dr-zahid-munir-amir

اردو۔۔۔منزل ہے کہاں تیری؟

ہم نے حصولِ آزادی کے بعد سے قومی زندگی کے جن شعبوں کو یکسر نظر انداز کیے رکھا۔ تعلیم ان میں سرفہرست ہے حالانکہ قوموں کی زندگی، تشخص اور بقا کا انحصار ان کی تعلیم پر ہوتا ہے۔ تعلیم ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس کی مددسے دلوں کو تبدیل کیاجاسکتا ہے ۔اسی ذریعے سے قوم نشوونما پاتی ہے یا قعر ہائے مذلت میں جاگرتی ہے۔ تعلیم کے جو مختلف النوع نظام ہمارے ہاں جاری رہے ہیں وہ ایک طبقاتی سماج کی تشکیل کرتے ہیں اور طبقاتی سماج ،قومی وحدت کی تشکیل نہیں کرسکتا ، جب قوم میں وحدت پیدا نہیں ہوتی تو زندگی کے کسی شعبے میں بھی اس کی ترقی کی امید باندھنا، محض خیالی دنیا میں بسیرا کرنے کے مترادف ہوتا ہے ،تعلیم کے دوہرے بلکہ شاخ در شاخ بکھرے نظاموں نے قوم کو اونچ نیچ اور ’’تعلیمی ذات پات ‘‘ کاجوسبق دیا ہے اس کا نتیجہ معاشرتی انتشار ، قومی عدمِ استحکام اور اجتماعی منازل سے محرومی کی صورت میں آج ہمارے سامنے ہے۔
تعلیم کے شعبے میں اس طبقاتی تفریق کا بیج انگریز آقاؤں نے بویاتھا جب انہوں نے ادب اور زبان کی تدریس خصوصاً مشرقی زبان وادب کی تدریس کوجدید علوم سے الگ کردیاتھا۔زبان وادب کے نام پر تو محض عربی ،فارسی سنسکرت اردو وغیرہ السنہ شرقیہ کی تعلیم دی جانے لگی اور انگریزی تعلیم حاصل کرنے والوں کو جدید علوم سے بہرہ ور کیاجانے لگا۔ جب یہ مختلف النوع طالب علم اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد عملی زندگی میں ، قدم رکھتے تو مشرقی علوم کی تعلیم پانے والے طالب علموں کو ملازمتوں میں کوئی حصہ نہ دیاجاتا بلکہ انگریزی اور جدید تعلیم یافتہ افراد کو فوراً ملازمتیں دی جانے لگیں۔ اس طرح رفتہ رفتہ مشرقی علوم پانے والے نوجوانانِ قوم میں ان علوم کے بے کار ہونے کا احساس پیداہونے لگا جس کا لازمی نتیجہ مغربی تعلیم کے فروغ کی صورت میں برآمد ہوا۔ اندریں حالات صورتِ احوال اور بھی زیادہ ’’نتیجہ خیز‘‘ ہوگئی جب کہ انگریزی حکومت کے نزدیک اس کے نظام تعلیم کامقصود ایک ایسا طبقہ پیداکرناتھا’’جو خون اور رنگ کے اعتبار سے ہندوستانی ہو مگر ذوق، طرزِ فکر ،اخلاق اور فہم وفراست کے نقطہ نظر سے انگریز‘‘ ڈیڑھ صدی سے بھی زائدعرصہ گزرا جب لارڈ میکالے نے یہ لفظ تحریر کیے تھے لیکن تعلیم کو مارکیٹ میں بٹھا کر جو کساد بازاری اس تدبیر کے ذریعے پیدا کی گئی تھی اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ میکالے نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا:
’’سنسکرت اورعربی دو ایسی زبانیں ہیں جن کے اکتساب سے اس مشقت کی تلافی نہیں ہوتی جو انہیں سیکھنے کے لیے اٹھانی پڑتی ہے یہاں اصل اور فیصلہ کن چیز صرف منڈی ہے‘‘۔
اس ’’اصل اور فیصلہ کن چیز‘‘میں ملازمتوں میں تفوق کے ذریعے مشرقی علوم کا بھاؤ مسلسل گرایا جاتارہا اور مارکیٹ میں بے قیمت ہوجانے والی چیز آہستہ آہستہ اپنی وقعت کھوتی رہی۔انگریز ساختہ تعلیمی نظام ،ہمارے ملی ثقافتی ،مذہبی اور تقاضوں کوکس حد تک پورا کرتا تھا اس کا اندازہ ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر کی اس رائے سے لگایا جاسکتا ہے جو اس نے اپنی کتاب ’’ہمارے ہندوستانی مسلمان ‘‘میں پیش کی ۔
’حقیقت یہ ہے کہ ہمارا طریقہ تعلیم مسلمانوں کی روایات کے بالکل خلاف اور ان کی ضروریات کے بالکل غیر مطابق ہے بلکہ ان کے مذہب کی تحقیر کرتا ہے‘۔
صرف ایک ہنٹر ہی نہیں برطانوی ہند کے سیکرٹری داخلہ مسٹر بیلی نے کہا تھا’’مسلمان اس طریقہ تعلیم سے احتراز کرتے ہیں جو اگرچہ فی زمانہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو مگر ان کے ملی رجحانات کو قطعاً خاطر میں نہیں لاتا۔ درحقیقت اس سے ان کے ضروری سے ضروری تقاضے پورے نہیں ہوتے ۔ یہ طرزِ تعلیم لازماً ان کے مفاد کے خلاف اور ان کی ملی روایات کے منافی ہے‘‘
ہم صبح آزادی تک تو ملی روایات سے متصادم اس نظام کے ہاتھوں مجبور تھے (اگرچہ اس سیاہ رات میں بھی، جامعہ ملیہ اور جامعہ عثمانیہ ایسے چراغ موجود تھے) لیکن آزادی کی سحر طلوع ہوجانے کے بعد تو ہمارے ہاتھ نہیں بندے ہوئے تھے۔ ہم اپنی نسلوں کو مسلسل اپنے کلچر ،اپنی روایات، اپنے ورثے اور اپنی دانش سے محروم کرتے چلے آرہے ہیں۔ ایک اجنبی نظامِ تعلیم جو ایک اجنبی زبان کے ذریعے مسلط ہے ہماری صلاحیتوں کی نشوونمانہیں کرسکتا ،ہم نئی نسلوں کو پڑھاتے تو ہیں لیکن بہ ایں صورت کے نہ پڑھانے والے جانتے ہیں کہ وہ کیا پڑھارہے ہیں نہ پڑھنے والوں کو خبر ہے کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں ۔ یہ بات ہم ہی نہیں لکھ رہے ۔ پوری عمر تعلیم وتعلم میں گزارنے والے، ایک نام ور استاد ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے ،جو ہمارے ایک سابق صدرِمملکت کے بھی استادرہ چکے ہیں ، لکھاتھاکہ :
’’ہم تعلیم ایک ایسی زبان میں دے رہے ہیں جسے نہ پڑھنے والے جانتے ہیں نہ پڑھانے والے‘‘
ترقی یافتہ زبانوں سے رشتہ قائم رہناچاہیے ان کی تعلیم و تدریس بھی ہونی چاہیے ،یہ تعلق اپنی زبان کے لیے بھی استحکام کا باعث ہوتاہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ترقی یافتہ زبانوں سے ستفادے کے نام پر اپنی زبان اور تہذیب ہی سے ہاتھ دھولیے جائیں ۔اس رویے کانتیجہ ظاہر ہے ہم مسلسل ایک بدیسی زبان کی عمارت میں بقول ژاں پال سارتر کرایہ دار کی طرح رہ رہے ہیں۔ کیا ہمارا اپنا کوئی گھر نہیں تھا؟ ساڑھے تین سو برس پیشتر ملٹن نے فلورنس کوخط لکھتے ہوئے کہا تھا کہ تاریخ سے ایسی کوئی شہادت نہیں ملتی کہ کسی ایسی سلطنت یا مملکت کوخوش حالی اور فلاح سے محروم کر دیاگیاہوجس کے افراد اپنی زبان کو پسند کرتے اور اس کی طرف کافی توجہ کرتے ہوں۔
ہم بے گھر نہیں تھے۔ یونیسکو نے اپنی سفارشات میں ایسے ملکوں کے لیے جہاں ایک سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہوں لنگوافرنیکاکی سفارش کی تھی ۔ ہمیں کسی نئی لنگوافرنیکا کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ہمارے پاس بنی بنائی لنگوافرنیکاموجود ہے ۔
ہماری قومی زبان ہمارا گھر ہے لیکن ہم خود اس سے گریزاں ہیں ۔ہمیں ڈرادیاگیاہے کہ اگر انگریزی کوذریعہ تعلیم نہ بنایا گیاتو ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ ہم آج تک ایک صدی پرانی لارڈ میکالے کی اس بات کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں کہ (اردو وغیرہ مشرقی زبانوں میں ) کسی بھی موضوع سے متعلق کوئی ایسی قابلِ قدر کتاب نہیں ملتی جسے ہماری زبان کے مقابلے میں پیش کیاجاسکے‘‘
لیکن اگر صورتِ حال ایسی تھی تو آج تک کیوں ہے ۔۔۔؟ یہی ناکہ ہم نے اپنی زبان کو ترک کیے رکھا ہے۔ عمدہ کتابیں اسی وقت وجود میں آتی ہیں جب ان کی ضرورت ہوتی ہے ۔جدید علوم سے تمسک اور تعلق زبانوں کو ثروت مندبناتاہے، زبان ذریعہ تعلیم ہی نہ ہو تو اس زبان میں جدید علوم کیونکر منتقل ہوں گے اور اس میں اعلیٰ کتابیں کون لکھے گا اور کیوں لکھے گا۔۔۔؟ میکالے ہی کی زبان میں یہ منڈی کامسئلہ ہے۔ مارکیٹ میں طلب ہی نہیں تو رسد کیسے ظاہر ہوگی؟ آج اگر انگریزی میں اعلیٰ پائے کی کتابیں موجود ہیں تو اس لیے کہ ان کے نظام تعلیم میں ان کتابوں کی ضرورت تھی ۔ وہ نظام تعلیم کیاشروع سے انگریزی تھا۔۔۔؟ نہیں انگریزوں نے بھی تو لاطینی کے چنگل سے نجات پائی تھی۔۔۔ ایک عزم اور حوصلے کے ساتھ۔ اس وقت انگریزی کادامن اعلیٰ پائے کی کتب سے مالامال تو نہ تھا۔۔۔ ؟ جب انگریزقوم نے لاطینی کا لبادہ اتارا توانگریزی کے خدوخال نمایاں ہونے شروع ہوئے۔ ہم بھی جب انگریزی کے لبادے سے نجات حاصل کریں گے تو اردو کے نقوش روشن ہوں گے۔ پھر ہم اپنے کلچر سے آشنا اپنی اقدار سے آگاہ اوراپنے ورثے سے واقف قوم کوجنم دے سکیں گے۔ ہم زبان اور ذریعہ تعلیم کی دوئی بلکہ کثیررنگی کے باعث مسلسل ایک طبقاتی معاشرہ تشکیل دیے جا رہے ہیں۔ یہ طبقاتی معاشرہ ہمیں کبھی ایک وحدت میں نہیں ڈھلنے دے گا۔ وحدت ناآشناقومیں بین الاقوامی سطح پر ہی نہیں داخلی سطح پر بھی بے توقیرہوجایاکرتی ہیں ۔