jahid ahmed

انصاف ہی ہونا چاہیے

آگے بڑھنے ، چور چور کے نعرے بلند اور فیصلے صادر کرنے سے پہلے ذرا ایک ساعت ٹھہر کر گہری سانس کھینچئے ،یقیناًدماغ کا روشن دان کھول کر چند حقائق پر نظر دوڑانے کی ضرورت ہے! موجودہ منتخب وزیرِ اعظم کو عوامی تحاریک کے بل پر اٹھا کر ایوانِ اقتدار سے باہر پھینک دینے کی دو منظم کوششیں اب تک ناکامی سے دوچار ہوئیں، بنیادی وجہ جن کی محض اکثریتی عوام کی ان تحاریک میں عملی طور پر عدم دلچسپی ثابت ہوئی تھی۔ یہ تحاریک حکمران جماعت کے حامی عوام کو سڑکوں پر لاکر اپنی منتخب کردہ حکومت کے خلاف ہی احتجاج کرنے اور حالات کو بدترین حد تک خراب کرنے پر کسی صورت قائل نہیں کر سکی۔ پہلی کوشش بالآخر کئی ماہ کی تگ و دو کے بعد کنٹینر پر شادی خانہ آبادی کی بات چیت پر اختتام پذیر ہوئی اور دوسری کوشش سڑک پر کھڑے چند
کنٹینروں اور آنسو گیس کے چند شیلوں کے آگے دم توڑ گئی۔ دونوں تحاریک میں دو باتیں مشترک تھیں! ایک کنٹینر اور دو میاں صاب کا استعفی جس میں کٹھ پتلی تحریکی جماعت کو یکسر ناکامی ہوئی۔نتیجہ جس سے یہ اخذ ہواہے کہ عوامی سطح پر تحریکی جماعت اتنی سکت نہیں رکھتی کہ منتخب وزیرِ اعظم کے خلاف عوام کو کامیابی سے ہیجان انگیز حد تک متحرک کر سکے ،چاہے وہ انتخابات میں دھاندلی کا الزام تھا یا آف شور کمپنیوں کا۔ نواز شریف کی معیشت ، بجلی کے پیداواری اور دیگر ٹھوس عوامی منصوبوں پر مبنی کامیاب سیاست عملی طور پر انہیں اگلے انتخابات میں اپنے تمام فریقین کے مقابلے میں واضح فتح کا پیغام دے رہی ہے۔ مخصوص فریق جماعت زمینی سطح پر تمام تر کوشش اور خواہشات کے باوجود عوام کا اعتماد ووٹ کی صورت میں جیتنے میں ناکام ہوتی آئی ہے اور کم و بیش ہر منعقدہ ضمنی انتخاب میں واضح فرق سے شکست سے دوچار ہوتی رہی ہے۔ نواز شریف ایسا کردار ہے جو خطے میں امن، ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر مراسم اور تجارت کے فروغ کا خواہاں ہے۔نواز شریف کے اچھے یا برے معاشی منشور کی بدولت پاکستانی معیشت کے سوکھے سڑے جسم پرکچھ بوٹی بھی چڑھتی دکھائی دینے لگی ہے ۔ لبِ لباب یہ کہ یہ شخص پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں تمام فریقین کے لئے ناقابلِ برداشت حد تک قوت پکڑتا جا رہا ہے!اسے اب بھی ٹانگ سے پکڑ کر کاٹھی سے نیچے کھینچ کر زمیں پر نہ پٹخ مارا گیا تو یہ گھوڑا سر پٹ دوڑاتا بہت سوں کی پہنچ سے آگے نکل جائے گا۔
سر پر لٹکی تلوار کی طرح اگلے سال منعقد ہونے والے انتخابات سے پہلے منتخب وزیرٍ عظم کو کرسی سے گرانے کی یہ تیسری لیکن آخری کوشش ہے جو کہ اس بار بھرپور قانونی طریقے سے کی جا رہی ہے۔
ایک ایسا ملک جس میں سیاسی نظام اور منتخب وزراء اعظم کو ایوانِ اقتدار تو کیا دنیا سے اٹھا کر باہر پھینک دینے کی روایت عام رہی ہے اور جہاں ایسے تمام اقدامات کرنے والے مطلق العنان حکمرانوں کے لئے قانونی اجزاء اور نظریہ ضرورت جیسے قانونی ستون کھڑے کرنے والی عدالتیں غیر آئینی اقدامات اور ایوانِ اقتدار کو دوام بخشنے میں پیش پیش رہی ہوں، جہاں پتلی بازوں کے اشاروں پر ناچنے والی کٹھ پتلی سیاسی جماعتوں کا وجود بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں رہی، وہاں ایسے کسی حساس معاملے پر اٹھایا جانے والا ہر قدم کلی طور پر غیر جانبدارہونا چاہیے تھا لیکن بہر حال ایسا نہیں ہوسکا کہ عدالتِ عظمیٰ کے ابتدائی فیصلے کا متن ، زبان و بیاں اور جے آئی ٹی کی تشکیل سے لے کر جولائی کی دس تاریخ تک عدالتِ عظمیٰ کے تین جج حضرات جو جے آئی ٹی کی تشکیل کے ذمہ دار تھے کم از کم ایک دفعہ اور جے آئی ٹی خود متعدد مواقع پر اپنی غیر جانبداری پر سوال اٹھوا چکی ہے۔اسی طرح دس جولائی کو نا مکمل تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعدسے رپورٹ کے مختلف حصوں اور مندرجات پرحکومتی حلقوں کی جانب سے شدید اعتراضات اٹھائے جانے کے بعد رپورٹ نہ صرف یکسر مسترد کی جا چکی ہے بلکہ اس تمام کارروائی اورجے آئی ٹی کی رپورٹ پر متنازع مگر معقول سوالات نے بھی جنم لیا ہے!
جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ نہ صرف یہ کہ عدالت میں پیش ہو چکی ہے بلکہ اسے بظاہر بعض ناگزیر وجوہات کے باعث نامکمل صورت میں ہر طور اورہر سطح پر میسر بھی کر دیا گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے اگلے اقدامات کیا ہو تے ہیں اور یہ کیس کس سمت جاتا ہے اس کے لئے مزید عدالتی کارروائی کا انتظار کرنا ہو گا۔لیکن جو بات کسی قدر وثوق سے کی جا سکتی ہے وہ صرف اتنی ہے کہ وزیرِ اعظم نے مستعفی ہونے سے انکار کر تے ہوئے عدالتِ عظمیٰ میں اس تحقیقاتی رپورٹ کا دفاع کرنے کا لائحہ عمل مرتب کیا ہے۔ جے آئی ٹی کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ اوراس کے تناظر میں اٹھائے گئے عدالتی
اقدامات اور کارروائی بھی اگلے چند روز میں سب کے سامنے ہو گی ۔ شریف خاندان بھی اس پر کڑی نظر رکھے گا اورمخالفین بھی، قانونی ماہرین بھی انہیں پرکھیں گے اور مبصرین بھی، حال بھی ان اقدامات کا تجزیہ کرے گا اور تاریخ بھی ، پَتلی گردن والے بھی دیکھ رہے اور موٹی گردن والے بھی، شودر بھی اور برہمن بھی، انقلابی بھی اورنونیے بھی، جانبدار بھی اور غیر جانبدار بھی! لہٰذا فی الوقت تاریخ کے کٹہرے میں حقیقتاًکوئی کھڑا ہے تو وہ پاکستان کا عدالتی نظام ہے جسے خود مختار سمجھا جاتا ہے ۔ عدلیہ کے لئے کڑا امتحان ہونے کے ساتھ ہی ساتھ یہ ایک ایسا نادر موقع بھی ہے جو تاریخ میں موجودہ عدلیہ کے لئے نہ صرف اپنے اجداد سے بہتر مقام کا تعین کر سکتا ہے بلکہ مستقبل کے لئے ریاست کے اس اہم ستون کے حوالے سے نئے معیار بھی قائم کر سکتا ہے۔
پاکستانی عوام اور نظام جو واحد امید کر سکتے ہیں وہ عدالتِ عظمیٰ کا درست فیصلہ ہے جو وقت ، خواہشات ، تعصب اور ہیجان کی قید سے آزاد ہو۔ ایسا تاریخی فیصلہ جو آج بھی درست ہو اور کل بھی درست ہی رہے۔