dr sajjad awan

امریکہ ڈومور۔۔۔پاکستان نومور

امریکہ ایک خوبصورت، دلکش، پرفریب، آنکھ کے اشارہ پر نچانے والی حسینہ عالم ہے ۔ اپنے مسلمان عاشق اور محبوب مسلم ممالک کے ساتھ خوشگوار لمحات گزارنے کے بعد آنکھیں پھیر لینا اس کی جبلت میں شامل ہے۔جونہی مفادات پورے ہوئے ۔ محبوب بہت بڑا رقیب بن جاتا ہے کبھی کبھی یہی محبوب، رقیب سے دشمن نظر آنے لگتا ہے۔ پھر اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس کی مرمت کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ اس حسینہ کے ناز و انداز سمجھنے کے لئے عراق کے سابقہ صدر صدام حسین بہترین مثال ہیں۔ کہتے ہیں کہ فطرت کبھی نہیں بدلتی۔جب برطانوی حکومت کا سورج غروب نہیں ہوتا تھا تو برطانوی حکومت انتہائی خطرناک مجروموں کو
سزا کے طور پر امریکہ بھیج دیتی تھی۔ یقیناًوہی فطرت نسل در نسل چلتی رہی ہے۔امریکن پالیسی پینٹگان تیار کرتا ہے جبکہ امریکی صدر سٹیج ڈرامہ کے اداکار کی طر ح سکرپٹ کے مطابق اداکاری کے جوہر دیکھاتا ہے۔ یہی حال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ہے ٹرمپ کرسی صدارت پر براجمان ہونے سے قبل افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کی حمایت کرتے ر ہے ہیں اور امریکی فوج کی موجودگی پر سابقہ صدر باراک اوباما کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ 2012 ء میں ٹرمپ کہتا تھا کہ ” ہم ان افغانوں کو کیوں تربیت دیتے جو اس کے بعد ہمارے ہی سپاہیوں کو پیچھے سے گولی مار دیتے ہیں افغانستان وقت کا مکمل ضیاع ہے اب گھر واپسی کا وقت آگیا ہے” در حقیقت ٹرمپ کا یہ بیان حقیقت پسندانہ، غیر جانبدارانہ اور زمینی حقائق پر دلالت کرتا تھا۔
صدرجب ڈونلڈ ٹرمپ اوول آفس پہنچتے ہیں پالیسی ساز اپنا سکرپٹ ٹرمپ کو ہدایت نامہ کے ساتھ حوالے کرتے ہیں کہ اب آپ (ٹرمپ) نے فطری سوچ کے بجائے سکرپٹ پر عمل کرنا ہے۔ تو پھر ٹرمپ مجبور ہو کر 21 اگست کی صبح اپنے قومی خطاب میں افغانستان پالیسی کاذکر کرتے ہوئے پاکستان پر کڑی تنقید کے ساتھ دھمکی آمیز لہجہ میں پاکستان کو افغانستان میں دہشت گردی اورعدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ساتھ ہی پرانی راگنی بھی الاپی کہ پاکستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے لہذا اسے مزید تعاون کرنا ہو گا پاکستان پر الزام تراشی اور دھمکی کے ساتھ ٹرمپ نے بھارت پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ اس پر مستزاد یہ کہ اگلے روز وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا کہ پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کرے۔عسکریت پسند گروپوں کو محفوظ ٹھکانے دینا بند کرنا ہو گا۔ رویہ نہ بدلہ تو پاکستان کی امداد کم اور نا ن نیٹو اتحادی کا درجہ ختم کر سکتے ہیں۔ راقم کی نظر میں امریکی امداد کا بند ہونا رحمت خدا وندی ہو گی اور پاکستان اپنے وسائل سے پاؤں پر کھڑا ہونا سیکھ لے گا ۔ امریکہ کی افغانستان پالیسی پر ایک کہانی یاد آگئی۔ ایک ندی کے کنارے بھیڑیا اور میمنا پانی پی رہے تھے ۔ بھیڑیے نے غصے میں میمنے کو للکارا۔۔۔پانی کیوں گندا کر رہے ہو ۔ تجھے نظر نہیں آتا کہ میں پانی پی رہا ہوں۔ میمنے نے سرجھکا کر عرض کی سرکار آپ اوپر والی طرف سے پانی پی رہے ہیں۔ وہاں سے پانی بہہ کر میری طرف آرہا ہے ۔۔ اچھا ٹھیک ہے یہ بتاؤ پچھلے سال تو
نے مجھے گالیاں کیو ں دی تھیں۔۔۔ میمنا بولا۔ حضور میری عمر 6 ماہ ہے۔پچھلے سال تو میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ بھیڑیا بولا تو پھر تیرے باپ نے گالیاں دی ہو ں گی۔ تجھے میں نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ پھر بھیڑیا میمنے کو چیرپھاڑ کر کھا گیا۔ اسی طرح 2001ء میں امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور بغیر انکوائری کیے ٹریڈ سنٹر کی تباہی کی آڑ میں حملہ آور ہوا۔ نہتے افغانوں پر ہزاروں ٹن بارودکی بارش کی۔ افغان وار میں سی آئی اے نے نہ صرف افغانوں بلکہ اسلامی ممالک کے نوجوانوں کو جہاد کی تعلیم دیکر سویت یونین سے ویتنام کی شکست کا بدلہ لینے کے لئے استعمال کیا۔ افغان وار کے زمانہ میں یورپ اور امریکہ کے کسی بھی میگزین کو اٹھا کر دیکھیں تو فرنٹ پیج پر افغان مجاہدین کی تصاویر نظر آئیں گی۔ در حقیقت طالبان اور القاعدہ کا بانی صرف اور صرف امریکہ ہے۔
افغانستان کے اندر کی کہانی امریکہ اور اتحادی خوب جانتے ہیں کہ کثیر سرمائے ، جدید ٹیکنالوجی اور بے تحاشا طاقت کے باوجود افغانستان میں جنگ ہار رہے ہیں۔ امریکہ کی افغان پالیسی پر پاکستان کے عظیم سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی للکار کا انتہائی جرات اور تدبر کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو کسی قسم کی مالی یا مادی امداد نہیں بلکہ اعتماد چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جائے۔
وزیر اعلی پنجاب شہبازشریف نے کہا ہے کہ زندہ اور باوقار قومیں مسائل کا حل خود تلاش کرتی ہیں۔ امریکی امداد کا باب بند کر نے کا وقت آگیا ہے۔۔۔ شہبازشریف نے بجا فرمایاہے کہ امریکہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امریکی امداد لینے سے انکار کر دینا چاہیے۔ امریکی امداد در اصل غلامی کی زنجیرہے۔ وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت کو شہباز شریف کے وژن پر چلتے ہوئے امریکی امداد لینے سے انکار کر دینا چاہیے۔ امریکی امداد اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے جبکہ پاکستان کو امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی بن کر دہشت گردی کی جنگ میں شریک ہونے پر 130 ارب ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے۔اس جنگ کی بدولت امریکہ کے 2300 فوجی ہلاک ہوئے جبکہ پاکستان کے 70 ہزار افراد شہید ہوئے۔ دہشت گردی کی جنگ میں جتنا جانی نقصان پاکستان کا ہوا ہے کسی اور ملک کا نہیں ہوا۔بدقسمتی سے پاکستان میں سیاست دان نمبر سکورنگ کر رہے ہیں کچھ ناعاقبت اندیش کہتے ہیں کہ پچھلے چار سال میں وزیر خارجہ نہیں تھا اس لئے ٹرمپ نے اتنی سخت پالیسی دی۔ امریکی صدر اور انتظامیہ پینٹاگان کے سکرپٹ پر عمل کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔ 1974 ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے فرانس کے ساتھ ایٹمی ریپراسسنگ پلانٹ کا معاہدہ کیا اور امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے بھٹو کو عبرت کا نشان بنانے کی دھمکی دی تھی۔ کیا اس وقت وزیر خارجہ کوئی نہیں تھا۔ یہ پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ یہ بھی خوش آئند بات ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب ، چین ،روس اور ایران کی مشاورت سے امریکہ کو بھر پور جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سول اور عسکری قیادت امریکہ سے مطالبہ کر ے کہ جس طرح پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف اپریشن کر کے ان کا قلع قمع کیاہے امریکہ افغانستان کے اندر اپریشن کر ے۔ دوسرا افغان بارڈر پر باڑ لگائی جائے امریکی امداد لینے سے انکار کر دیا جائے۔ افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کا انتظام کیا جائے۔
امریکہ کی نئی افغان پالیسی اور پاکستان پر الزامات کے خلاف پارلیمنٹ ، فوج اور حکومت نے یک زبان ہو کر امریکہ کی 70 سالہ غلامی سے نکل کر خوددار اور خود مختار پاکستان کے طور پر ردعمل دیا۔ پارلیمنٹ ، فوج اور حکومت پر ذمہ داری عائد ہو تی ہے کہ اپنی پیش کردہ قرار دادوں پر عمل درآمد کے لئے امریکہ کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہو کر مطالبہ کریں کہ امریکہ ڈومور اور پاکستان نو مور۔