انڈین آرمی چیف کی گیدڑ بھبکی

جب سے امریکہ نے انڈیا کو افغانستان میں اپنا نیا اتحادی بنایا ہے اور اسے پاکستان کے خلاف ڈرون طیارے دینے کا وعدہ کیا ہے انڈیا اپنے آپ کو ساتویں آسمان پر محو پرواز سمجھ رہا ہے۔ اُسے یہ نہیں پتا کہ دنیا کی سپرپاور نے گزشتہ 16سال میں ناکامیوں کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور افغانستان امریکہ کے لیے ویتنام سے زیادہ شرمناک ثابت ہوا ہے۔ انڈیا نے جب سے عالمی سطح پر اپنی سیاسی ولدیت تبدیل کرکے روس کو چھوڑ کر امریکہ کی آغوش میں جائے پناہ ڈھونڈی ہے وہ اپنے اپ کو پہلے سے زیادہ محفوظ تصور کرنے لگا ہے۔ اس تناظر میں ہمیں اب انڈین آرمی چیف بپن روات کا حالیہ بیان گزشتہ سال کی سرجیکل سٹرائیکس سے زیادہ مضحکہ خیز لگتا ہے۔سرجیکل سٹرائیک والا بیان عالمی عسکری حلقوں میں ابھی تک معمہ بناہوا ہے۔ جنرل بپن روات نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر ان کی حکومت کہے گی تو پاکستان کے اندر گھس جائیں گے ہم پاکستان کی نیوکلیائی گیدڑ بھبکی سے خوف زدہ نہیں ہیں۔ اس پریس کانفرنس میں ان کی دوسری اہم بات یہ تھی کہ امریکہ کے ساتھ ان کے مذاکرات ہورہے ہیں کہ امریکہ اور انڈیا بطور اتحادی لائژن آفیسر تعینات کریں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ افسر جنگ کی صورت میں اپنی اپنی Combatant Commandکو صورت حال سے آگاہ رکھ سکیں ۔انڈیا نے ہمیشہ عالمی معاملات میں متنازع مؤقف اپنا یا ہے جس کی حالیہ مثال یہ ہے کہ ایک طرف تو انڈیا نے اندرا گاندھی کے زمانے میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات کو اعلیٰ ترین اعزاز پدما بھوشن ایوارڈ سے نوازا تھا جبکہ دوسری طرف انڈیا نے مذہب کی بنیاد پروہاں اقلیتوں کا قتل عام کروایا۔ سکھوں کا قتل عام اور گجرات کے مسلمانوں کا قتل عام، اس کی مثالیں ہیں۔ اپنے ملک میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والا نریندر مودی کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کے باوجود فلسطین کے معاملہ میں اسرائیل کی مخالفت کرتا نظر آتا ہے کیونکہ انڈیا نے کہا ہے کہ وہ یروشلم کو دارالخلافہ بنانے کے اسرائیلی فیصلے کے مخالف ہیں۔
بھارتی آرمی چیف جنرل بپن روات نے جوبیان دیا ہے وہ فوجی روایات کے منافی ہے۔ ویسے بھی جمہوریت میں اس طرح کا بیان ملک کی سیاسی قیادت کی طرف سے آنا چاہیے تھا۔ یہ کون سا دورہے اور کون سی جمہوریت ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والا انڈیا اپنے فوجی سربراہ کے ذریعے کسی دوسرے ملک میں گھسنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ کیا انڈین فوج اپنے ملک کی سیاسی قیادت کو تسلیم نہیں کرتی۔ انڈیا کو خبردار رہنا چاہیے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر نہیں ہے۔ اگر انڈیا کو شوق ہے تو وہ پاکستان پر حملہ کرکے دیکھ لے۔ آئی ایس پی آر نے یہی جواب دیا ہے کہ ہماری طاقت آزماکر دیکھ لو آپ کو اندازہ ہوجائے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان آرمی ایک Battle Hardenedآرمی ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردوں کے ساتھ لڑلڑ کر کندن بن چکی ہے اور اس کی فائیٹنگ سپرٹ کے مقابلے میں انڈیا تو کیا امریکہ بھی مقابلہ نہیں کرسکتا۔
کچھ عرصہ پہلے جب انڈیا نے کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کے تحت اپنے آپ کو امریکہ سمجھتے ہوئے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ انہیں پاکستان پر Preemp tive Strikeیعنی پیشگی حملے کا حق حاصل ہونا چاہیے تو پاکستان نے انہیں اس وقت بھی باور کردیا تھا کہ پاکستان سری لنکا یا مالدیپ نہیں ہے ۔ بھارتی آرمی چیف کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر کے سخت ترین بیان کے بعد پاکستان نے اپنے مؤقف پر ڈٹ جانے کا پیغام دے دیا۔ حالیہ مہینوں میں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن امریکی وزیر دفاع جم میٹس۔ ساؤتھ ایشیا ویمن کی ڈائریکٹر لیزاکرٹس ، چیف آف سنٹرل کمانڈ جنرل جوزف ووٹل اور بہت سے سینئر عہدیدار وقفے وقفے سے پاکستان کا دورہ کررہے ہیں تاکہ پاکستان امریکہ کی بات مان لے لیکن پاکستان نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ملکی مفاد کے منافی کوئی ڈیل نہیں ہوگی۔ امریکہ نے دوارب روپے کی جنگی اخراجات کی رقم روک لی ہے پاکستان نے کہا ہے کہ ہمیں امداد نہیں چاہئے مگر ہماری قربانیوں کوتسلیم کیا جائے۔ جس کے بعد امریکی حکام کی جانب سے معاملات کو بحال کرنے کے اشارے مل رہے ہیں۔ انڈیا نے مخالفانہ بیان دے کر ایک دفعہ پھر اس عمل کو سبوتاژ کرنے کا ثبوت دیا ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ امریکہ پاکستانی علاقوں پر حملہ کرنے کا نہیں سوچے گا کیونکہ اسے پتا ہے کہ یہ اب 2012ء نہیں ہے جب انہوں نے ایبٹ آباد حملے کا ڈرامہ رچایا تھا۔ ہرچیز کی ایک حدہوتی ہے۔ ایک اور سٹرٹیجک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کے ساتھ لڑائی کی صورت میں افغانستان میں امریکی اور نیٹو سپلائی لائن بند ہو جائے گی جس سے امریکہ کے اخراجات کئی گنا بڑھ جائیں گے جو امریکہ افورڈ نہیں کرسکے گا۔ امریکیوں کی پاکستان کوپریشر میں رکھنے کی پالیسی کے پیچھے فلاسفی یہی ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ کو روکا جائے کیونکہ یہ جنگ اب انڈیا پاکستان کی نہیں ہوگی چائنہ سی پیک کے تحفظ کے لیے کسی کو بھی یہاں بدمعاشی نہیں کرنے دے گا۔
امریکہ اور انڈیا ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ دنیا کو اس سے اس لیے خطرہ ہے کہ یہ دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ یہ ایک ایسا Narrativeہے جو کبھی شمالی کوریا کے خلاف بھی نہیں اٹھایا گیا۔ امریکہ اندر سے ڈرتا بھی ہے کہ اگر انڈیا کے کہنے پر پاکستان پر دباؤ زیادہ ہوگیا تو پاکستان مزاحمت کا راستہ اختیار کرے گا اور کہیں شمالی کوریا والی صورت حال پیدا نہ ہو۔ اس لیے آپ کو بے فکر رہنا چاہیے کہ امریکہ پاکستان پر حملے کی غلطی نہیں کرے گا اور جب انڈیا کا مائی باپ یہ کام نہیں کرسکتا تو انڈیا کیونکر یہ کرپائے گا۔ البتہ امریکہ کی طرف سے Carrot &stick پالیسی جاری رہے گی اور انڈیا کی نفسیاتی کشمکش ختم نہیں ہوگی۔