nasif awan new

اجالا، دھیرے دھیرے!

ہر وہ کام جو رات کی تاریکی میں کیا جائے دن کا اجالا اسے عیاں کر دیتا ہے! خلیل جبران۔
ارتقائی عمل کبھی رکتا نہیں آگے بڑھتا رہتا ہے۔ جو لوگ اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر کے اسے روکنے یا اس کا رخ اپنی خواہش کے مطابق موڑنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوتی اور ان پر مشکلات مشتعل شہد کی مکھیوں کی مانند امڈپڑتی ہیں۔۔۔!
جو کچھ آج ہو رہا ہے اور ہونے جا رہا ہے کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔!
حیران کن مناظر ابھر رہے ہیں۔ پرت در پرت پنہاں واقعات سامنے آنے لگے ہیں اور دکھائی یہ دے رہا ہے کہ اشرافیہ قانون کی گرفت سے اب محفوظ نہیں رہ سکتی۔۔۔؟
اشرافیہ ہی کیا کوئی دوسرا بھی قانون کو آنکھ نہیں دکھا سکے گا۔۔۔؟
یہ کیوں ہونے جا رہا ہے۔۔۔؟ سوال ہر ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔۔۔!
بات دراصل یہ ہے کہ اب قانون اپنے آس پاس سے ابھرنے والی آہوں، سسکیوں اور غم میں ڈوبی صداؤں کو برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ اس پر عوامی احتجاجوں کا دباؤں لمحہ بہ لمحہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔۔۔ سماج کے اندر شکست و ریخت کے عمل نے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔۔۔ لہٰذا حرکت ضروری تھی۔۔۔ اور وہ متحرک ہو چکا۔۔۔!!
یہ ریاست ہے اس کا ایک حدود اربعہ ہے، اس کے کچھ اصول ہیں قواعد ہیں ضوابط ہیں جن پر عمل کر کے ہی وہ اپنے وجود کو قائم رکھ سکتی ہے۔۔۔ لہٰذا اسے اپنا فرض نبھانا ہے مگر ہماری اشرافیہ کو یہ معلوم ہی نہ تھا وہ تو اسے اپنی باندی سمجھ بیٹھی تھی۔۔۔ چلی تھی ذاتی آرزوؤں کی تکمیل کرنے۔۔۔ ان عوام کو کوئی رینگنے والی مخلوق کہتی رہی، اسے اپنے پاؤں تلے روندتی رہی اور وہ دہائی دیتی رہی کہ وہ انسان ہے انسان۔۔۔ اسے مت کچلا جائے اسے خون میں نہ نہلایا جائے۔۔۔ مگر تکبر و غرور نے اس کے حلق سے نکلنے والی دل دوز آوازوں کو نہیں سنا۔۔۔!
روشنی کو قید نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ لہٰذا اس کے پھیلنے پر بھی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔۔۔ اسی لیے یہ پھیل رہی ہے۔۔۔ روک سکو تو روک لو۔۔۔!
ہاں! اجالا دھیرے دھیرے جگنوؤں کی مانند فضاؤں میں ٹمٹمانے لگا ہے۔۔۔ ان مظلوموں کو، ان مایوسی کی وادیوں میں بھٹکنے والوں کو یہ دیکھ کر بے پناہ حوصلہ ملا ہے۔۔۔ انصاف کی ست رنگی تتلیاں اِدھر سے اُدھر اڑتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔۔۔ اداسی کہ جس نے پورے ماحول کو مغموم کر دیا تھا اب امید کی کونپلیں نکلنے پر اس میں نیا جوش و جذبہ درآیا ہے۔ اس کے خشک ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم نمودار ہونے لگا ہے۔۔۔!!
اعتراض ہے مگر، کسی کو کہ یہ ’’بالادستی‘‘ قانون کی منظور نہیں کیونکہ یہ محدود ہے۔۔۔ جب تک اس کا دائرۂ اثر وسیع نہیں کر دیا جاتا۔۔۔ یہی کہا جائے گا۔۔۔؟ ایسا ہرگز نہیں۔۔۔ سب ہی پکڑے جائیں گے۔۔۔ کوئی نہیں بچے گا۔۔۔ حد تو ہو گئی اب بھی نرمی، اب بھی مصلحت اور اب بھی چشم پوشی۔۔۔ یہ ممکن ہی نہیں۔۔۔!
چڑیاں بہت سے کھیت چگ چکیں۔۔۔ مزید یہ نہیں ہو گا کیو نکہ اب سکت نہیں۔۔۔ گنجائش نہیں اسی لیے ہی بجلیاں چمک رہی ہیں کڑک رہی ہیں۔۔۔ کوئی نہیں، جو بنا پوچھ گچھ کے اپنی خواب گاہ میں استراحت فرما سکے۔۔۔
خودکشیاں کریں عام لوگ۔۔۔ ہر پانچ برس کے بعد خوشحالی کی آس لگائیں یہ سادہ لوح غریب عوام۔۔۔مگر انہیں دھوکا ہی دیا جائے۔۔۔ سرابوں کے پیچھے دوڑایا جائے۔۔۔ تھکایاجائے۔۔۔؟
جو آواز اٹھے ۔۔۔ احتجاج کی، اسے خاموش کرا دیا جائے۔۔۔ لہو میں نہلا دیا جائے۔۔۔ یہ سفاکی ہے ظلم عظیم ہے۔۔۔ اور ستم بالائے ستم اس سارے عمل کو جمہوریت کہا جائے۔۔۔؟
خزانہ خالی ہو جائے۔۔۔ دریا صحراؤں میں تبدیل ہونے لگیں۔۔۔ قرضوں کے انبار لگ جائیں۔۔۔ بیماروں کی قطاریں نظر آئیں۔۔۔ غلاظت ہر سو بکھری پڑی ہو۔۔۔ میرٹ کو ادھ موا کر دیا جائے۔۔۔ نیچے تک غنڈہ راج ہو پھر بھی پوتر۔۔۔ پھر بھی مہذب۔۔۔ پھر بھی باذوق اور پھر بھی اعلیٰ و ارفع۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔؟؟
قانون بھی سمجھ رہا ہے اور قانون دان بھی کہ اب بھی اگر تفریق و تقسیم پر توجہ مرکوز نہیں کی گئی تو۔۔۔ کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔۔۔ بے چین و بے قراری جنم لے سکتی ہے جو طاقتور سے طاقتور کے بھی قابو میں نہیں آسکے گی۔۔۔ لہٰذا بدلناپڑے گا اس نظام کو۔۔۔ اس سماج کو!
شور پھر کیوں مچایا جا رہا ہے۔۔۔ کہ ہم لٹ گئے۔۔۔ ہم رسوا ہو گئے۔۔۔؟
ذرا سوچیے، ذرا دیکھیے! تمہارے نزدیک یہ جو الو باٹے ہیں۔۔۔ یہ جو ایرے غیرے ولد نتھو خیرے ہیں کیا انسان نہیں، ان کے کچھ خواب نہیں کیا۔۔۔ ان کی رگوں میں خون نہیں دوڑتا کیا۔۔۔ انہیں کھلے پھول اور مہکتے باغیچے نہیں چاہئیں۔۔۔ یہ سب ان کو بھی چاہیے ہے۔۔۔ مگر انہیں ذلیل و خوار کر دیا گیا ہے۔۔۔ انہیں اپاہج بنا دیا گیا ہے۔۔۔ دولے شاہ کے چوہے بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کے ذہنوں میں یہ بات داخل کر دی گئی ہے کہ وہ حکمرانی کے اہل ہیں نہ آسائشوں کے۔۔۔ ان سے کوئی پوچھے کہ تمہیں کس نے کہا کہ تم ہی ہو۔۔۔ حکمرانی کے لائق اور تم ہی ہو ہر سہولت کے حق دار۔۔۔؟ ہیرا پھیری اور مکاری سے غریبوں کی دولت پر کنڈلی مارکے بیٹھ جاتے ہو اور پھر خود کو ان پر مسلط کر لیتے ہو اور کہتے ہو زندگی کی ہر خوشی ان کے لیے ہے۔۔۔ ہر چیز ان کی ملکیت ہے۔۔۔ نہیں یہ درست نہیں ۔۔۔ ضرورتیں اور خواہشیں سب کی ایک جیسی ہیں۔۔۔ پھر کیسے کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ سپیریر ہے۔۔۔ فہم و فراست کا مالک ہے۔۔۔؟
وقت بدل گیا۔۔۔ حقائق کو تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں۔۔۔ حماقتوں ، نادانیوں اور چالاکیوں کا زمانہ لد گیا۔۔۔ یعنی وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے۔۔۔!
رات کے راہیوں کو ۔۔۔ ’’اجالے ‘‘ کی ایک جھلک نے منزل دکھلا دی!
بھٹکنے والوں کے چہرے پر پھیلی خزاں کی پیلاہٹ آہستہ آہستہ غائب ہونے لگی۔۔۔ دور کہیں سے، کوئی کھڑا صدا دے رہا ہے کہ چلے آؤ۔۔۔ بہار تمہاری منتظر ہے۔۔۔ اب ہر رکاوٹ ہٹ رہی ہے۔۔۔ بچھے کانٹے ایک ایک کر کے۔۔۔ ویرانیوں میں لے جائے جا رہے ہیں، خوشی سے جھومو اور لہراؤ۔۔۔ مکدر فضائیں مہکنے والی ہیں۔۔۔!!