا یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ آپ خود تو شاعرہ ہیں اور اپنے بچوں کو پڑھا نہیں رہیں۔ کہنے لگیں کہ اگر یہ سکول جائیں گے تو ہمارا خرچہ کیسے چلے گا۔ میں نے کہا کہ ان کے باپ کو کہیں وہ پورا کرے گا ۔ آہ بھر کر کہنے لگیں وہ تو کچھ نہیں کرتا”نشئی “ہے ۔مہینے کے مہینے مجھے ہی ان بچوں کی تنخواہیں لینے آنا پڑتا ہے۔میں نے پوچھا دس بچوں سے کتنے پیسے جمع ہوجاتے ہیں ۔ کہنے لگیں کل ملا کر 25000ہزار روپے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب گریڈ 17بھی 15000سے زیادہ نہ تھا ۔
غریبوں نے اب اپنا سرمایہ بچوں کو بنا لیا ہے ۔ جتنے بچے زیادہ ہونگے اتنی ہی آمدنی بڑھے گی۔ آپ اپنے ارد گرد دیکھیں آپ کو یہی نظر آئے گا ۔ اب ایک قدم آگے بڑھ چکے ہیں ۔ 50، 50ہزار ایڈوانس لے کر اسٹام پیپر لکھ دیتے ہیں کہ 5سال تک یہ بچہ یہیں کام کرے گا، اسی لیے پاکستان کی آبادی بے تحاشا بڑھ رہی ہے ۔ بنگلہ دیش کی آباد ی جو مغربی پاکستان سے زیادہ تھی میرا خیال ہے اب کم ہوچکی ہے۔ یہ آبادی بم کسی دن تو پھٹے گا ۔ اس سیلاب بلا کو روکنے اور قوم کو تعمیر کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ میٹرک تک تعلیم لازمی اور مفت کر دی جائے اور اس پر مکمل کنٹرول ہو کہ کوئی بچہ سکول سے باہر نہ رہ جائے ۔ دنیا میں کئی ممالک ایسے ہیں جہاں بچے کو سکول نہ بھیجنے پر ماں باپ کو جرمانہ اور قید تک کی سزا ہوسکتی ہے کیونکہ آج جو بچے ہمارے گھروں میں، دکانوں میں، ورکشاپوں میں کام کر رہے ہیں کل کو وہ بھی دس دس بچے پیدا کر کے آرام سے اپنے گاؤں میں بیٹھ کر نشے کررہے ہونگے اور کروڑوں بچوں کا پچپن کبھی آئے گا ہی نہیں ۔ تعلیم لازمی اور مفت ہو تو جب ان بے حس ماں باپ کو اپنے بچوں کو تین وقت کا کھانا اور کپڑے فراہم کرنا پڑیں تو میں دیکھوں گا یہ دس دس بچے کیسے پیدا کرتے ہیں ۔ یہ لوگ ان بد نصیب بچوں کو نہ گھر کا ماحول دے رہے ہیں۔۔۔ نہ ماں باپ کا پیار، ان کو صرف ان کی تنخواہ سے غرض ہے۔ اگر اس منحوس سرکل کو نہ توڑا گیا تو آبادی کا سیلاب پاکستان کو بہا کر لے جائے گا ۔ ان بچوں اور بچیوں کی قسمت میں تشدد اور ہر قسم کا استحصال ہی رہ جائے گا ۔ چیف جسٹس اڑھائی کروڑ بچوں میں سے کس کس کا از خود نوٹس لیں گے !