bushra ejaz copy

امرتا پریتم کی بارہویں برسی!!

مجھے 1989ء میں پہلی دفعہ دلی جانے کا اتفاق ہوا۔ موقع بین الاقوامی اردو کانفرنس کا تھا۔ دلی کا تخت اس وقت راجیو گاندھی کے پاس تھا۔ مجھے دلی میں اپنے عہد کی دو بڑی خواتین سے ملنا تھا۔ قرۃ العین حیدر اور امرتا پریتم سے۔ قرۃ العین حیدر نوئیڈا میں رہتی تھیں اور امرتا پریتم 25 حوضِ خاص میں۔ جی ہاں وہ گھر جس کے سامنے لگی نیم پلیٹ پر درج تھا ’’ناگ منی228 امرتا پریتم228 امروز‘‘۔ اس منفرد نیم پلیٹ والے گھر میں اپنے عہد کی نامور شاعرہ، ادیبہ، دانشور اور ایکٹیوسٹ رہتی تھی، دنیا جسے امرتا پریتم کے نام سے جانتی تھی۔ امرتا گرچہ شاعری، ادب، خیال، مصوری، خوشبو، دھوپ، سورج، چاند، ستاروں، ہواؤں اور تخلیق کار کوکسی بھی تقسیم سے بالاتر سمجھتی تھی، مگر 1947ء کے بعد جب اس نے اول گوجرانوالہ، دو ئم لاہور سے ہجرت کی، اور ٹرین ٹو دہلی کے کسی لاشوں، زخمیوں اور لہو میں ڈوبے ڈبے میں بیٹھ کر جب اپنے آبائی وطن کو خیرباد کہا تو دوبارہ یہاں مڑ کر کبھی نہ آئیں۔ انہوں نے اپنی مشہور نظم اسی سفر کے دوران کہی، جب ٹرین ٹو دہلی کے اندر اور باہر انسان مر رہا تھا۔ انسانیت سر کھولے بین کر رہی تھی اور انسانوں کے روپ میں درندے غرا رہے تھے، انسانوں کو نوچ رہے تھے۔ سعادت حسن منٹو نے اس موقع پر نہایت افسردگی سے کہا تھا ’’یہ مت کہو، ایک لاکھ ہندو اور ایک لاکھ مسلمان مرا ہے۔ یہ کہو دو لاکھ انسان مارے گئے ہیں‘‘۔ روح کو جھنجھوڑ دینے والے کرب، ہجرت، غریب الوطنی اور لہو کے بہتے دریاؤں سے گزرتے ہوئے وہیں گاڑی کے ڈبے میں سموسے پکوڑے کے کاغذپر امرتا پریتم نے وہ بین اتارے جو بعد میں نہ صرف اس کی شناخت بن گئے بلکہ فسادات کا ایسا نوحہ بھی کہلائے، جس کے اندر پنجاب کی دھرتی اور اس کے باسیوں کا کرب جھلکتا ہے۔
اج آکھاں وارث شاہ نوں
کتوں قبراں وچوں بول
تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول
اک روئی سی دھی پنجاب دی تو لکھ لکھ مارے وین
اج لکھاں دھیاں روندیاں تینوں وارث شاہ نوں کہن
وے درد منداں دیا در دمندیا
اٹھ تک اپنا پنجاب
اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو بھری چناب۔۔۔ نظم طویل ہے، بے پناہ دل گداز، بے پناہ تلخ۔ جسے لکھتے ہوئے امرتا نے یقیناًلہو کے آنسو روئے ہوں گے اور کلیجہ چیر کر کاغذ پر رکھ دیا ہو گا۔ تقسیم کے بعد امرتا پریتم نئی دلی منتقل ہو گئیں۔ اور ساری عمر وہیں گزار کر آج سے بارہ سال قبل دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ میں اس دوران بارہا دہلی جاتی آتی رہی مگر اپنے عہد کو معتبر بنانے والی ان دو نامور خواتین سے ملاقات کا موقع نہ مل سکا، جنہیں میں اردو اور پنجابی ادب کے حوالے سے بہت مان دیتی ہوں۔ قرۃ العین حیدرؔ کی وفات پر اک گہرے نقصان کا احساس ہوا اور امرتا پریتم کے انتقال پر لگا، جیسے آج ناگ منی ہی لاوارث نہیں ہوا، پنجابی ادب بھی کچھ کچھ لاوارث ہو گیا ہے۔
امرتا پریتم کی بارہویں برسی کے موقع پر ورلڈ پنجابی کانگریس نے انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے مقامی ہوٹل میں ایک پُروقار تقریب کا اہتمام کیا۔ محترم فخر زمان تقریب کے میزبان تھے۔ پنجابی زبان کے چیدہ چیدہ لکھاریوں، شاعروں اور دانشوروں نے امرتا کی شاعری، زندگی، فن اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر بات کی اور امرتا سے اپنی اپنی ذاتی وابستگیوں کے حوالے سے بھی بہت سی باتیں کیں۔ امرتا پنجابی ادب میں افسانوی حیثیت کی حامل شخصیت تھیں، جن کی ذاتی زندگی، روایت شکنی اور مروجہ سماجی ڈھانچے کے خلاف کچھ ایسے اصولوں پر مبنی تھی، جنہیں ہمارے ہاں عموماً زیادہ پسند نہیں کیا جاتا۔ امرتا، ساحر لدھیانوی اور امروز، ایک ایسا ٹرائیکا ہے، جس پر بہت لکھا اور کہا گیا۔ امرتا نے محبت ساحر سے کی اور زندگی امروز کے ساتھ گزاری۔ امروز ان کا ساتھی، دوست اور محرم راز تھا۔ امرتا نے امروز کے لئے لکھی ایک نظم میں کہا
راہی تم مجھے سندھیا کے وقت کیوں ملے
زندگی کا سفر ختم ہونے کو ہے
اگر ملنا ہی تھا تو زندگی کی دوپہر میں ملتے
کم از کم دوپہر کا تاپ تو دیکھ لیتے
جواب میں امروز نے کہا :
تم خوبصورت شام ہی سہی
مگر مت بھولو
تم ہی میری صبح ہو، دوپہر ہو، شام ہو
میری منزل ہو، میری قسمت ہو
امرتا نے فسادات پر بہت لکھا، خصوصاً ان کا ناول پنجر اس ضمن میں ایک نمائندہ تحریر ہے، جس میں تقسیم کے حوالے سے عورت کا کرب اور دکھ نہایت دل گداز انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ رسیدی ٹکٹ، امرتا کی سوانح عمری تھی، جس نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچا دی، روایتی فکر کے حامل لوگوں نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے اس پر اعتراض کیا کہ یہ چھپانے والی باتیں تھیں،جنہیں رسیدی ٹکٹ میں سرِعام کہہ دیا گیا ہے۔ امرتا ہمیشہ کی ریتوں، رواجوں کی باغی، اس نے اس پر بس نہ کیا، اپنی سوانح عمری کا دوسرا حصہ میں مجھے توں لکھ کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ زندگی اپنے اصولوں اور نظریات کے مطابق گزارنا چاہتی ہے۔ امرتا پانچ دریاؤں کی بیٹی تھی۔ اس نے اپنی مٹی، مٹی کے دکھوں، اور اس مٹی میں مٹی ہو کر مل جانے والی عورت کا نوحہ لکھا۔ عورت کے سماجی شعور، اس کے کردار، اور اس کے کردار کی تہوں میں چھپی اداسی اور اس جبر کے خلاف آواز اٹھائی، جو ہمارے ہاں عورت پر روا رکھا جاتا ہے۔ امرتا نے اپنی مرضی کی زندگی خود بنائی اور یہ ثابت کیا کہ اگر انسان چاہے تو وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ پنجابی زبان کو معتبر بنانے اور عالمی ادب کا حصہ بنانے کے لئے امرتا کی کاوشیں عمر بھر جاری رہیں۔ ناگ منی پنجابی کا پرچہ تھا، جسے امروز اور امرتانے 1966ء میں جاری کیا، رفتہ رفتہ ناگ منی پنجابی زبان کا نمائندہ پرچہ بن گیا، جس کا ادبی سفر چار عشروں پر محیط ہے، امرتا کے انتقال کے بعد یہ پرچہ بھی بند ہو گیااور 25 حوضِ خاص کے اس گھر کا دروازہ بھی، جس پر ایک منفرد سی نیم پلیٹ لگی تھی۔ بعد میں امرتا کی یادوں کا مسکن، اس کی صبحوں اور شاموں، اس کی آہٹوں، چاپوں، سرگوشیوں اور رس میں بھیگی شاعری میں گندھے اس گھر کو مسمار کر دیا گیا۔ نیم پلیٹ ہٹا دی گئی اور وہاں ایک پلازہ کھڑا کر دیا گیا۔ جب یہ ہو رہا تھا تو، ہندوستان کے ادیبوں، شاعروں، پنجابی لکھاریوں، ہندوستانی سرکار اور امرتا کے ناقدین سمیت سبھی نے چپ سادھ لی۔ کسی نے امرتا کی یادوں کے مسکن کو محفوظ کرنے کی کوشش نہ کی۔ ہمارے ہاں ایسا ہی ہوتا ہے، ہر تخلیق کار کو اپنے عہد کی شورشوں، سازشوں اور ادب دشمن رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے حصے کی لڑائی لڑتا ہے، مگر ان میں امرتا پریتم کوئی کوئی ہوتا ہے، جو یہ جنگ جیت جائے اور سر اٹھا کر پورے وقار سے اپنی مرضی کی زندگی جیے اور جب دنیا سے رخصت ہو تو ایسا لگے، جیسے دنیا سے حسن، لطافت اور شائستگی رخصت ہو گئی ہو!!!