Alvina-Sajid

انسانیت اور خودنمائی کے ٹرینڈز!!

“آج کا دور اور آج کا انسان کس منزل کی جانب گامزن ہیں؟” یہ سوال میرے دماغ کے دریچوں میں اکثر گردش کرتا تھا لیکن میں اس سوال کو دور حاضر کے بیشتر انسانوں کی طرح ایک برا خیال سمجھ کر جھٹک دیا کرتی تھی کہ بھئی میرا اس سے کیا مطلب؟جیسا کہ دورِ حاضر کا المیہ ہے کہ جس کام میں آپ کا خود کا فائدہ یا نقصان نہیں اس میں آپ نے اپنی ٹانگ کیوں اڑانی۔۔! لیکن لاکھ کوششوں کے باوجود بھی میں اس خیال سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی اور سوچا کہ اس پر کچھ قلم کشائی کیوں نہ کی جائے۔۔!
دورِ حاضراور ماضی میں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ آج کل روز مرہ کی زندگی سے زیادہ سوشل میڈیا کو اہمیت دی جاتی ہے، کوئی خوش کن یا افسوسناک واقعہ پیش آ جائے تو آپس میں بیٹھ کر بات کرنے کی بجائے پہلے اس کے بارے میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا جاتا ہے، پہلے ادوار میں جہاں اختلافِ رائے یا بحث کی صورت میں لوگ زیادہ سے زیادہ لڑائی جھکڑایا مار پیٹ پر اتر آتے تھے آج اس لڑائی جھگڑے نے سوشل میڈیا پر کولڈ وار کی صورت اختیار کر لی ہے جہاں مختلف سیاسی، مْلکی اور معاشرتی لشکروں کے سپہ سالار ایک دوسرے سے لفظوں کی جنگ میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ریسٹورانٹس میں جانے سے پہلے یہ سوچا جاتا ہے کہ جب وہاں جا کر “چیک اِن” کیا جائے گا تو لوگ کس حد تک آپ کی “چوائس” سے متاثر ہوں گے۔ پھر کھانے میں کیا کھایا یہ مینیو بھی تصاویر کے ذریعے سوشل میڈیا فرینڈز کو دکھایا جاتا ہے۔ دن میں کچھ حاصل وصول ہو یا نہ ہو، کم از کم ایک مرتبہ اور زیادہ سے زیادہ لامحدود مرتبہ سیلفی لے کر سوشل میڈیا پر لگانا فرض سمجھا جاتاہے۔یہ سب کرتے کرتے انسانوں کی اپنی بیٹری ختم ہو یا نہ ہو لیکن موبائل فون کی بیٹری اکثر آخری مراحل پر آ جاتی ہے اورلو بیٹری کی گھنٹی بجتے ہی کچھ انسانوں کی حالت خراب ہوتے ہوئے بھی دکھائی دیتی ہے جیسے موبائل فون کے بغیر ان کا جینا ممکن ہی نہ ہو سکے گا۔
نشہ سگریٹ، افیم، چرس یا دیگر نشہ آور چیزوں کا تو سْنا تھا لیکن یہ سوشل میڈیا کا نشہ دورِ حاضر کا “لیٹسٹ ٹرینڈ” ہے! اوردلچسپ بات یہ ہے کہ اس نشے کے علاج کے لیے ہمارے ہاں کوئی “ریہیبلیٹیشن سنٹر” بھی موجودنہیں! ہماری نوجوان نسل جو کہ ہمارے ملک کے مستقبل کی معمار ہے ابھی اس بات کافیصلہ کرنے لائق نہیں ہوئی کہ زندگی کا آخر مقصد کیا ہے کہ انٹرنیٹ نامی بلاء کو ان سے متعارف کروا دیا جاتا ہے! اور پھر کیا؟ اچھائی اور برائی کا فرق جانے بغیر ہی وہ اسے اپنی روزمرہ کی زندگی میں ڈھالنا شروع کر دیتے ہیں جس کا کوئی حاصل وصول نہیں۔ سوشل میڈیا ٹرینڈز ان کی زندگی کا معمول بن جاتے ہیں اور ان فضولیات میں پڑ کر وہ اپنی زندگی کا کس قدرقیمتی وقت ضائع کر رہے ہیں یہ انہیں کوئی بھی نہیں سمجھا پاتا یا یوں کہنا بہتر ہو گا کہ وہ اس حقیقت کو سمجھنے لائق ہی نہیں رہتے۔۔!
سوشل میڈیا کو نشے سے تشبیہہ دینے کا میرا مقصدقطاََیہ نہیں کہ یہ ایک بری چیز ہے۔ بلا شبہ گزشتہ برسوں میں سوشل میڈیا کے صحیح استعمال نے اسے انتہائی مْفید سہولت بھی ثابت کیا ہے۔ لیکن میرا مقصد اس بات کی طرف دھیان بٹانا ہے کہ ہمارے معاشرے پر سوشل میڈیا کے مْثبت اثرات کے مقابلے میں منفی اثرات زیادہ دیکھنے میں آئے ہیں۔ مثال کے طور پر فیس بُک کے ذریعے سوشلائز کرنے سے زیادہ شادیاں اور دوستیاں دیکھنے میں آئیں۔سوشل میڈیا پر آنے والے ہر ٹرینڈ کو فرض سمجھ کر فالو کرنا! انسٹاگرام پربے مقصدتصاویر پوسٹ کرنا ، سنیپ چیٹ پر غیر ضروری ویڈیوز لگانا ، فیس بْک پر بغیر جان پہچان کے ہر کسی کو فرینڈ ریکویسٹ’بھیجنا اور اپنی مصنوعی دنیا بنانا (ایسی دنیاجہاں بمشکل کچھ لوگوں سے ہی حقیقت میں ہائے ہیلو ہوتی ہے)بدقسمتی سے ہماری نوجوان نسل کا مشغلہ بن چکا ہے۔ اور ایک اور ضروری چیز جو کہ ” فیلٹر ز” کے نام سے جانی جاتی ہے آج کل کا سب سے لیٹسٹ سوشل میڈیا ٹرینڈ ہے۔ ہر نئے متعارف ہونے والے فیلٹر میں اپنی تصویر پوسٹ کرنا بھی ان کا فرض بن چکا ہے۔
سوشل میڈیا پر ہونے کا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ اگر آپ انتقادی نقطہ نظر رکھتے ہیں تو ٹرینڈز کے ساتھ ساتھ آپ کے سامنے معاشرے کے المیے بھی واضح ہوں گے اور ان پر صد افسوس بھی ہو گا کہ ہائے اس دور میں بسنے والے انسان کا مقصد آخر کیا ہے اور یہ جدوجہد وہ کس منزلِ مقصود پر پہنچنے کے لیے کیے جا رہا ہے؟گزشتہ روز یوں ہی معروف فوٹوگرافی ایپ “انسٹاگرام”کھولنے کا اتفاق ہوا تو دیکھا کہ مختلف لوگ ایک ہی طرح کی تصاویر پوسٹ کر رہے تھے اور اکثر کے نیچے یہ “کیپشن” بھی تھا کہ “کیونکہ یہ لیٹسٹ ٹرینڈ ہے”۔کچھ تگ و دو کے بعد اس بات کا علم ہوا کہ یہ ایک نئی ایپ ہے جس میں ہر کوئی اپنی تصویر دیکھنے کے لیے بے تاب ہے۔ چونکہ میرا آج کل کی جینریشن سکیورٹی میں خاصا جینریشن گیپ تو نہیں مگر سوچ کا ضرورخاصا فرق ہے شاید اسی وجہ سے میرے ضمیر نے مجھ سے ایک سوال کیا کہ اتنے ٹرینڈز روز آتے ہیں لیکن کبھی کوئی ایسا ٹرینڈ نہیں آیا جس میں لوگوں کو کسی کی مدد کرنے یا کسی کی بھلائی کے لیے کچھ کرنے کے لیے کہا گیا ہو؟ کوئی ایسا ٹرینڈ نہیں آیا جس سے خود نمائی کی بجائے کسی دوسرے کا فائدہ ہو سکے! یا یہ کہنا بہتر ہو گا کہ ٹیکنالوجی، خودنمائی اور سوشل میڈیا کے ٹرینڈز تو بے شمار ہیں لیکن ہمارے معاشرے سے انسانیت کا ٹرینڈ ختم ہوتا نظر آتا ہے۔ اس سوال نے مجھے شرمندہ کردیا کہ ہم بہت سے ٹرینڈز نکالتے ہیں، کبھی کراؤن فیلٹر لگا کر اپنی تصاویر پوسٹ کرتے ہیں تو کبھی پریزما فیلٹر لگا کر، لیکن کبھی کسی نے انسانیت کا فیلٹر لگا کر اتنے ہی وقت میں کسی غریب کی مدد یا کسی مصیبت زدہ کی مشکل آسان نہیں کی۔
میرا مقصد سوشل میڈیا پر تنقید کرنا ہر گز نہیں کیونکہ یہ تو ایک سہولت ہے لیکن اس سہولت کا استعمال کس طرح کرنا ہے یہ بہت سے لوگ خصوصاََ ہماری نوجوان نسل کو سیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔کاش کہ کوئی ایسا ٹرینڈ بھی کبھی آئے جس میں بھوکے کو کھانا کھلانا بھی ایک چیلنج ہو، جس میں بیمار کی بیمار پرسی کرنا بھی ایک ٹاسک ہواور ایسے ٹرینڈز کو بھی لوگ اسی طرح سے فالو کریں۔
کاش کہ ایسے ہی چیلنجز ہمارے معاشرے کے ٹرینڈز بن جائیں۔۔!!