hafiz shafique ur rehman

افغانستان میں65 بھارتی قونصل خانے، خطرے کی علامت

ہفتہ کے روز پاکستان نیول اکیڈمی کراچی میں کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے انتباہ کیا: ’کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، دشمنوں کے عزائم نا کام بنا دیں گے، پاکستان دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان کو خطہ میں دفاعی اور معاشی لحاظ سے اہم مقام حاصل ہے، پاکستان کی امن اوراستحکام کی خواہش یکطرفہ ٹریفک نہیں، کوئی غلطی فہمی میں نہ رہے، ہم دشمنوں کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیں گے‘۔ ’’را‘‘ افغانستان سے آپریٹ کی جا رہی ہے اور یہ بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہے۔بھارتی خفیہ ایجنسی کی تخریبی سرگرمیوں کا مقصد اربوں ڈالر کے سی پیک منصوبے کو سبوتاڑ کرنا ہے‘۔ ادھریو این او کی نمائندہ تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ’ اقوامِ متحدہ اور عالمی عدالتِ انصاف افغانستان میں بھارت کے65 قونصل خانوں کو ختم کرکے جنوبی ایشیا میں دہشتگردی کے نیٹ ورک کا خاتمہ کرسکتے ہیں ، جہاں اسرائیلی ، بھارتی اور افغان خفیہ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ٹاپ ایجنٹ دہشتگردوں کوٹریننگ دے کر پاکستان کے دیگر شہروں میں بھیج کر دہشتگردی کے واقعات کرواتے ہیں ،بھارت نے افغانستان کی مدد سے 65 قونصل خانو ں میں دہشتگردوں کو خفیہ ٹریننگ دے کر مختلف تنظیموں کی شکل میں پاکستان کے اندر چھوڑ ر رکھا ہے جوپاکستا ن کے مختلف شہروں میں بم بلاسٹ، خودکش دھماکوں سمیت دیگر کارروائیوں میں ملوث ہیں جبکہ تمام نیٹ ورکس کے سربراہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد بھارت کی کمر تو ٹوٹ گئی مگر دہشتگردی کا نیٹ ورک تاحال ختم نہ ہوسکا جس کے باعث بھارت اسرائیل ، افغانستان کی مدد سے پاکستان میں دہشتگردی کے منصوبوں پر گامزن ہیں۔
یہ ایک کھلا راز ہے کہ جوہری پاکستان کے خلاف جارحیت اب بھارت کے بس کا روگ نہیں۔ حالیہ برسوں میں ٹیکٹیکل ویپنز اور سالِ رواں میں النصر اور ابابیل میزائلوں کے تجربات کے بعد بھارت کی کولڈ سٹارٹ داکٹرائن کے مذموم اہداف و عزائم کو ملیمیٹ کر کے رکھدیا ہے۔ اندریں حالات روزِ اوّل سے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے پاس اب بجز اس کے کوئی دوسرا آپشن نہیں کہ وہ پاکستان میں داخلی امن و امان کی صورتحال کو مخدوش کرنے کیلئے تخریب کارانہ اور دہشت گردانہ وارداتوں کا ارتکاب کرے ۔ ان نقاب پوش وارداتوں کیلئے بھارتی افواج نے باقاعدہ ایک حساس ادارہ ’’را‘‘ قائم کر رکھا ہے اور پاکستان کی مغربی سرحد کے2430 کلو میٹر بارڈر کے ساتھ ساتھ اُس نے بھارت نواز سابق افغان کرزئی حکومت کے تعاون سے اپنے22 قونصل خانے قائم کیے تھے۔ اس قسم کی بیسیوں مصدقہ رپورٹس عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعے منظر عام پر آ چکی ہیں کہ یہ قونصل خانے جہاں افغانستان میں افغان بھائیوں کے ذہنوں کی کھیتیوں میں پاکستان مخالف رجحانات و تصورات کی تخم ریزی کر رہے ہیں، وہاں وہ ازبک، تاجک، ہزارہ قبائل اور وسط ایشیائی ریاستوں کے سابقہ ماسکو نواز عناصر کی خدمات بھی ہائر کرنے کیلئے بھاری فنڈنگ کو بھی اپنی اولین ترجیح بنائے ہوئے ہیں۔ وسط ایشیائی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے یہ عناصر جو بھارتی قونصل خانوں اور بھارت کے حساس ادارے را کیلئے کام کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، اپنے خدوخال، نین نقش، وضع قطع اور ظاہری حلیہ میں فاٹا اور صوبہ سرحد کے پختونوں سے مشابہت اور مماثلت رکھتے ہیں۔ ان کے نام مسلمانوں ایسے ہیں لیکن ان کے ساتھیوں کی اکثریت آج بھی وسط ایشیائی ریاستوں میں اسلام بیزار کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ یوں پاک افغان سرحد کے ساتھ واقع قونصل خانے دنیا کے 4 معروف پاکستان دشمن حساس اداروں موساد، کے جی بی، سی آئی اے اور را کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں۔ اب اس باب میں کوئی شبہ نہیں رہنا چاہئے کہ پاکستان میں 9/11کے بعد ہونیوالے دہشت گردی کے ہر جان لیوا اور ہولناک واقعہ کے پیچھے دستانہ پوش غیر ملکی ہاتھ کلیدی کردار ادا کرتاہے۔ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کی بعض اُن لسانی اور قومیت پرست جماعتوں کے وہ عناصر جو صوبہ سرحد اور بلوچستان میں قیام پاکستان کے مخالف تھے اور ریکارڈ کے مطابق سرحدی گاندھی اور بلوچی گاندھی کہلانے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ وہ ان دستانہ پوش غیر ملکی ہاتھوں کی اُنگلیوں کے اشاروں پر وحدت پاکستان اور سالمیت پاکستان کو نقصان پہچانے کیلئے سلسلہ جنباں ہوں۔ ان عناصر کو بھارت میں بھارت کے ’’بٹوارے کے خاتمے‘‘ کے عنوان سے کام کرنیوالی بھارتی ان گنت عسکریت پسند تنظیموں کا بھی تعاون حاصل ہے۔ ان میں بجرنگ دل، وشوا ہندو پریشد، شیو سینا اور جن سنگھی پریوار کے گینگز نمایاں ہیں۔ مذکورہ ہندو گینگز اور مافیاز کے گاڈ فادرز اور لنکس قومی اور بین الاقوامی میڈیا کے رو برو برملا ان جارحانہ خیالات کا اظہار کرچکے اور بدستورکر رہے ہیں کہ’’ اکھنڈ بھارت کی تکمیل تک وہ پاکستان میں امن کے قیام و استحکام کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کیلئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے‘‘۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمسایہ ممالک میں بھارت ہی وہ واحد ملک ہے جس نے ہمیشہ پاکستان کی راہ میں کانٹے بوئے ہیں اور ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم سے پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست قرار دینے یا دلوانے کیلئے جملہ مساعی ، وسائل، ذرائع اور توانائیوں کو برؤے کار لانے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ہندوستان کی داخلی صورت حال سے آگاہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہونے والے دھماکوں میں بھارت میں جاری آزادی و حریت کی 12 سے زائد تحریکوں کے کارکنوں کا بھی ہاتھ ہو سکتا ہے۔ ناگا لینڈ، میزولینڈ، خالصتان اور ہماچل پردیش کے حریت پسند بھارت سرکار کی ریاستی مشینری کی غیر انسانی استبدادی کارروائیوں کیخلاف اپنا احتجاج ریکارڈ پر لاتے رہتے ہیں بعض حلقے اس خدشے کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ بھارت سرکار اور چونکہ عسکری حلقوں کی تابع مہمل ہے اور یہ حلقے کسی بھی طور افتاد کی اس گھڑی میں پاکستان کی کسی قسم کی امداد کرنے کے حق میں نہیں ہے، سو انہوں نے پاکستان کے حساس علاقوں میں کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ بناء بریں پاکستانی سرحد کے ساتھ واقع ہر شہر میں افغانستان میں بھارت نے اپنے قونصل خانے قائم کیے، ہزاروں کی تعداد میں جہاں کیمو فلاجڈ بھارتی تربیت یافتہ مسلح فوجی سفارت کاروں اور کنٹریکٹرزکے روپ میں سرگرمِ عمل ہیں۔ مزید برآں’’ را‘‘ جو رسوائے عالم تخریب کارانہ و دہشتگردانہ کارروائیوں کی پسِ پردہ مسلمہ آرکیٹکٹ کے طور پر جانی جاتی ہے، اُس کے لاتعداد کارکن بھی افغانستان کے طول و عرض میں صحافیوں ، سماجی خدمت گار تنظیموں اور رضاکاروں کے روپ میں کام کر رہے ہیں اور اُن کا اصل ہدف پاکستانی سرحد پر واقع علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو فروغ دینا اور مسلح افواج کے خلاف بغاوت کیلئے عوام کو اکسانا ہے۔اس باب میں یقیناًدو رائیں نہیں ہیں کہ افغانستان میں قائم5درجن کے قریب بھارتی قونصل خانے ہی خود کش بمبار تیار کر رہے ہیں ۔2008ء میں ذرائع ابلاغ اس قسم کی اطلاعات رپورٹ کر چکے ہیں کہ سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران مارے جانیوالے مختلف عناصر کا جب پوسٹ مارٹم کیا گیا تو یہ حیران کن حقیقت سامنے آئی کہ گو کہ ہلاک شد گان کا حلیہ، وضع قطع اور ظاہری شکل و صورت قبائلیوں ایسی ہی تھی لیکن وہ غیر مختون تھے۔ اس ناقابل تردید ثبوت کے بعد اُصولی طور پر ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پاکستانی دفتر خارجہ وسیع پیمانے پر بین الاقوامی سطح پر اس امر کا اہتمام کرتا کہ پورے وثوق اور قطعیت کے ساتھ عالمی برادری اور عالمی میڈیا کو غیر مختون ، غیر مسلم غیر ملکی عناصر کی ویڈیو فراہم کرتا کہ ڈھول کا پول کھل جاتا۔سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ افغانستان ریاست ہائے متحدہ شمالی امریکا کی طرح ایک بڑا ملک ہے کہ بھارت نے وہاں اب5 درجن سے زائد اپنے قونصل خانے قائم کر رکھے ہیں؟یہ قونصل خانے 2003ء سے کام کررہے ہیں۔ اتنے قونصل خانے تو بھارت نے اُس امریکا میں بھی قائم نہیں کیے جو بھارت کا جوہری اتحادی ہے ۔یہ قونصل خانے یقینابلا جواز قائم نہیں کیے گئے۔ ان کے قیام کا جلی و خفی مقصد ہر پاکستانی بخوبی جانتا ہے۔ اس قسم کی خبریں ریکارڈ پر موجود ہیں کہ عسکریت پسندوں کو افغانستان میں قائم بھارتی قونصل خانے تقریباً14برسوں سے تربیت، اسلحہ اورسرمایہ فراہم کر رہے ہیں۔ اس امر کی ضرورت بھی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ حقائق و شواہد کی روشنی میں بین الاقوامی پلیٹ فارموں اور اداروں کے ذریعے اقوامِ عالم کو بتایا جائے کہ عالمی طاقت پاکستان کو مسلط کردہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ دینے کا صلہ کس طرح اور کیونکر لبریشن آرمیز ، ملیشیاز اور خود کش بمبار لشکروں کی شکل میں دے رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں لبریشن آرمیز، ملیشیاز اور ملک کے طول و عرض میں موجود فارن ڈونر ایجنسیوں کے فنڈز پر پلنے اور چلنے والی این جی اوز ، لسانی عصبیت فروش گروہ، علاقائی پریشر گروپس ، مسلکی انتہا پسند ہی پاکستان مخالف اور عوام دشمن غیر ملکی طاقتوں کے آلہ کار ہیں ۔ اُن کی مذموم کارستانیوں اور سیاہ کاریوں کا واحد مقصد وطن عزیز کے امن و امان کو اس حد تک مخدوش بنانا ہے کہ کوئی بھی بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کا تصور نہ کر سکے۔بھارت اور امریکا دونوں چین کو تیزی سے اُبھرتی ہوئی مستقبل کی سپر اقتصادی عالمی طاقت کے روپ میں نہیں دیکھنا چاہتے۔ اُن کی اس منفی خواہش کے باوجود چین عالمی سپر اقتصادی طاقت بن چکا ہے۔ پاکستان میں بھی کثیر الجہات اور کثیر المقاصد دیر پا اور دور رس فلاحی اقتصادی منصوبے چین ہی کے تعاون سے بامِ تکمیل تک پہنچے ہیں اور پہنچ رہے ہیں۔افغانستان میں 5درجن سے زائد بھارتی قونصل خانوں کی موجودگی خطے میں پائیدار قیام امن کے حامی شہریوں کے نزدیک خطرے کی علامت ہے۔ امریکی اور برطانوی دانشوروں اور سیاستدانوں کے بیان ریکارڈ پر ہیں کہ بھارت افغانستان میں اس لیے روپیہ تقسیم کر رہا ہے کہ پاکستان کا ناطقہ بند کیا جا سکے، اس بات میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ وہ بلوچستان میں فساد پھیلانے کے لیے شر پسندوں کو مالی امداد دے رہا ہے۔ بھارت یہ کردار پہلی بار ادا نہیں کر رہا۔ ماضی میں مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کے لیے بھی بھارت نے سرمایہ فراہم کیا۔ ایک اور ہمسایہ ملک سری لنکا میں نسلی فساد کو ہوا دینے کے لیے بھارت نے مکروہ کردار ادا کیا۔ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک متفق الرائے ہیں کہ بھارت اس خطے میں غلبے کے لیے منفی کارروائیوں میں مصروف ہے۔