prof-yousaf-irfan-khann-cop

امریکہ کو جلدی کیوں؟

حملہ آور امریکہ و اتحادی ممالک کو پاکستان کو دبوچ کر زیر اور ڈھیر کرنے کی جلدی پڑی ہے۔ اس جلدی کی کئی وجوہات ہیں۔ اب امریکہ پاکستان کو زیر و زبر یا خاکم بدہن شکست و ریخت سے دو چار نہ کر سکا تو مستقبل میں امریکی عالمی بالادستی (New world order) کا خواب امریکہ کو ریاستی شکست وریخت کا شکار کر دے گا۔ امریکی بالادستی روس، برطانیہ اور فرانسیسی استعمار سے زیادہ کمزور ہے کیونکہ امریکہ ایک قوم نہیں بلکہ قوموں کا مجموعہ ہے۔ امریکی آئین سازی کے وقت لفظ امریکی قوم استعمال کرنے کی مخالفت کی گئی اور متفقہ طور پر ’’ریاستہائے متحدہ امریکہ‘‘ USA رکھا گیا۔ بھارتی آئین سازی کے وقت، بھارتی آئین ساز وزیر قانون ڈاکٹر امبیدکرنے بھارتی ریاستی و قومیتی حقائق کو مدنظر رکھ کر تجویز دی تھی کہ بھارت ایک قوم نہیں یہ مختلف بلکہ متضاد قوموں کا مجموعہ ہے لہٰذا بھارت کی آئینی شناخت اور نام ’’ریاستہائے متحدہ انڈیا‘‘ USI رکھا جائے۔ ہندو برہمن نے ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کی جناتی یوٹو پیا کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر اس میں USI کے لفظ سے اجتناب کیا۔
ڈاکٹر امبید کر نے تجویز رد ہونے کی صورت میں ہندو بالخصوص کانگرس قیادت کو تنبیہ کی اگر بھارت کی سیکولر پالیسی اور جمہوری نظام پر نیک نیتی سے عمل نہ ہوا اور بھارت میں ہندو انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خیالی رام راج کی کوشش کی گئی تو بھارت کئی خود مختار اور آزاد ریاستوں USI کی تصویر پیش کرے گا اور بھارت کو ماضی کی طرح ریاستی شکست و ریخت کا سامنا ہو گا لہٰذا اگر بھارت میں ہندو ذات پات اور دھرمی اونچ نیچ کا خاتمہ کر کے انسانی مساوات کا اصول نہ اپنایا گیا تو بھارت کے مستقبل کا مذہب اسلام ہو گا جس کی روح بلالی ہندوستانی باشندوں میں انتہائی مقبول اور دلکش ہے۔ رہا معاملہ USSR اور UK کا تویہ بھی ریاستہائے متحدہ کا عکاس ہے جبکہ اسرائیل ایک نسلی مذہبی ریاست ہے جو مسلمانوں کی سرزمین بلکہ اہم ترین مذہبی مقامات کو دبوچ کر توسیع اور استعمار کی پالیسی پر گامزن ہے۔ یاد رہے کہ خطے میں حملہ اور امریکہ و اتحادی قوتوں کی شکل میں اسرائیل یعنی عالمی صہیونی ساہو کار حملہ آور اور سرمایہ کار Invader + Invester ہے۔ پاکستان کا قیام دینی اخوت اور وحدت پر قائم ہے گو امریکہ پاکستان کے نظریاتی اور انتظامی بندوبست کے لیے USP ریاستہائے متحدہ پاکستان بنانا چاہتا ہے۔
امریکہ انڈیا اوراسرائیل کی جلد بازی میں دو پہلو نمایاں ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ سی پیک (عالمی تجارتی راہداری) پر زیادہ اثر و رسوخ کس کا ہو گا؟ وزیراعظم نوا زشریف نے سی پیک کی تعمیر ، تکمیل اور استعمال کے لیے چین کو ترجیح دی ہے جس کے باعث امریکہ، انڈیا اور اسرائیل کے عالمی تجارتی اہداف، احزاب اور اداروں کو چین کی نسبت کم فائدہ پہنچے گا جبکہ چینی مصنوعات نے پہلے ہی عالمی منڈی میں امریکہ، یورپ ، آسٹریلیا انڈیا وغیرہ میں یہودی بین الاقوامی کمپنیوں International Multinatonal Companies کو مات دے رکھی ہے۔ اب اگر چین اور پاکستان کی تجارتی دوستی عملی شکل اختیار کرتی ہے تو دنیا کا نظام ایک نئے مضبوط اور منظم معاشی بلاک کے زیر اثر چلا جائے گا۔ عالمی یہودی بلکہ متحدہ عالمی ہندو و یہود اور صلیبی قوتوں کو ابھرتاہوا پاک چین بلاک ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ امریکہ کا خیال ہے کہ اگر اس ابھرتے ہوئے بلاک کو فوری طور پر ختم نہ کیا گیا تو یہ ایک تناور درخت بلکہ چٹان بن کر مذکورہ حملہ آور قوتوں کے سامنے کھڑا ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاک چین کے ابھرتے ہوئے بلاک نے صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ دنیا کا منظر اور سیادت بدل کر رکھ دینی ہے۔ مذکورہ پاک چین تجارتی بلاک کے فوری فوائد اور نتائج درج ذیل ہیں: (1) امریکہ کے واحد سپر پاور ہونے کا احساس ختم ہو جائے گا۔ (2) چین معاشی قوت ہے، پاکستان فوجی، نظریاتی اور وسائلی قوت ہے۔ چین جنگ سے بچتا ہے، پاکستان جنگ کا متحمل ہو سکتا ہے۔ دونوں کا اتحاد ناقابل شکست بن جاتا ہے۔ (3) پاک چین بلاک کی وجہ سے اسلام (بالواسطہ) خطے میں دوبارہ ایک عظیم سیاسی و انتظامی قوت بن کر ابھرے گا۔ جو چینی باشندوں کے علاوہ بھارت کے اچھوت (دلت) سکھ اقوام کے لیے سہارا اور پناہ گاہ ہو گا۔ (4) بھارتی مسلمانوں کو بھی خاصی حوصلہ افزائی ہو گی۔ (5) پاکستان کے USP بننے کا امکان کم رہ جائے گا جبکہ سی پیک کے سارے راستے آزاد کشمیر کے علاقے گلگت، بلتستان سے گزرتے ہیں جو پاکستان کے قبائلی نیز آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے علاقوں سے گزرتے ہیں۔ اسی لیے امریکہ عالمی طاقتوں اور عالمی یہودی اداروں کی مدد سے کشمیر کے پر امن حل کی تلاش میں ہے جبکہ بدقسمتی سے دہشت گردی کی جنگ کے نام پر پاکستان بلکہ تمام عالم اسلام کی حکومتوں کو اپنے شہریوں کو مذہبی انتہا پسندی کے نام پر مارنے کی راہ پر لگا رکھا ہے۔
یہی درج بالا چند پہلو ہیں جس کی وجہ سے امریکہ، اسرائیل اور انڈیا کو جلدی پڑی ہے کہ پاک چین بلاک کو مضبوط بنیادوں پر بننے سے پہلے پاکستان اور چین کو جدا جدا جنگ کی راہ پر لگا دیا جائے گا۔ جس سے دونوں یکجان ہو کر مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ علاوہ ازیں پاکستان مضبوط فوجی قوت ہونے کی وجہ سے انتہائی حساس اور خطرناک ملک ہے۔ لہٰذا پاکستان سے کھلی اور بڑی جنگ کرنا ناممکن ہے۔ لہٰذا پاکستان کے اندر سازشوں کے ذریعے عدم استحکام اور شکست و ریخت کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ پاکستان کے اندر امریکی، ایرانی، بھارتی، برطانوی انٹیلی جنس نیٹ ورک آپریشنل (بلیک واٹر سمیت) اس قدر با اثر ہے کہ محسن پاکستان، دنیا کے عظیم ترین سائنس دان اور مسلما ن ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ایٹم بم اور دیگر جوہری ہتھیار بنانے کی پاداش میں سزا دی جاتی ہے۔ ناموس رسالت مآب کے عاشق کو پاکستان کے آئین اور قانون کے برخلاف ، برطانوی دور کی طرح سزائے موت دی جاتی ہے اور اب پاکستانی سیاست و حکومت کے عظیم نیشنلسٹ وزیراعظم نواز شریف کو بدنام کر کے برطرف کرنے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ شریف فیملی پیدائشی
حکمران اور مالدار تاجر ہے۔ اس پر کسی قسم کا سیاسی ریاستی کرپشن کا الزام نہیں۔ پاکستانی مقتدر طبقے میں یہ واحد فیملی ہے جو قومی و بین الاقوامی تاجر ہے جبکہ اس کے تقریباً تمام مخالفین (بلا تجارت) کرپشن کے باعث شریف فیملی سے بھی زیادہ مالدار ہیں۔ نواز شریف کی ساری زندگی قومی ترقی اور نیشنلزم میں گزری ہے۔ یہ بہاولپور سازش کے بعد آئی جے آئی یعنی امریکہ مخالف سیاسی اتحاد کے بانی سربراہ تھے۔ انہوں نے امریکہ و عالمی اداروں کی امداد کے خلاف خود انحصاری کی قومی و حکومتی پالیسی اپنائی۔ انہوں نے عظیم نیشنلسٹ جنرل ضیاء الحق کے دور میں بننے والے ایٹم بم کا تجربہ کیا اور اس تجربے کو یوم تکبیر کا نام دیا۔ دھماکوں کے خلاف امریکہ بلکہ ساری عالمی طاقتوں نے نواز شریف کو براہ راست دھمکیاں دیں۔ لالچ دیا مگر وزیراعظم نواز شریف نہ مانے آج بھی یہ واحد جمہوری سیاسی قوت ہیں ۔اگر زرداری، عمران خان، شیخ رشید اور سراج الحق سیاسی جماعتوں کے لیڈر ہیں تو نواز شریف کو 2018ء کے انتخابی میدان میں شکست دیں۔ امریکہ، بھارت، اسرائیل، برطانیہ اور ایران کی مفاداتی سازشوں کا آلۂ کار نہ بنیں۔ اللہ ہمیں صحیح راستے پر چلنے کی توفیق دے۔