Khalid Bhatti

انتخابی اصلاحات کا بل

بالآخر مسلسل کوششوں کے بعد قومی اسمبلی سینٹ نے انتخابی اصلاحات کا بل 2017ء منظور کر لیا ہے۔ اس بل میں کی گئی دو ترامیم ہی ساری توجہ کا مستحق ٹھہریں۔ میڈیا اور تجزیہ نگاروں نے سب سے زیادہ توجہ اس بل کی اس شق اور ترمیم پر دی جس کے تحت سیاسی جماعتوں کے آرڈر 2002ء میں ترمیم کر کے عدالتوں سے نااہل ہونے والے شخص کو سیاسی جماعت کی قیادت کے لئے اہل قرار دیا گیا ہے۔ اسی ترمیم کے تحت سابق وزیر اعظم نواز شریف دوبارہ مسلم لیگ (ن) کے صدر بن گئے۔ یہ کیونکہ ایک بڑی سیاسی پیش رفت تھی اس لئے پہلے تو ساری بحث اس ترمیم پر مرکوز ہو گئی۔ اس کے بعد جب یہ معاملہ سامنے آیا کہ انتخابی اصلاحات بل کے ذریعے ختم نبوت کے الفاظ میں تبدیلی کی گئی ہے تو مذہبی سیاسی جماعتوں اور مذہبی رہنماؤں نے اس مسئلے پر احتجاج شروع کر دیا۔ اس معاملے کی خاصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے فوری طور پر قومی اسمبلی میں ترمیم منظور کروا کر اصل حلف نامہ بحال کر دیا۔ ان دو اہم معاملات کی وجہ سے ابھی تک میڈیا اور ماہرین کی طرف سے انتخابی اصلاحات بل 2017ء پرسیر حاصل بحث اور گفتگو نہیں ہو سکی۔ اس بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ صاف شفاف، آزادانہ ، دھاندلی اور مداخلت سے پاک انتخابات جمہوریت کے لئے اشد ضروری ہیں۔ اگر عام انتخابات صاف شفاف ، آزادانہ اور دھاندلی سے پاک نہ ہوں تو اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والی حکومت تنازعات کا شکار رہتی ہے۔ دھاندلی اور مداخلت کے ذریعے نتائج تبدیل کرنے کے الزامات حکومت کی ساکھ اور اخلاقی برتری پر سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 1988 ء سے لے کر 2013ء تک ہونے والے تمام انتخابات پر دھاندلی اور مداخلت کے الزامات عائد ہوتے رہے۔ ہارنے والوں نے جیتنے والوں پر دھاندلی کا الزام عائد کیا۔ 1977ء کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کر کے شروع ہونے والی حزب اختلاف کی احتجاجی تحریک فوجی مداخلت پر منتج ہوئی تھی۔
2013ء کے انتخابات کو لے کر بھی تحریک انصاف نے 4 ماہ کا طویل دھرنا دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا میکنزم تشکیل دینا نہایت ضروری ہے جس کے تحت صاف شفاف اور آزادانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جا سکے۔ پارلیمنٹ کی مشترکہ انتخابی اصلاحات کمیٹی نے نئے انتخابی قوانین تشکیل دیئے ہیں۔ انتخابی اصلاحات کے تحت آٹھویں انتخابی قوانین کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کو زیادہ آزادی اور خود مختاری دی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کو ہائیکورٹ کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل کے دوران سامنے آنے والی شکایات کے ازالے اور الیکشن عملے کی غفلت یا غیر قانونی عمل کے سامنے آنے کی صورت میں انضباطی کارروائی کے حوالے سے بھی مزید اختیارات تفویض کئے گئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کم از کم 5 فیصد ٹیکٹیں خواتین کو دیں۔ ان اصلاحات کے تحت انتخابی قوانین کو بہتر بنایا گیا ہے تا کہ انتخابات کا عمل زیادہ شفاف ، غیر جانبدارانہ اور آزادانہ ہو۔ ان ترامیم کے نتیجے میں یقیناًالیکشن کمیشن زیادہ طاقتور اور فعال ہو گا۔ اور آزادانہ انتخابات کے حوالے سے زیادہ بہتر کردار ادا کر سکے گا۔
حزب مخالف کی جماعتوں نے اس بل میں 100 ترامیم تجویز کی تھیں جو کہ مسترد کر دی گئیں۔ تحریک انصاف کو اب بھی اس حوالے سے چند تحفظات
ہیں۔ تحریک انصاف کے چار بڑے مطالبے یا تجاویز اس بل کا حصہ نہیں ہیں۔ تحریک انصاف کی خواہش تھی کہ اگلے عام انتخابات میں کاغذ کے بیلٹ پیپر کی بجائے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال ہو۔ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق ملے۔ الیکشن کمیشن کی از سر نو تشکیل کی جائے جبکہ پارلیمنٹ کے ذریعے عبوری حکومت کو منتخب کیا جائے۔یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ ان مطالبات کو لے کر تحریک انصاف کیا لائحہ عمل اور حکمت عملی اختیار کرتی ہے ۔ وہ پارلیمنٹ یا قانونی چارہ جوئی کے ذریعے اپنے مطالبات کو منوائے گی یا پھر ایک مرتبہ پھر سڑکوں کو رونق بخشے گی۔ اگلے چند ماہ میں اس حوالے سے صورتحال واضح ہو جائے گی۔
نئے انتخابی قوانین بڑی سیاسی جماعتوں کے لئے شاید کسی حد تک باعث اطمینان ہوں اور یہ ممکن ہے کہ ان سے انتخابی نتائج پر شکوک و شبہات کم ہو جائیں۔ مگر ان قوانین میں دو اہم مسئلوں کو حل نہیں گیا۔ ایک تو انتخابی سیاست میں دولت اور سرمائے کا بہت زیادہ بڑھتا ہوا اثرورسوخ اور استعمال اور دوسرا ووٹروں کو ڈرانے دھمکانے اور مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ووٹروں پر اثر انداز ہونے کی روایات کا خاتمہ ۔
اگر الیکشن کمیشن اور حکومت کا خیال ہے کہ محض انتخابی اخراجات کی مد میں اضافہ کرنے سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا تو یہ خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ اس وقت عملی صورت حال یہ ہے کہ اشرافیہ نے انتخابی سیاست کو اتنا مہنگا کر دیا ہے کہ عام آدمی تو دور کی بات ہے مگر درمیانے طبقے کے فرد کے لئے بھی انتخابی سیاست کو ناممکن بنا دیا گیا ہے ۔ سرمائے کا بے دریغ استعمال اور ووٹوں کی خریدوفروخت اب معمول بنتا جا رہا ہے۔ اس عمل کو روکنے کی ضرورت ہے ورنہ محنت کش اور غریب عوام کی انتخابی سیاست میں دلچسپی مزید کم ہو جائے گی۔ اسی طرح اس بل میں اس بات پر کوئی قدغن عائد نہیں کی گئی کہ ٹکٹ کے حصول کے لئے سیاسی جماعتوں نے عطیے اور ڈونیشن کے نام پر جو نیا کاروبار شروع کیا ہے اس کی حوصلہ شکنی کی جائے یا سیاسی جماعتوں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ ٹکٹوں کی درخواستوں اور الاٹ منٹ کے نام پر اکٹھے ہونے والے سرمائے کو ظاہر کریں اور اس سرمائے کے استعمال کا تمام ریکارڈ بھی پیش کریں۔ سرمائے کے بڑھتے ہوئے استعمال کو روکے بغیر بھی صاف اور شفاف انتخابات نہیں ہو سکتے ۔اسی طرح یہ انتخابی اصلاحات اس وقت تک ادھوری ہیں جب تک ہاری کھیت مزور ، محنت کش اور خواتین ہر طرح کے جبر ، دھونس اور دباؤ سے آزاد نہیں ہوتے۔ جاگیرداری نظام کی موجودگی میں کسی ہاری ، کھیت مزدور اور بے زمین کسان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اپنا رائے دہی کا حق استعمال کر سکے۔ اسی طرح قبائلی نظام کے خاتمے کے بغیر عام قبائلی محنت کش اور کسان پوری آزادی اور بغیر کسی خوف کے اپنے ووٹ کا حق استعمال نہیں کر سکتا۔ اس سے ملتی جلتی صورتحال خواتین ووٹروں کے حوالے سے ہے۔ زیادہ تر خاندان کے مرد یہ طے کرتے ہیں کہ ان کی خواتین کس کو ووٹ ڈالیں گی۔ جب آبادی کے 48 فیصد حصے کی اکثریت کو اپنی مرضی سے ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہیں تو اس سے جمہوریت کس طرح مضبوط اور توانا ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ حکمران طبقہ نے جان بوجھ کر سیاست کو اتنا گندا اور مکروہ عمل بنا دیا ہے کہ اس میں سرمائے کی مداخلت بہت زیادہ بڑھا کر اسے کاروبار کی شکل دے دی ہے۔ حکمران طبقات نے شعوری کوشش کے ذریعے محنت کشوں، طلباء، کسانوں اور غریب عوام کو سیاست سے نکال باہر کیا ہے۔ ان کا کردار اب صرف ووٹ ڈالنے کی حد تک محدود ہے۔ پاکستان کی موجودہ انتخابی سیاست اور رائج جمہوریت میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ پاکستان کے ہزاروں غریب سیاسی کارکنوں نے جمہوریت کی خاطر جیلیں کاٹیں، ریاستی تشدد برداشت کیا اور کئی نے تو اپنی جانوں تک کا نذرانہ پیش کر دیا مگر جمہوری حکمرانوں نے انہیں مایوس کیا۔
پاکستان کی انتخابی سیاست میں تو پہلے سے ہی جاگیرداروں، قبائلی سرداروں، وڈیروں اور چودھریوں کا غلبہ ہے مگر اب اس میں نئے دولتیے بھی شامل ہو گئے ہیں جو اپنی دولت کے بل بوتے پر سیاست میں وارد ہوتے ہیں اور پھر اسی کے بل بوتے پر ہی پارٹی کے ٹکٹ اور عہدے حاصل کرتے ہیں۔ اس رجحان کا خاتمہ اور حوصلہ شکنی سیاسی قیادت کو کرنی ہے۔ اس حوالے سے محنت کش عوام کو بھی اپنا سیاسی کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہیں سیاست میں متحرک کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی بھرپور شراکت اور عمل دخل کے نتیجے میں ہی اشرافیہ کی جمہوریت کو عوامی یا شراکتی جمہوریت میں تبدیلی کیا جا سکتا ہے۔ سیاحت میں موجود گند اور کثافتوں کو صاف کرنے کے لئے اس میں عوام کی شعوری مداخلت اور شرکت ناگزیر ہے۔ سیاست پر صرف اشرافیہ کا ہی حق نہیں بلکہ پاکستان کے ہر مزدور، کسان ، نوجوان اور غریب فرد کا حق ہے۔ عوام کی شمولیت اور متحرک کردار کے بغیر توانا ، مضبوط اور شراکتی جمہوریت ممکن نہیں۔