Asghar Khan Askari copy

افغان مفاہمتی عمل میں امریکہ کا منا فقانہ کردار

اکتوبر2001 ء میں امریکہ نے افغانستان پر اس جواز کے ساتھ حملہ کیا تھاکہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور اس تنظیم کے دیگر سرکردہ رہنماؤں کی اکثریت افغانستان میں روپوش تھی۔اس وقت کابل کے حکمران افغان طالبان تھے۔تین اسلامی ریا ستوں پاکستان ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ان کو کابل کا حکمران بھی تسلیم کیا تھا۔لیکن امریکہ کا موقف تھا کہ 9/11 کے حملے کا ذمہ دار القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن تھا۔اس لئے انھوں نے کا بل کے حکمرانوں کو حکم دیا کہ اسامہ بن لادن کو ہمارے حوالے کریں۔افغان طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر نے امریکہ کو دوٹوک جو اب دیا کہ اسامہ بن لادن ہمارے مہمان ہیں۔ان کے خلاف جوبھی ثبوت ہے۔وہ ہمارے حوالے کریں ۔ہم خود ان کے خلاف کارروائی کر یں گے۔لیکن امریکہ نے افغانستان کے حکمرانوں کی یہ پیشکش انتہائی رعونت کے ساتھ نہ صرف ٹھکرائی بلکہ پوری فوجی قوت کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور ہو ئے۔قریبا ڈھائی مہینوں تک افغان طالبان نے امریکہ کا مقابلہ کیا،لیکن فضائی حملوں کی وجہ سے وہ زیادہ دیر تک ان کا مقابلہ نہ کرسکے اور جنگی حکمت عملی کے طور پر پسپائی اختیار کی۔دسمبر 2001 ء میں قندھار کا سقوط ہوا۔اس کے بعد تورا بورا میں خون ریز جنگ لڑی گئی۔امریکی فوج کئی مہینوں تک اسامہ بن لادن اور ملا عمر کو تورا بورا کے غاروں میں تلاش کر تے رہے لیکن ان کو زندہ پکڑنے یا مردہ حالت میں پانے میں ناکام رہے۔اس دوران امریکہ نے پورے افغانستان سے بعض القاعدہ ارکان کو گر فتارکیا۔ان کو بد نام زمانہ جیل گوانتا نامو میں رکھا گیا۔لیکن امریکہ کسی بھی القاعدہ کے اہم رکن کو افغانستان سے گر فتار کر نے میں ناکام رہا۔چند سال تک جب جنگ جاری رہی ۔امریکہ کو اطمینان ہو گیا تھا کہ القاعدہ کے ارکان اب افغانستان میں نہیں رہے۔پھر مئی 2011 ء کو اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں مارے گئے۔جبکہ جولائی 2015 ء کو افغانستان کی حکومت نے طالبان سربراہ ملا عمر کی ہلاکت کا اعلان کیا ۔ساتھ ہی افغان طالبان نے بھی اس کی تصدیق کردی۔ اسامہ بن لادن ،ملا عمر کی موت اورالقاعدہ تنظیم کے خاتمے کے بعد امریکہ پر دباؤ بڑھتا گیا کہ وہ افغانستان سے فوج واپس بلا لیں۔ اس لئے کہ جس جواز کو بنیاد بناکر امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تھا وہ تمام کردار اب اپنے انجام کو پہنچ چکے تھے۔افغانستان سے افواج کی واپسی پر وائٹ ہاؤس اور پینٹا گان کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔وائٹ ہاؤس کابل سے انخلاء کا حامی تھا جبکہ پینٹا گان اس کا شدید مخالف تھا۔اس لئے انھوں نے افغانستان میں فوجی قیام کو جواز فراہم کر نے اور افغان طالبان کو شکست دینے کے لئے نئی حکمت عملی تیار کی۔انھوں نے افغانستان میں نام نہاد تنظیم داعش کو منظم کیا۔امریکہ نے افغانستان میں اپنے زیر قبضہ فوجی اڈوں میں ان کو تر بیت دی۔ملک کے مختلف علاقوں میں داعش کے کارندوں کو پہنچا یا گیا۔ان کو اسلحہ ،خوراک اور دیگر ضروریات فراہم کر نے کی ذمہ داری امریکی فوج کی تھی۔ اس امریکی حمایت یا فتہ نئی دہشت گرد تنظیم نے افغانستان میں خوف وہراس کی وہی فضا پیدا کی جو امریکی افواج کو مطلوب تھی۔داعش کی ظلم اور جبر کی وجہ سے مقامی افغان اور حکومت اس قدر خوف زدہ ہو گئے کہ انھوں نے امریکہ سے التجا ئیں شروع کی کہ افغانستان سے نکلنے کا نام نہ لیں۔ورنہ اس سے پہلے عام افغان کا مطا لبہ تھا کہ امریکی قابض افواج افغانستان سے نکل جا ئیں۔
داعش کی وجہ سے افغانستان میں حالات اس قدر دہشت زدہ کر دئیے گئے کہ پاکستان کو بھی کہنا پڑا کہ امریکی افواج مکمل قیام امن تک افغانستان ہی میں رہے۔داعش کو سپورٹ فراہم کرنے سے امریکی افواج اپنے مقاصد کے حصول میں کا میاب رہی۔مگر اب یہی داعش جنگجوخود امریکی افواج کے لئے درد سر بن گئے ہیں۔اب داعش کے جنگجو امریکی فوج کی بجائے خود بھرتیاں کر تے ہیں۔کئی طالبان کے ساتھ مل گئے ہیں۔ایسے حالات میں سابق افغان صدر حامد کر زئی کا امریکہ پر یہ الزام کہ وہ داعش کو مدد فراہم کر رہے ہیں افغانوں کے لئے کو ئی اہمیت نہیں رکھتا۔اس لئے کہ افغانستان میں قیام امن میں سب سے بڑی روکاٹ امریکہ ہی ہے۔آپ کو یاد ہو گا کہ 2015ء میں چین کے شہر ارومچی میں چین، پاکستان اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان ملا قات ہو ئی تھی۔اسی ملا قات کے نتیجے میں جو لائی 2015 ء میں پاکستان ،چین اور افغان طالبان کے درمیان مری میں مذاکرات ہو ئے۔ان مذاکرات میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ رمضان کے بعد بات چیت کا دوسرا دور ہو گا۔مگر ان مذاکرات کو امریکہ اور ہندوستان کی دباؤ کی وجہ سے سپوتاژ کیا گیا۔مری مذاکرات کے چند دن بعد افغان حکومت نے سرکاری طور پر افغان طالبان کے امیر ملا عمر کی ہلاکت کا اعلان کیا۔اس اعلان کے بعد مر ی مذاکرات ختم کر دئیے گئے۔اگر امریکہ سازش سے ان مذاکرات کو سبوتاژ نہ کر تا تو ممکن ہے کہ آج حالات مختلف ہو تے۔اس کے بعد افغانستان میں قیام امن کے لئے چارملکی رابطہ گر وپ تشکیل دے دیا گیا۔پہلا اجلاس 11 جنوری 2016ء کو اسلام آباد میں ہوا۔اس اجلاس میں سیکر ٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری،افغان ڈپٹی وزیر خارجہ حکمت خلیل کر زئی، پاکستان اور افغانستان کے لئے امریکی نما ئندے رچرڈاولسن اور افغانستان کے لئے چین کے نمائندے ڈینگ ژی جن نے شرکت کی۔ دوسرا اجلاس18 جنوری2016 ء کوکابل میں ہو ا ۔جس میں اعزاز احمد چوہدری نے پاکستان کی نما ئند گی کی۔افغان نائب وزیر خارجہ اور کابل میں امریکی سفیر مائیکل مے کنلے نے بھی ان مذاکرات میں حصہ لیا۔چارملکی رابطہ گر وپ کا تیسرا سیشن6 فروری کو اسلام آباد میں ہو ا ۔ اس میں بھی چاروں ملکوں کے نما ئندوں نے شرکت کی۔چوتھا اجلاس 23 فروی کوکابل میں ہوا۔ جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان بر اہ راست مذاکرات مارچ میں ہو نگے۔اس اجلاس میں طالبان کو یہ بھی بتایا گیا کہ وہ مارچ میں ہو نے والے مذاکرات کے لئے اپنے نما ئند ے نامز د کردیں۔چار ملکی مذاکرات کا پانچواں اجلاس اپریل 2016 ء میں اسلام آباد میں شیڈول تھا کہ اچانک افغانستان نے اس اجلاس میں شرکت سے معذرت کردی۔ پاکستان اور چین چند دنوں تک سفارتی محاذ پر کوشش کرتے رہے۔دونوں ممالک کی کو ششیں جاری تھیں کہ 22 مئی 2016 ء کوامریکہ نے ڈرون حملہ کر کے افغان طالبان کے امیر ملااختر منصور کو قتل کر دیا۔ملا منصور کو مارنے کے بعد چار ملکی رابطہ گر وپ غیر فعال ہوا جو تا حال غیر فعال ہی ہے۔یوں مری مذاکرات کے بعد دوسر ی مر تبہ امریکہ نے اپنی حماقت سے افغانستان میں جاری امن مفاہمتی عمل کو بری طر ح سبو تا ژ کیا۔ان حقائق سے یہ بات بالکل ثابت ہو جاتی ہے کہ افغانستان میں قیام امن میں سب سے بڑی روکاٹ امریکہ ہے۔ تمام افغانوں کا بھی اس بات پر اتفاق ہے کہ افغانستان میں بد امنی کا بنیادی کر دار امریکہ ہی ہے۔مستقبل قریب میں بھی مفاہمتی عمل آگے بڑھتا ہو ا نظر نہیں آرہا ہے اس لئے کہ افغان مفا ہمتی عمل کی طر ح امریکہ سی پیک کو بھی سبو تاژ کر نا چا ہتی ہے۔