tariq mehmood ch

اصلاحات اور آپریشن ساتھ ساتھ

سعودی ولی عہد پرنس محمد بن سلمان نے اپنے لئے مشکل راستے کا انتخاب کیا ہے۔
عشروں سے جمود، یکسانیت، قبائلی نظام کی جکڑبندیوں کا شکار سعودی معاشرے میں اصلاحات اور انسداد کرپشن مہم کا بیک وقت آغاز بہت بڑا چیلنج ہے۔ یہ چیلنج اکتیس سالہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ولی عہد سلطنت پرنس محمد بن سلمان نے قبول کیا ہے۔ انسداد بدعنوانی کی مہم کے ابتدا میں ہی طاقتور ترین شہزادوں، کاروباری شخصیات پر براہ راست ہاتھ ڈالنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ولی عہد نے شاہ سلمان کی قیادت میں اس مشکل ترین مشن کے آغاز سے قبل اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا ہو گا۔ ڈیڑھ ہفتے سے جاری اس چونکا دینے والے آپریشن پر ابتدائی ردعمل سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مشن میں کامیاب رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر فوری ردعمل بالخصوص اصلاح پسند نوجوان طبقے کی جانب سے حمایت سے واضح ہوتا ہے کہ امڈتے ہوئے طوفانوں پر قابو پا لیا گیا ہے اور اس آپریشن کو عوامی تائید و حمایت حاصل ہے۔ اب یہ عمل اپنے قدرتی انداز میں آگے بڑھتا رہے گا۔
اقتدار جہاں بھی ہو۔ وہاں شراکت داروں کے مابین کش مکش فطری بات ہے۔ حصول اقتدار کی خواہش اور وسائل پر غلبہ کی جبلت، خونریز جنگوں اور محلاتی سازشوں کو جنم دیتی ہے۔ ایسی جنگوں میں کبھی سر نہیں رہتا اور کبھی سردار نہیں۔ آل سعود بھی ماضی میں ایسے خاندانی جھگڑوں کے تجربات سے گزری ہے۔ شاہ سلمان نے اپنے بھائی شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد 25 جنوری 2015ء کو اقتدار سنبھالا تو ان کے سامنے ان گنت چیلنج تھے۔ مغربی دنیا نے حصول اقتدار کی جان لیوا جنگوں سے بچنے کیلئے پارلیمانی جمہوریت کا نظام وضع کر لیا ہے۔ قتل و غارت کی بجائے ووٹ کی طاقت سے تبدیلی آتی ہے۔ بہت سے مغربی ممالک نے آج بھی بادشاہت کو علامت بنا کر بطور یادگار محفوظ رکھا ہوا ہے۔ مسلم معاشروں کو یہ بات سمجھنے میں ابھی وقت لگے گا۔ خاص طور پر سعودی عرب کو۔ سعودی عرب کی موجودہ قیادت بالخصوص ولی عہد سلطنت محمد بن سلمان عصر حاضر کے بدلتے ہوئے تقاضوں کا ادراک رکھتے ہیں۔ لیکن ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ اصلاحاتی عمل راتوں رات تبدیل نہیں ہو جاتا۔ ویسے بھی مغربی طرز جمہوریت کو فوٹوسٹیٹ کاپی کی مانند ایک قدامت پسند سخت گیر معاشرے میں نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ اصلاحات کے عمل کو بتدریج متعارف کرا کے ان پر عملدرآمد کرایا جا سکتا ہے۔ شاہ سلمان نے اقتدار سنبھالتے ہی تیزی سے تبدیلیاں کیں۔ اتنی ہمہ گیر اور تیز تر تبدیلیاں اس سے پہلے آل سعود میں کبھی نہ کی گئی تھیں۔ شاہ سلمان نے 1954 میں 19 سال کی عمر میں ریاض کے ڈپٹی گورنر کی حیثیت سے عملی طور پر کارجہاں بانی کی دنیا میں قدم رکھا۔ لہٰذا وہ جانتے ہیں کہ امور مملکت میں کب اور کس وقت ماسٹر سٹروک کھیلنا ہوتا ہے۔ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے ارد گرد طاقتور شہزادوں اور کابینہ کے اہم افراد کو برطرف کر کے اپنی گرفت مضبوط کی۔ یوں شاہ سلمان اور شاہ عبداللہ کے خاندانوں میں رقابت کی نئی کش مکش شروع ہو گئی۔ ایسا سعودی شاہی خاندان میں پہلی مرتبہ بھی نہیں ہوا۔ موجودہ ولی عہد پرنس محمد سلمان نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی خارجہ امور، دفاع، معیشت اور معاشرتی سطح پر اصلاحات کے عمل کا آغاز کیا۔ سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں سب سے بڑی انقلابی تبدیلی کی گئی۔ پہلی مرتبہ عرب و عجم کی روایتی کش مکش کے پس منظر میں ایران کی مشرق وسطیٰ میں پیش رفت کا راستہ روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ طے کیا گیا کہ سعودی عرب پراکسی کی بجائے اپنے دفاع کی جنگ خود لڑے گا۔ یہ جنگ سعودی عرب کی سرحدوں سے دور لڑی جائے گی۔ اس فیصلے کے بعد سعودی عرب اپنے اتحادیوں کے ساتھ یمن کی جنگ میں کودا اور ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے خلاف کارروائی شروع کی۔ اس کے نتیجہ میں سعودی عرب کے گلی کوچوں میں دہشت گردی کی لہر آئی۔ سعودی ولی عہد نے معاشرقی و معاشی سطح پر وژن 2030ء کے نام سے ایک جامع پروگرام شروع کیا۔ جس میں خواتین کو ناروا پابندیوں سے بتدریج آزاد کرنا بھی شامل ہے، ان کو گھر سے باہر نکل کر گاڑی چلانے کی اجازت دی گئی۔ اس کے علاوہ معاشی سطح پر فیصلہ کیا گیا کہ تیل کی تجارت پر انحصار کی بجائے کاروبار، تجارت کے نئے مواقع تلاش کئے جائیں گے تاکہ سعودی نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں۔ دنیا کی سب سے بڑی آئل کمپنی ’’آرام کو‘‘ میں اصلاحات کر کے خودمختار ویلتھ فنڈ کے طور پر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ علاوہ ازیں نوجوانوں کو تفریحی سرگرمیاں فراہم کرنے کیلئے میوزک، سپورٹس کو فروغ دینے اور سرپرستی کا فیصلہ کیا گیا۔ محمد بن سلمان کے مطابق سعودی معاشرے کو جمود سے نکالنے کیلئے معاشرے کو اوپن کرنے کی راہ اپنائی گئی۔ اسی حوالے سے دبئی کی طرز پر بحیرہ احمر کے کنارے فری بیگا سٹی قائم کیا جائے گا۔ 500 بلین یو ایس ڈالر کی لاگت سے تعمیر کردہ یہ شہر تجارت، کاروبار کے حوالے سے روایتی پابندیوں سے آزاد ہوگا اور اسی شہر میں کاروبار اور سیاحت کی غرض سے آنے والے کئی قدامت پسندانہ پابندیوں سے آزاد ہوں گے۔ نیام کے نام سے یہ مجوزہ بین الاقوامی شہر بحیرہ احمر کے کنارے جیسی جنت ارضی کا نمونہ ہوگا، جو 10 ہزار مربع میل کے رقبہ پر بسایا جائے گا۔ اس شہر کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نیو یارک ایسے تین شہر اس میں سما سکتے ہیں۔ نیام نامی مجوزہ شہر پرنس محمد بن سلمان کی پوسٹ آئل دور کے تقاضوں سے نمٹنے کی پالیسی کا تسلسل ہے۔ جس کے بعد سعودی عرب کی معیشت صرف تیل ہی کی مرہون منت نہیں رہے گی بلکہ تجارت، بزنس اور ٹورازم۔ معیشت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے گا۔ سعودی معاشرے میں متعارف کردہ اصلاحات کو کامیاب کرنے کیلئے ضروری تھا کہ طاقتور افراد، شاہی خاندان کے بے لگام شہزادوں کی لوٹ کھسوٹ پر قابو پایا جائے۔ یہ ایک نہایت مشکل کام تھا۔ لیکن اولو العزم اور باہمت شہزادے نے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا۔ بین الاقوامی سطح پر کوئی توقع نہیں کر سکتا تھا کہ اکتیس سالہ ولی عہد سٹیٹس کو توڑ پائے گا۔ لیکن اکتوبر کے آخری ہفتہ میں یہ خبر دنیا بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ شاہی خاندان کے بااثر ترین ڈیڑھ درجن شہزادوں سمیت چار سو سے زائد افراد کو انسداد بدعنوانی مہم میں گرفتار کر لیا گیا۔ آپریشن اتنا سیکرٹ تھا کہ کسی مطلوب شخص کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ آج یہ شہزادے اور ارب پتی افراد قانون کے شکنجے میں احتساب کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ اب تک سینکڑوں اکاؤنٹ منجمد کئے جا چکے ہیں۔ تحقیقات کا دائرہ سعودی عرب سے مڈل ایسٹ اور یورپ تک پھیل رہا ہے۔ سعودی اٹارنی جنرل شیخ سعود الحبیب نے لوٹ مار کی گئی رقم کے والیم کا ابتدائی تخمینہ ایک کھرب ڈالر لگایا ہے۔ لوٹی گئی رقم کا زیادہ تر حصہ حکومتی خزانے میں نقب لگا کر حاصل کیا گیا۔
اصلاحات کا عمل ہو یا معاشی افق پر وژن 2030ء پر عملدرآمد۔ داعش اور القاعدہ کے خلاف جنگ ہو یا بین الاقوامی سیاست کے تانے بانے۔ انسداد بدعنوانی کی مہم۔ یہ سب کچھ محمد بن سلمان ولی عہد سلطنت نے تن تنہا اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا ہے۔ اقتدار و اختیار، باہمت اور بروقت فیصلہ کرنے والوں کے قدموں میں گرتے ہیں۔ ساغر اسی کا ہے جو آگے بڑھ کر اس کو تھام لے۔