Atta ur Rehman copy

امریکی چیلنج اور اس کا جواب

سوموار 4دسمبر کو امریکہ کے وزیر دفاع جنرل (ر) جیمس میٹس (جنہیں ان کے دوست و احباب سخت گیر دفاعی و فوجی مؤقف رکھنے کی وجہ سے ’پاگل کتا‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔۔۔ وہ اس کا برا نہیں مانتے۔۔۔ فخر کے ساتھ اپنے اس ’’وصف ‘‘ کو بیان کرتے ہیں) ایک روزہ دورے پر اسلام آباد آئے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر خارجہ، وزیر دفاع، وزیر امور داخلہ، سیکرٹری خارجہ، مشیر قومی سلامتی اور ڈی جی آئی ایس آئی پر مشتمل اعلیٰ سطحی حکومتی افراد کے ساتھ ملاقات کی۔۔۔ افغانستان کے مسئلے پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔۔۔ امریکی وزیر دفاع کے وفد میں شامل ان کے ساتھ آنے والے فوجی حکام کے علاوہ پاکستان میں امریکہ کے سفیر ڈیوڈ ہیلی شامل تھے۔۔۔ اس کے بعد امریکی مہمان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ علیحدہ ملاقات کی۔۔۔ جس میں جیسا کہ خبروں سے مترشح ہوتا ہے دونوں جانب سے کوئی تیسری شخصیت شامل نہ تھی۔۔۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا علیحدگی میں اس ملاقات کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ جنرل باجوہ وزیراعظم کے وفد میں کیوں شامل نہیں تھے۔۔۔ اور امریکی وزیر دفاع نے بھی وزیراعظم پاکستان ان کی کابینہ کے سینئر ترین ارکان، مشیر امور سلامتی اور خفیہ کاری کی ہماری سب سے بڑی ایجنسی کے سربراہ کے ساتھ بات چیت کے بعد پاکستان کے فوجی سربراہ کے ساتھ ون ٹو ون ملاقات کو کیوں اہمیت دی۔۔۔ کیا دونوں مقتدر شخصیتوں کے درمیان کسی راز کی بات کا تبادلہ ہونا تھا۔۔۔ اگلے روز منگل 5 دسمبر کو جی ایچ کیو راولپنڈی کے اندر کور کمانڈرز اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف نے اپنے فوجی ساتھیوں کو امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی تفصیل سے آگاہ کیا۔۔۔ لیکن اس مسئلے پر کیا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان بھی کوئی ملاقات ہوئی جس میں دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ نوٹس کا تبادلہ کیا ہو۔۔۔ اس کے بارے میں خبروں سے کچھ معلوم نہیں ہو پایا۔۔۔ پاکستان کے اندر دفاعی اور سٹریٹجک امور پر فوجی قیادت کو سویلین حکومت پر جو بالادستی حاصل رہی ہے اور امریکی بھی 1953ء سے لے کر آج تک جی ایچ کیو اور پینٹاگون کے درمیان براہ راست طے پانے والے معاملات پر انحصار کرتے رہے ہیں اس کے تناظر میں یہ بات زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی مذاکرات میں اگر کوئی مفاہمت طے پاتی ہے۔ وہ کیا اور کس کس کے درمیان ہو گی اور اگر آئندہ کی حکمت عملی کے بارے میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا تو اس میں پاکستان کی جانب سے فیصلہ کن کردار کس کا تھا۔۔۔ کیا سویلین اور منتخب حکومت کو جو نواز شریف کی برطرفی کے بعد جتنی کچھ حیثیت کی مالک رہ گئی ہے اسے ہر سویلین حکومت کی مانند ثانوی حیثیت حاصل تھی۔۔۔ آرمی چیف نے ملاقات سے اگلے روز کور کمانڈر کے اجلاس میں اپنے ساتھیوں کو اعتماد میں لیا۔۔۔ کیا وزیراعظم بھی اس مسئلے پر اگر قومی اسمبلی یاپارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس میں نہیں کم از کم پارلیمنٹ کی مشترکہ دفاعی کمیٹی کے سامنے تمام تفصیلات رکھ دیں گے اور کیا محترم آرمی چیف نے جس طرح کور کمانڈرز کو اپنی ملاقات کے بنیادی نکات کے بارے میں آگاہ کیا اسی طرح وہ پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کو جو بہر صورت عوام کا منتخب جمہوری ادارہ ہے ون ٹو ون مذاکرات کے بارے میں براہ راست آ گہی فراہم کرنا پسند کریں گے۔۔۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک کے داخلی امور میں اس حد تک دسترس حاصل کر لی ہے کہ فیض آباد کے دھرنے کا تنازع طے کرنے میں کھل کر اپنے عہدے کا اثر و رسوخ استعمال کیا۔۔۔ اس ضمن میں طے پانے والی دستاویز میں ان کا کھلے الفاظ میں شکریہ بھی ادا کیا گیا تو ظاہر ہے سٹرٹیجک اور دفاعی معاملات پر جن میں ان کے منصب دار اور ادارے کو ہمیشہ سے بالادستی حاصل رہی ہے، ان کی حتمی گرفت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ کیا بہتر نہ ہو گا کہ جنرل صاحب امریکی وزیر دفاع کے ساتھ ہونے والی اپنی خصوصی ملاقات کے بارے میں قوم کے نمائندہ ادارے کو پوری طرح آگاہ کریں اور بتائیں کہ اگر امریکی مہمان کے ساتھ آئندہ کی افغان پالیسی کے حوالے سے کوئی اتفاق ہوا ہے تو کس نکتے پر اور اگر ابھی تک عدم اتفاق کی صورت حال ہے تو اس ضمن میں امریکی اقدامات کے مقابلے میں ہماری پالیسی کیا ہو گی۔
سوموار کے دن امریکی وزیر دفاع کے ساتھ ہونے
والی ملاقات کے بعد وزیراعظم ہاؤس، فوج کے ترجمان ادارے ’آئی ایس پی آر‘ اور امریکی سفارت خانے سے علیحدہ علیحدہ بیانات جاری ہوئے ہیں۔۔۔ وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے بتایا گیا امریکی وزیر دفاع پر واضح کر دیا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی محفوظ ٹھکانا نہیں۔۔۔ اور یہ کہ دونوں ممالک کے مابین تعاون بڑھانے اور اشتراک عمل کو مستحکم بنانے کے لیے وسیع البنیاد مشاورت کی ضرورت ہے۔۔۔ ’آئی ایس پی آر‘ کے بیان کے مطابق آرمی چیف نے امریکی وزیر دفاع کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے بہت سی مشکلات کے باوجود اپنے حصے سے بڑھ کر کردار ادا کیا ہے یہ کہ وہ ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے خطے میں قیام عمل کے لیے پر عزم ہے نیز انہوں نے افغان علاقے میں دہشت گرد ٹھکانوں کی موجودگی پر اپنی تشویش سے بھی آگاہ کیا۔۔۔ تیسری جانب امریکی سفارت خانے نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ جنرل (ر) جیمس میٹس نے پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کوششوں کو دگنا کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ان کے دورے کا مقصد پاکستان کے ساتھ دیرپا، مثبت اور مستقل تعلقات کے لیے مشترکہ بنیادیں تلاش کرنا ہے۔ یہ مشترکہ بنیادیں کیا ہو سکتی ہیں اور امریکی وزیر دفاع نے خاص طور پر جو یہ کیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے اندر قیام امن میں مدد دینے کی خاطر اپنی مساعی کو دگنا کر دے۔۔۔ عملی زبان میں امریکہ کے نزدیک دگنا کرنے کا کیا مطلب ہے۔۔۔ اسے ہماری جانب سے مزید کس قسم کی مساعی درکار ہیں۔۔۔ اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں کچھ محفوظ ٹھکانے باقی رہ گئے ہیں، انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے تو پاکستان کی جانب سے یہاں تک پیش کش کی گئی امریکی ان ٹھکانوں کی نشاندہی کرے ہم خود ان کے خلاف اقدام کریں گے۔۔۔ اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔۔۔ تو پھر دگنی کوششوں سے امریکہ کی کیا مراد ہے ۔۔۔ امریکی سفارت خانے کے بیان میں اس بارے میں وضاحت کے ساتھ کچھ نہیں بتایا گیا۔۔۔ ممکن ہے امریکی مہمان نے آف دی ریکارڈ کوئی مطالبہ کیا ہو۔۔۔ وہ کیا ہو سکتا ہے۔۔۔ وزیراعظم ہاؤس اور ’آئی ایس پی آر‘ دونوں اس بارے میں خاموش ہیں۔۔۔ امریکی متعین طور پر کیا چاہتے ہیں۔۔۔ پاکستان کی حکومت یا فوج انہیں مطمئن کرنے کی خاطر کیا کرے تاکہ ان کا وہ غصہ جس کا صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 21 اگست کی دھمکی آمیز تقریر میں اظہار کیا تھا دور کیا جا سکے۔۔۔ امریکی وزیر دفاع کی اسلام آباد آمد سے فوراً پہلے ’سی آئی اے‘ کے موجودہ سربراہ مائیک پمپو نے اپنے صدر کی دھمکی کو ان الفاظ میں دہرایا کہ اگر پاکستان نے ہمارا مطالبہ نہ مانا تو اس ملک سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے لیے جو اقدامات مناسب سمجھیں کرتے رہیں گے۔۔۔ حقیقی لفظوں اور عملی زبان میں وہ مطالبہ کیا ہے۔۔۔ امریکی زعماء کے بیانات اور وہاں کے ثقہ اخبارات کا عمیق مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے امریکی چاہتے ہیں۔۔۔ وہ افغان طالبان کے خلاف آئندہ جو بھی فوجی کارروائی کریں پاکستان کی فوج بھی ان میں واحد سپر طاقت کی مددگار بن جائے۔۔۔ یعنی جو جنگ امریکہ اور اس کے 34 نیٹو اتحادی ممالک کی فوج سولہ برس کے اندر مل کر نہیں کر سکی۔۔۔ وہ معجزہ پاکستان کی فوج اور حکومت ان کی خاطر کر دکھائے۔۔۔ ان کی سوچ یہ ہے کہ پاکستان گزرے ہوئے ماضی کے اندر خطے کی جنگوں میں ہمیشہ ان کا اتحادی رہا ہے اب بھی وہ یہ کردار سنبھال لے۔۔۔ امریکیوں کا منصوبہ ہے پہلے پاکستان کی فوج کی خدمات کو بروئے کار لاتے ہوئے افغان طالبان کی (جو اپنے ملک کے 40 فیصد سے زائد حصہ پر غالب ہیں) طاقت کو ختم کر کے رکھ دیا جائے۔۔۔ جو بچ کچھ جائیں اور ان کی حیثیت قطعی کمزور ہو جائے اس حالت میں ان سے مذاکرات کر لیے جائیں۔۔۔ مستقبل کی افغان انتظامیہ میں تھوڑا بہت حصہ دے دیا جائے۔۔۔ کیا یہ ممکن ہو گا۔۔۔ پاکستان کی ریاست یا فوج اس نوعیت کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہو جائے گی اور خطے کے اندر جاری امریکی جنگ کی آگ میں ایک مرتبہ پھر کود جانے کے لیے آمادہ ہو جائے گی۔۔۔ تاکہ امریکہ کا عتاب ہم پر نازل نہ ہونے پائے۔۔۔ یہ ہے وہ اہم تر سوال جو اس وقت پاکستان کے حکمرانوں کو در پیش ہے۔۔۔ کور کمانڈر کانفرنس میں اس حوالے سے کوئی پالیسی وضع کی گئی ہے یا نہیں۔۔۔ قوم کو اس بارے میں علم نہیں۔۔۔ امریکی وزیر دفاع نے لالچ و ترغیب بھی دی ہے کہ پاکستان نے ان کے مطالبے کو تسلیم کر لیا تو بہت سے فوائد حاصل کر پائے گا۔۔۔ لیکن امریکی نکات پر عمل درآمد کی صورت میں پاکستان کے لیے جو سٹریٹجک خطرات پوشیدہ ہیں ان کا سدباب کیسے ہو گا اور ہم افغان طالبان کی طاقت کو ختم کر کے رکھ دینے میں مددگار بن کر کیا ملک افغاناں کو عملاً بھارتی اثر و رسوخ میں نہ دے دیں گے۔۔۔ اور یہ کہ کیا پاکستان ایسی پالیسی کے نتائج و مضمرات کا متحمل ہو سکتا ہے جبکہ بھارت پہلے ہی افغانستان کے اندر اپنے خفیہ ٹھکانوں کے ذریعے بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخوا کے اندر دہشت گردانہ کارروائیوں کو فروغ دے رہا ہے۔
تو عملی زبان میں پاکستان کا امریکہ کو کیا جواب ہو گا اور اس کی دھمکیوں کو کیسے بے اثر بنا کر رکھا جا سکتا ہے۔۔۔ روزنامہ ڈان مؤرخہ 6 دسمبر کے شمارے میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق آرمی چیف نے کور کمانڈرز کے اجلاس میں اپنے مؤقف کے اندر لچک کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہم اپنے ملک کی سرزمین سے دہشت گردوں کے تمام ٹھکانے تباہ کر دینے کے باوجود وہ ان ایسے عناصر کی سرکوبی کے لیے تیار ہیں۔۔۔ جو پاکستان کے جذبہ مہمانداری سے ناجائز فائدہ اٹھا کر افغانستان کے اندر تخریبی کارروائیاں کرتے ہیں۔۔۔ تاکہ امریکی شکایات کو دور کیا جا سکے۔۔۔ اگر پاکستان امریکیوں کو مطمئن کرنے کے لیے مزید کسی قسم کی سخت کارروائی کرنے کے لیے تیار ہو گیا ہے تو اس کی متعین شکل کیا ہو گی۔۔۔ کیا ہم افغانستان کے اندر داخل ہو کر امریکی جنگ میں حصہ دار بنیں گے۔۔۔ عملاً پاکستان کے لیے ایسا کرنا ممکن نہ ہو گا۔۔۔ نہ ہمارا کوئی ادارہ اس کے لیے آمادگی ظاہر کر سکتا ہے۔۔۔ تو کیا ہم اپنی سرحد پر وہاں سے بھاگ کر آنے والوں کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کریں گے۔۔۔ پاکستان پہلے ہی اس کی روک تھام کے لیے بہت کچھ کر رہا ہے۔۔۔ بارڈر پر خار دار تار بھی لگا رہا ہے اور ہماری فوج بھی چوکنا ہے۔۔۔ تو پھر امریکیوں کی شکایات کو کس طرح دور کیا جا سکتا ہے۔۔۔ کیا ہمارے یہاں واقعی کوئی ایسے ٹھکانے رہ گئے ہیں جنہیں امریکیوں کی خاطر تباہ کر دیا جائے گا تو وہ کن مقامات پر اور کون سے ہیں۔۔۔ یہ سب وہ سوالات ہیں جن کا جواب قوم اپنی منتخب پارلیمنٹ کے ذریعے اصل حکمرانوں سے جاننا چاہتی ہے تاکہ پوری طرح متحد اور یکسو ہو کر مؤثر طریقے سے امریکی چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکے۔