dr-azhar-waheed

اخلاص اور اخلاق

اخلاص کی ابتدا اپنے مفاد کی نفی سے ہوتی ہے اور اس کی انتہا اپنے مزاج کی نفی پر!! اخلاص درحقیقت سرتاپا فی سبیل اللہ ہو جانے کا نام ہے۔ اخلاص کا مسافر جب زمین کا سفر طے کرتا ہو تو اس کے طرزِ سفر کو اخلاق کا نام دیا جاتا ہے۔ مفاد کی نفی کرنا قدرے آسان ہے، کیونکہ مفاد بالعموم ظاہر کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں، اس کی رکاوٹ انسان کو خود بھی معلوم اور محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ وہ حجاب ہے جسے پہچاننا انسان کیلئے آسان ہوتا ہے۔ خود احتسابی کا کوئی لمحہ ، تنہائی کا کوئی سمے‘ اسے اس رکاوٹ سے آگاہ کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس مزاج اس کے وجود کا حصہ ہونے کے سبب اس کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ اس کی تندی اور تیزی دوسرے محسوس کر سکتے ہیں۔۔۔ محسوس کر سکتے ہیں لیکن وہ بتا نہیں سکتے ۔۔۔کہیں مخاطب اسے محسوس ہی نہ کر لے۔ مزاج بسا اوقات انسان کی ایسی شناخت بن جاتا ہے جس پر وہ فخر محسوس کرنے لگتا ہے۔ ایسے میں اس حجاب سے چھٹکاراپانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ مفاد سے نجات‘ ظاہری دنیا سے نجات پانے کے برابر ہے اور مزاج سے چھٹکارا حاصل کرنا خود پر فتح پانے کے مترادف ہے۔ بشریت کے حجاب میں حجابِ اول یہی مزاج کا حجاب ہے۔ سفر الی اللہ عزیمت کا سفر ہے۔۔۔ عظمت اس کا مدعا نہیں‘ نتیجہ ہے۔ انسان اگر مسافر الی اللہ ہونے کا عزم رکھتا ہے تو اسے ظاہر اور باطن کے جملہ حجابوں سے نکلنے کیلئے سفرِ عزیمت اختیار کرنا ہوتا ہے!!
اخلاق کی پشت پر اگر اخلاص نہ ہو تو اخلاق کے نام پر ہم ایک منافقت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسی معاشی یا معاشرتی مفاد کی خاطر اختیار کیا گیا ’’اخلاق‘‘ایک سوداگری کے چلن کے سوا کچھ نہیں۔ رکھ رکھاؤ اور چیز ہے، اخلاق چیزے دیگر!! اخلاق فی سبیل اللہ مخلوقِ خدا کیلئے اپنی پیشانی کشادہ کرنے کا نام ہے۔ خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کو راحت مہیا کرنے کا نام اخلاق ہے۔ اخلاق کی اصل داستان اس غریب اور کمزور آدمی کے ساتھ ہمارے رویے سے شروع ہوتی ہے جو ہماری تنہائی میں مخل ہونے کیلئے آن ٹپکتا ہے۔۔۔ وہ ہماری مرضی کی خدمت قبول نہیں کرتا۔۔۔اور اپنی مرضی کی خدمت اور اجرت طلب کرتا ہے۔ یعنی ہمارے مفاد اور مزاج دونوں پر سنگ باری کرنے والا کمزور اور جاہل شخص ہمارے اخلاق کا اصل امتحان ہے۔ شکریے کی تمنا اخلاق کا صلہ وصول کرنے کی خواہش ہے۔ اخلاق کے جواب میں اخلاق کی طلب رکھنا اخلاق کی منزل سے ایک زینہ نیچے اترنے کی کہانی ہے۔ اخلاق کی داد مخلوق سے چاہنا اخلاق کے نام پر خود نمائی کا افسانہ ہے۔ اخلا ق اگر خوش مزاجی ہے تو خوش مزاج وہ ہے جو دوسروں کا مزاج برداشت کرے۔
اخلاق کے منظر نامے میں داخل ہونے والا اپنے مزاج کو گھر میں رکھ کر آتا ہے۔ خوش اخلاق اپنے غصے کی تلوار کو ضبط کی نیام میں رکھنا جانتا ہے۔ ایک غصیلہ آدمی اخلاق کی سرحد سے اتنا ہی دور ہوتا ہے جتنا مشرق سے مغرب!! اخلاق جزو وقتی رویہ نہیں بلکہ ہمارے وجود کا ایک پیغامِ اخلاص میں سرتاپا ڈھل جانے کا نام ہے۔ ایک خوش اخلاق شخص نہ صرف یہ کہ ہمہ حال بے ضرر ہوتا ہے بلکہ مخلوقِ خدا کیلئے ہمہ وقت منفعت بخش بھی ثابت ہوتا ہے۔ بدمزاج شخص خواہش کے باوجود منفعت بخش نہیں ہو سکتا، اس کی سخاوت اس کے مزاج کے ہمراہ ہوتی ہے ۔۔۔اس کی سخاوت ایسی کڑوی گولی بن جاتی ہے جسے نگلا جائے ہے‘ نہ اُگلا جائے ۔ اکثر اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ بدمزاج آدمی اس
نشے میں مست ہوتا ہے کہ میں اندر باہر سے ایک ہوں، جو میرے’’دل‘‘میں ہے وہی زبان پر ہے۔ یہ بات دل پر ایک بہتان باندھنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ وہ جسے دل کہہ رہا ہے‘ دراصل وہ اس کا نفس ہے ‘ جو مزاج کی شکل اختیار کرنے کے بعد اس کے ہمراہ مثل ’’فساقرینا‘‘ چل رہا ہے۔ دل بمنزلہ حرم ہے۔۔۔ اور حرم میں سوائے پاکیزگی کے کوئی چیز داخل نہیں ہو سکتی ۔ حرم میں داخل ہونے کیلئے پاکیزگی کا احرام باندھا چاہے ۔۔۔ جس پر کسی مفاد اور مزاج کا پیوند نہ لگا ہو۔ منفی جذبات کی آماجگاہ نفس ہے۔ نفس نرگسیت پسند ہونے کے سبب اپنے لیے وہ وہ الفاظ اور خطاب استعمال کرتا ہے جو اس کے قطعاً لایق نہیں ہوتے۔دراصل علائق کے ساتھ کوئی اخلاق کے لائق نہیں ٹھہرتا۔
خوش اخلاقی اور خوش گفتاری میں بھی فرق ہے۔ گفتگو ایک ہنر ہے۔۔۔ خوش گفتار ہونا ہنر مند ہونا ہے۔ ہر ہنر مند سعادت مند نہیں ہوسکتا۔ اخلاق سعادت کی راہ ہے، اخلاص سعید ہونے کی سند ہے۔ اخلاص سے جدا کسی ہنر میں طاق ہونا مخلوق کی توجہ تو کھینچ لیتا ہے لیکن اس توجہ کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ ہجوم اکٹھا کرنا ظاہر پرستی ہے ، فرد کی جانب متوجہ ہوناباطن کی داستان ہے۔ مخلص انسان ہجوم کے حجاب سے نکل چکا ہوتا ہے۔وہ ہجوم سے اعراض کرے گا اور فرد کی طرف پورے انہماک سے متوجہ ہوگا۔۔۔ کیونکہ اس کی منزل دوسروں کا دل ہے، دماغ نہیں۔ لطیف روحوں کے نازل ہونے کی جگہ قلب ہے!
جملوں کی آراستہ و پیراستہ ترتیب، لفظوں کی دلنشین نشست و برخواست اور لوچدار آواز کو خوش اخلاقی قرار دینے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ خطیبِ خوش گفتار کا مدعا و منزل کیا ہے۔۔۔وہ اپنے مخاطب کو کس منزل کی طرف بلا رہا ہے۔ تاثیر خوش اخلاقی کی میراث ہے۔ دلوں کا متاثر ہونا ۔۔۔تاثیر ہے۔ گھن گرج کانوں کو متوجہ کرتی ہے ‘ دلوں کو نہیں!! صرف تقاریر کا نہیں‘ تحاریر کا حال بھی یہی ہے۔ لفظوں کی پیوند کاری، جملوں کی گلکاری اگر موضوع سے انصاف نہ کرے تو کاغذ اور وقت دونوں کا اسراف ہے۔ لفظوں کا اسراف کرنے والا بھی تو کسی کا بھائی ہو گا!!
خوش اخلاق ہونے میں اور presentable socially ہونے میں وہی فرق ہے جو پاکیزگی اور صفائی میں ہے۔ پاکیزگی طہارت ہے، اور طہارت کو نصف ایمان کہا گیا ہے۔۔۔ محض صفائی کو نہیں۔ صفائی کیلیے عربی میں لفظ ’’نظافہ‘‘ مقرر ہے۔ صفائی پسند ہونے والا لازم نہیں کہ پاکیزہ بھی ہو۔ پاکیزگی اختیار کرنے والا لازم ہے کہ صفائی پسند بھی ہوگا۔ دراصل پاکیزگی یا طہارت کا تعلق نیت سے ہے۔ ہر قسم کی پاکیزگی نیت کو پاک کر لینے سے حاصل ہوتی ہے۔ پاکیزگی ایک باطنی سرگرمی ہے۔ صفائی اس کا ظاہر میں اظہار ہے۔ عین ممکن ہے ایک مزدور‘ پسینے میں شرابور‘ میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس‘ وضو کے بعد پاکیزگی کے دائرے میں داخل ہو جائے، اور یہ بھی ممکن ہے‘ ایک تھری پیس سوٹ میں فرنچ کلون میں نہایا ہوا شخص ناپاک حالت میں گھوم رہا ہو۔ یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ اعمال کا انحصار نیتوں پرہے۔ روزہ دار کے منہ سے آنے والی بْو کے متعلق فرمایا گیا کہ اللہ کے نزدیک یہ کستوری کی مانند ہے۔ بہرطور اعمال نیتوں پر ۔۔۔اور نیتیں ‘اخلاص پرمنحصر ہیں۔مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک ضرب المثل پنجابی شعر ہے:
نیتاں دے گل سہرے پیندے
نیتاں دے گل پیندے پھاہ
اخلاق سے پیش آنا مخلوقِ خداکی خدمت کا باب ہے۔ خلقِ خدا کیلئے اپنا دسترخوان اور پیشانی کشادہ رکھنے والا سخی ہے۔۔۔ او ر سخی اللہ کا دوست ہے۔اگر مخلوق کی رضاجوئی اور اپنے ممکنہ مفادات کے حصول کیلئے خوش اطواری کا چال چلن اخیتار کیا جائے تو اسے اس خوش اخلاقی سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا ‘جس کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے روز میزانِ عمل میں سب سے بھاری عمل حسنِ اخلاق ہوگا۔اخلاق اپنی حقیقت میں فی سبیل اللہ ہوتا ہے اور اِس کاسفر الی اللہ ہوتا ہے۔ مخلوقِ خدا کی خدمت‘ خدا کا حکم سمجھ کر کی جائے تو درجہ اخلاق میں داخل ہے۔۔۔نہیں ‘تو نہیں!!