hafiz-zohaib-tayyab

امید اور یقین کی راہ دکھانے والا نوجوان

یہ رب کی صفت کریم کا مظہر ہے کہ مایوسی، نا امیدی اورافرا تفری کے دور میں بھی ، امید تقسیم کرنے والوں، ایک اچھی صبح کا طلوع ہونے کا یقین دلانے والوں اور بے جہت و بے ربط معاشرے کو ایک نئی سوچ دینے والوں کو لوگوں میں اپنے حصے کی ڈیوٹی سر انجام دینے کے لئے پیدا کر دیتا ہے ۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ علامہ اقبالؒ و قائد اعظم ؒ کی صورت میں بالخصوص پاکستانی معاشرے میں ایسے لوگ موجود نہ ہوتے تو شاید کبھی پاکستا ن بنا نے کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوتا۔بلکہ پاکستان بننے کے بعد سے اب تک، لوگ جب بھی کسی بڑے مسئلے کا شکار ہوئے، کسی کنفیوژن میں مبتلا ہوئے یا مایوسی و ناامیدی کی بند گلی کے مسافر ٹھہرے، تو واصف علی واصف، اشفاق احمد اور ان جیسے دوسرے لوگوں کی محفل میں بیٹھتے ، ان سے بات کر تے اور دکھ درد سناتے تھے ۔ یہ تما م افراد اپنے پاس آنے والے لوگوں کو امید کی دولت سے مالا مال کر دیتے اور یوں لوگ پھر سے امید کی شاہراہ پر گامزن ہو جاتے تھے ۔ جس کے نتیجے میں معاشرہ ایک طویل بے تر تیبی اور بے ہنگم پن کا شکار نہ ہو پاتا تھا۔لوگ عدم برداشت کے کلچر کو اپنے پیروں تلے روندتے ہوئے ایک دوسرے کی بات کو برداشت کر تے تھے۔ دوسروں کی رائے کو ملحوظ خاطر رکھا جا تا اور محبت، امن اور آشتی کا دور دورہ ہو تا تھا۔
قارئین کرام !نفسا نفسی کے اس پر فتن اور مشکل ترین دور میں بطور ایک صحافی و قلمکار کے جب میں اپنے ارد گرد وقوع ہوتے واقعات کو گہری نظرسے دیکھتا ہوں تو صرف مایوسی ، نا امیدی، اور ڈپریشن کے علاوہ مجھے اور کچھ نظر نہیں آتا اور پھر ایک حساس انسان ہونے کے ناطے ان تمام لعنتوں کی شدت دو گنا ہو کر میرے رستے میں کھڑی ہوتی ہیں ۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پیارے دوست ، استاد اور مرشد قاسم علی شاہ جیسے دانشور کی رفاقت، جسم و روح کو اذ یت میں مبتلا کرنے والی یہ بیماری ،کچھ ہی دیر میں رخصت ہو جاتی ہے ۔
قاسم علی شاہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ واصف علی واصفؒ کے روحانی شاگرد ہیں اور اپنے استاد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امید اور یقین کے لنگر کو تقسیم کر نے میں مصروف عمل ہیں۔بالخصوص دور حاضر کی نوجوان نسل جو نا امیدی اور مایوسی کی گہری دلدل میں دھنسی ہوئی ہے ، ان کے لئے شاہ صاحب کے تربیتی لیکچر و علمی نشستیں مشعل راہ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ہی عرصہ میں عالمی لیول پر ان کے اصلاحی لیکچر وائرل ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں معاشرے پرمثبت نتائج اثر انداز ہو رہے ہیں ۔ نہ صر ف نوجوانوں بلکہ معاشرے کے ہر طبقے بشمول ڈاکٹرز، انجینئرز، پولیس ملازمین، فوجی، استاد، بیوروکریٹ ، سرکاری ملازم ، کے لئے ان کی گفتگو، کچھ کرنے پر اکساتی ہے اور یوں ہر شخص اپنے تئیں اپنے حصے کا چراغ روشن کرتے ہوئے پاکستان کو عظیم سے عظیم تر بنا نے میں لگ جا تا ہے اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ بظاہر بنجر نظر آنے والے اس معاشرے میں ایک کثیر تعداد قاسم علی شاہ کے لیکچرز کی بدولت ،اندر ہی اندر مثبت تبدیلی کی کوششوں میں مصروف ہے اور وہ وقت دور نہیں جب بقول علامہ اقبال : ؂ ’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی‘‘کے مصداق اس مٹی سے امید اور یقین کے وہ تن آور و مضبوط شجر، زمین کا سینہ چاک کر کے ہر جانب خوشحالی اور ترقی کا پیغام دیں گے۔مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے کہ پاکستان کے سر کاری اداروں میں بھی ٹریننگ اینڈ ڈوپلمنٹ کا کام باقاعدگی سے ہو رہا ہے اور اس کے لئے شاہ صاحب کی خدما ت حاصل کی جاتی ہیں اور یہ مفاد عامہ اور مفاد وطن کے لئے اپنی خدمات بالکل مفت سر انجام دیتے ہیں۔ مجھے اگلے روز کچھ پولیس افسر بتا رہے تھے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے بھی ہمیں یہ ہدایات موصول ہو ئی ہیں کہ شاہ صاحب کے لیکچر زتما م پو لیس لائنز اور دفاتر میں سنائے جائیں ۔ جب ہم نے یہ سلسلہ شروع کیا تو پولیس ملازمین کے روئیوں میں جومثبت تبدیلی کچھ ہی دنوں میں دیکھنے کو ملی وہ ناقابل یقین ہے ۔ تھانوں میں تعینات محرر اور باقی عملے کو کرائی گئی ٹر یننگ کے بعد عام شہریوں کے ساتھ ان کا رویہ قابل دید ہے ۔
قارئین کرام !شاہ صاحب کے بقول :’’پاکستان کو عدم برداشت کے ساتھ شدت پسندی جیسی لعنتوں کا سامنا ہے اور لا علمی شدت پسندی کے رو ئیے کو جنم دیتی ہے ۔ اس وقت شدت پسندی کی جو سب سے بڑی وجہ ہے وہ لوگوں کی لا علمی ہے ۔لوگوں کے روئیے اس طرف جاتے ہی تب ہیں جب وہ علم اور علم والوں کی دوستی میں نہیں ہوتے ۔علم اور علم والے کی دوستی انسان کو مثبت جانب لے جاتی ہے ‘‘۔ انہوں نے تو چند الفاظ میں پاکستانی معاشرے کی تباہی و بر بادی اور اس سے نکلنے کا حل بتا دیا ہے بلکہ خود بھی اپنے حصہ ڈال رہے ہیں۔ ضرورت اس ا مر کی ہے کہ ارباب اختیار اور معاشرے کے طاقتور لوگ اس جانب توجہ دیتے ہوئے علمی و اصلاحی بیٹھکوں کا انتظام کریں ۔ جسکے نتیجے میں معاشرے سے شدت پسندی کا خاتمہ ہوکر معاشرہ امن، سکون اور محبت کا گہوارہ بن سکتا ہے اور دور حاضر میں قاسم علی شاہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ امید اور یقین کی راہ دکھانے پر معمور ہوتے ہیں ۔کیونکہ یہ رب کی صفت کریم کا مظہر ہے کہ مایوسی، نا امیدی اورافرا تفری کے دور میں بھی ، امید تقسیم کرنے والوں، ایک اچھی صبح کا طلوع ہونے کا یقین دلانے والوں اور بے جہت و بے ربط معاشرے کو ایک نئی سوچ دینے والوں کو لوگوں میں اپنے حصے کی ڈیوٹی سر انجام دینے کے لئے پیدا کر دیتا ہے۔