Sajid Hussain Malik

امریکہ کیا چاہتا ہے۔۔۔؟

ایسوسی ایٹڈ فرانس پریس (اے ایف پی) کی ایک رپورٹ پاکستانی اخبارات میں شہ سرخیوں سے چھپی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس مہینے کے اختتام تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ سفارتی اور فوجی مشیر پاکستان کا دورہ کریں گے۔ پہلے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن پاکستان آئیں گے اس کے بعد امریکی وزیر دفاع جم میٹس پاکستان پہنچیں گے۔ دونوں اعلیٰ امریکی عہدیدار پاکستان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت پیغام پہنچائیں گے جس میں پاکستان سے مسلح تنظیموں کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان پر الزامات کے بعد ان دونوں رہنماؤں کو بھیجنے کا مقصد پاکستان کو امریکی صدر کا یہ پیغام پہنچانا ہے کہ پاکستانی ریاست کی جانب سے جہادی گروپوں کے لیے حمایت کو ختم ہو جانا چاہیے۔ امریکی حکومت کا عرصے سے پاکستان پرالزام ہے کہ وہ اپنے قبائلی علاقوں میں جہادی گروپوں کو تعاون فراہم کرتا ہے جو سرحد پار افغانستان میں حملے کر کے امریکی مفادات کو نقصانات پہنچاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ نے اسی تناظر میں پاکستان کے لیے زیادہ جارحانہ انداز اپنایا ہے ۔ اگست میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی حکومت پاکستان کو لاکھوں ڈالرز امداد دے رہی ہے لیکن جواب میں پاکستان ایسے دہشت گردوں کو تعاون فراہم کر رہا ہے جن سے امریکی حکومت لڑ رہی ہے۔
اے ایف پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھ ہفتے قبل کی سخت بیان بازی کے بعد امریکی مؤقف میں اب کچھ لچک پیدا ہوئی ہے۔امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے پچھلے ہفتے کانگریس کو بتایا کہ پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کی ایک اور کوشش کی جائے گی اور یہ پرکھا جائے گا کہ پاکستان کے ساتھ مل کر کام کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ رپورٹ میں سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ عوامی سطح پر سخت لہجہ اختیار کرنے کے بعد امریکی حکام سے نجی ملاقاتوں میں پاکستانی حکام نے یہ شکایت بھی کی کہ حقانی نیٹ ورک یا دیگر جنگجو گروپوں کے خلاف کارروائی کے لیے امریکہ نے کوئی ٹھوس درخواست نہیں کی۔ پاکستانی حکام نے ٹرمپ انتظامیہ کے مختلف طرح کے پیغامات کے بارے میں بھی شکایت کی ہے جسے ایک غیر مستقل مزاج سربراہ کی وجہ سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں شکایت کا سامنا ہے۔ ٹرمپ کے تندو تیز بیانات کے باوجود گزشتہ ماہ نیو یارک میں امریکی نائب صدر مائیک پینس اور پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے درمیان ہونے والی ملاقات خوشگوار رہی۔ پاکستانی حکام کے نزدیک اس ملاقات کے بعد عوامی سطح پر جم میٹس اور نجی ملاقات میں ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل میک ماسٹر کی جانب سے سخت رویہ اختیار کرنا تعجب انگیز ہے۔ رپورٹ میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ایک ماہر کے تجزیے کا حوالہ دیا گیا ہے جس کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت جو کچھ کر رہا ہے اُس سے ہٹ کروانے کے لیے ضروری ہے کہ اُس کی جانب سے دھوکہ دینے کی پالیسی کو اُجاگرہی نہ کیا جائے بلکہ اُسے مؤثر سزا دی جائے۔
اے ایف پی کی رپورٹ میں بلا شبہ امریکا کی طرف سے پاکستان کے لیے سخت پیغامات یا ایک طرح کی
دھمکیوں کاذکر آیا ہے۔ یہ دھمکیاں یا پیغامات پاکستان کے لیے کوئی نئی بات نہیں لیکن لگتا ہے کہ اب کی بار امریکی ہم سے کچھ زیادہ ہی کرنے Do More کا مطالبہ کررہے ہیں۔ امریکی کیا چاہتے ہیں اس کا تذکرہ اے ایف پی کی رپورٹ میں موجود ہے امریکی کافی عرصے سے پاکستان سے یہ مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں کہ پاکستان مسلح گروپوں (جہادی تنظیموں) کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ اس ضمن میں انہیں افغانستان میں سر گرم حقانی گروپ سے زیادہ لینادینا ہے۔اُن کاخیال ہے کہ حقانی گروپ کو پاکستان بالخصوص پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی درپردہ حمایت حاصل ہے۔اسی طرح امریکہ کے نزدیک افغان طالبان کے بعض گروپوں کے سہولت کار اور مدد گار ہی پاکستان میں موجود نہیں ہیں بلکہ اُن کی خفیہ پناہ گاہیں بھی پاکستان میں موجود ہیں۔ جہاں وہ افغانستان میں امریکی افواج اور افغان حکومت کے خلاف کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ امریکی حافظ محمد سعید کی جماعت الدعوۃ کے عسکری ونگ لشکرِ طیبہ اور مولانا اظہر مسعود کے جیشِ محمد کے خلاف بھی پاکستان کی طر ف سے سخت کارروائیاں کرنے کے مطالبے کرتے رہتے ہیں۔امریکیوں کو لشکرِ طیبہ یا جیشِ محمد سے براہِ راست کچھ لینا دینانہیں ۔ ان تنظیموں کے خلاف جنہیں پاکستان نے پہلے ہی کالعدم قرار دے رکھا ہے اور جن کی ہر طرح کی سر گرمیوں پر پاکستان میں پابندی ہے۔ امریکہ اس لیے کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس طرح پاکستان کو دباؤ کا شکار کر کے بھارت کو خوش کرنا چاہتا ہے لیکن امریکہ کو سوچنا چاہیے کہ بھارت کا پاکستان سے معاملہ اپنا ہے۔ وہ پاکستان پر لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد جیسی تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا رہتا ہے لیکن امریکی اعلیٰ عہدیدار (وزرائے خارجہ و دفاع) اپنے دوروں کے دوران پاکستان کو بھارت کی خوشنودی کے لیے اس طرح کے کسی مطالبے کو ماننے پر مجبور کرتے ہیں تو پاکستان کے لیے ایسا مطالبہ یقیناًقابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔امریکیوں کوسمجھنا چاہیے کہ بھارت اگر پاکستان پر دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے یا دہشت گردوں کی مدد کرنے کے الزامات عائد کرتا ہے تو وہ خود پاکستان کے بعض علاقوں بالخصوص بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو منظم کرنے اور علیحدگی پسندوں کی مدد اور معاونت کرنے میں بُری طرح ملوث ہے۔ اس کے ساتھ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ساتھ نہتے کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے ۔ آئے روز بے گناہ کشمیریوں کی شہادتیں اور اُن کے احتجاجی جلسے ، جلوس اور ہڑتالیں، کون ان سے انکار کرسکتا ہے۔ امریکیوں کو پاکستان سے مطالبات کرتے ہوئے اس صورت حال کو سامنے رکھنا چاہیے اور اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ پاکستان نے لشکرِ طیبہ ، جیش محمد، لشکر جھنگوی ، حزب التحریر اور انصار الشریعہ جیسی تنظیموں اورجہادی گروپوں کوپہلے ہی خلافِ قانون اور کالعدم قرار دے رکھا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کی پالیسی بڑی واضح ہے کہ غیر ریاستی عناصر قطعاً اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ وہ اپنے طور پر کسی ایسی سرگرمی یا منصوبہ بندی میں ملوث ہوں جس سے انتہا پسندی کو فروغ ملے یا وہ منصوبہ بندی اور سرگرمی کسی دوسری ریاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہو۔اگلے دن وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری احسن اقبال نے بڑے واضح الفاظ میں پاکستان کی اس پالیسی کا اعادہ کیا ہے کہ کسی تنظیم یا گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ جہاد کے فتوے جاری کرے۔جہاد کا اعلان کرنا صرف ریاست کا حق ہے۔ کیا وفاقی وزیر داخلہ کے اس دو ٹوک اعلان کے بعد یہ بات واضح نہیں ہو جاتی کہ پاکستان کی ریاست غیر ریاستی عناصر کی کسی طرح کی جہادی یا اس سے ملتی جلتی سرگرمیوں کو منظم کرنے یا جاری رکھنے کے حق میں نہیں ہے۔
امریکہ کو پاکستان سے Do More کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کی فہرست بہت طویل ہے ۔پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بطورِ فرنٹ لائن سٹیٹ جو جانی اور مالی قربانیاں اور معاشی اور انفرا سٹریکچر کی تباہی کے نقصانات برداشت کرنے پڑے ہیں دُنیا کا کوئی اور ملک اس کی مثال پیش نہیں کرسکتا۔ وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے اگلے دن ایک ٹی وی انٹرویو میں پاکستان کی قربانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے درست کہا ہے کہ پاکستان کے دو لاکھ سے زائد فوجی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں اور پاکستان ہزاروں کی تعداد میں سویلین اور فوجیوں کی قربانی بھی دے چکا ہے۔اب اس صورت حال میں امریکیوں کی طرف سے پاکستان کو سخت پیغام دینا یا Do More کے تقاضے کرنا بڑی عجیب سے بات ہے۔امریکی بڑے سمجھدار ہیں اور اُن کے کئی تھنک ٹینک مختلف معاملات و مسائل اور امور (Matters and Issues ) کے بارے میں تجاویز دینے اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ انہیں اتنی سی بات ضرورسمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کرسکتا۔ پاکستان کی ریاست اپنے قومی مفادات اور اپنے عوام کے مذہبی احساسات و جذبات سے ہٹ کر اور ایک حد سے آگے بڑھ کر کچھ بھی فیصلے نہیں کرسکتی ہے۔ اسی طرح امریکہ اس حقیقت سے بھی یقیناًآگاہ ہے کہ پاک افغان سرحد کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں یا اُن سے ملحقہ سرحدی اور قبائلی علاقوں میں اگر کوئی مسلح گروہ اپنے آپ کو منظم کرکے افغانستان کے اندر یا پاکستان کے اندر کارروائیاں کرتے ہیں تو اُن کا روکنا یا مکمل طور پر اُن کاسدِ باب کرنا اتنا آسان نہیں۔ امریکہ کو یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ امریکہ خود پچھلے پندرہ سولہ برسوں میں افغانستان میں بے پناہ فوجی وسائل اور اسلحے کے ڈھیر جھونکنے کے باوجود ابھی تک کامیابی سے دور ہے تو پاکستان جو اسلحے اور فوجی لحاظ سے امریکہ سے بہت پیچھے ہے وہ اس ضمن میں اس سے بڑھ کر اور کیا کر سکتا ہے ۔
امریکی اعلیٰ عہدیدار پاکستان کے دورے پر آ کر پاکستان سے Do More کامطالبہ ضرورکریں لیکن وہ اتنا واضح کریں کہ وہ پاکستان سے اور کیا چاہتے ہیں؟پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکہ کے اپنے حالیہ دورے میں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن اور امریکی صدر کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل میک ماسٹر سے اپنی ملاقاتوں اورمیڈیا کے نمائندوں سے اپنی گفتگو اور انٹرویوز میں پاکستان کے مؤقف کو بڑے جامع اور واضح انداز میں پیش کیا ہے اور خطے میں امن کی راہ میں رکاوٹ بننے والے عوامل کی نشاندہی بھی کی ہے۔ امریکیوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان سے معاملات کرتے ہوئے ان باتوں کو بھی پیش نظر رکھیں۔