Asif-anayat-final-new

ابو جہل کا سفر

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے منسوب روایت ہے کہ ایک دن انتہائی پریشانی کے عالم میں بازار میں سے گزر رہے تھے کہ ایک جاننے والے نے آواز دی اے موسیٰ، مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام ان سنی کر کے آگے گزر گئے۔ وہ شخص کوئی بات کرنا چاہ رہا تھا لہٰذا پیغمبر کو آوازیں دیتا ہوا پیچھے آتا گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام تیزی سے آگے چلتے گئے۔ بالآخر اس شخص نے آگے بڑھ کر روک لیا اور پوچھاکہ آپ میری آواز سن کر بھی توجہ نہیں فرما رہے، خیریت تو ہے۔ حضرت موسیٰ کہنے لگے کہ آج بڑی مصیبت میں ہوں بلکہ آفت آن پڑی ہے۔ وہ بندہ بھی پریشان ہوا کہ یہ اللہ کے پیغمبر تو لوگوں کی التجائیں اللہ تک لے جایا کرتے ہیں، لوگوں کے دکھوں کا مداوا بنتے ہیں، اور آج خود کیسی آفت اور پریشانی میں گھر گئے ہیں۔ بندے کی بہت تکرار پر کہ موسیٰ بتائیے آپ کو کس مشکل کا سامنا ہے۔ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام بولے کہ آج ایک احمق میرے پیچھے لگا ہوا ہے میں اس سے بچتا پھر رہا ہوں ۔اللہ کا پیغمبر ایک احمق سے گھبرا کر دامن چھڑاتا پھرے ذرا سوچئے!
جہاں بھونچال بنیاد فصیل و در میں رہتے ہیں
ہمارا حوصلہ دیکھو ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں
مگر ہمارا مسئلہ صرف احمقوں کا نہیں بلکہ ہمارا مسئلہ تو جہالت ہے ، وہ بھی ابو جہل والی جہالت۔ جس کے بھونچال تھمنے کو نہیں پاتے۔ ابو جہل بھی شیطان، فرعون، نمرود، شداد، قارون، یزید اور شمر کی طرح اپنی الگ پہچان رکھتا ہے جیسے شیطان کا باغی ہونا، فرعون کا اپنے آپ کو خدا سمجھنا ، نمرود کا حق کو آگ میں پھینکنا، شداد کا جنت تک بنا کر اپنے تئیں کائنات کا وارث بننا ۔ قارون کا دولت کے انبار لگانا، یزید کا ظلم و ستم اور شر سے بھرپور کردار کا حامل ہونا، شمر کا سفاک اور درندہ صفت ہونا ۔ تاریخ نے ان سب کو ان کی خصلت کی علامت بنا دیا۔ جیسے ابو جہل جہالت کا استعارہ اور علامت ہے۔ جہالت کی تعریف جیسی ابوجہل کے کردار سے ملتی ہے ویسی تعریف شاید دنیا کے کسی اور کردار سے نہیں ملتی اور میرے ماں باپ قربان اُن ہستی پر جنہوں نے اس تاریخی منفی کردار کو عمر بن ہشام کی بجائے ابو جہل کا نام دیا۔ حق کو جانتے ہوئے، خیر کو پہچانتے ہوئے باطل اور شر پر قائم رہنا جاہل ہونے کی مسلمہ دلیل قرار پایا۔تخلیق انسان کے ساتھ ہی اللہ رب العزت کی حکم عدولی کی وجہ سے ابلیس باغی، باطل، شر، کفر، تکبر اور منفی قوتوں کا نمائندہ بن کر تاریخ اور الہامی کتابوں کا حصہ بن گیا۔ خود تو نظر نہیں آتا مگر مملکتوں، انسانوں اور انسانی معاشروں ، اداروں اور انسانوں کے کردار میں نمایاں طور پر موجود رہتا ہے۔ اللہ رب العزت کی طرف سے آنے والے پیغمبران، اَئمہ کرام اور صالحین حق، خیر اور مثبت قوتوں کے نمائندوں کے طو رپر موجود رہے ہیں اور اُن کی تقلید پر عمل کرتے ہوئے انسان اِسی معاشرے ، اِسی کائنات میں مل جایا کرتے ہیں جیسے خیر وشر کے برسر پیکار رہنے سے حق و باطل کی جنگ میں حسینیت کو حق اور خیر سے تعبیر کیا جاتا ہے جبکہ باطل اور شر کو یزیدیت کا لقب دیا جاتا ہے لہٰذا یہ دونوں قوتیں، مکاتب فکر اور طرز عمل و طرز زندگی مختلف معاشروں میں پائے جاتے ہیں۔ جس معاشرے میں حق نمایاں ہے وہ کامیاب و کامران ہے اور جس میں باطل کا بول بالا ہے وہ چاہے ستر سال کیا سیکڑوں سال گزر جائیں نامراد اور ناکام رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں مسئلہ ہے کہ ہم حسینیت اور یزیدیت کو تین چار دہائیوں کے بعد پہنچانتے ہیں۔ حق و باطل، خیر وشر کا برسر پیکار ہونا شعوری ، فکری و فطری معاملہ ہے لیکن
جہل و دانش کا برسر پیکار ہونا سمجھ اور فہم سے بالاہے۔ یاد رہے جہالت اور ناخواندگی میں فرق ہے۔ ناخواندہ اشخاص سیکڑوں دیکھے جو زمینی دانش، فہم اور ادراک میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اور ایسے خواندہ ہزاروں دیکھے جو عقل و شعور کے دشمن ثابت ہوئے۔ جہل تو جانتے بوجھتے ہوئے دانش، شعور اور مثبت فکر سے ٹکرانا ہے جبکہ ناخواندگی بے بسی اور معصومیت ہے نہ کہ جہالت۔ جہالت تو حماقت ، نا خواندگی سے بھی کوئی اگلی ڈگری ہے۔
صد افسوس کے آج وطن عزیز جہالت کے جس دور سے گزر رہا ہے ایسی جہالت زمانۂ جاہلیت اور پتھر کے دور میں بھی نہیں تھی۔ سوشل میڈیا کی تو شان ہی الگ ہے۔ کمرشل میڈیا میں لاکھوں کروڑوں ماہانہ تنخواہیں لینے والے ’’اینکر اور دانشور‘‘ بھی جب حقائق کے برعکس لوگوں کے شعور کو یرغمال بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو صرف دو باتیں ہی سمجھ آتی ہیں کہ یہ دانشور نہیں دانش فروش ہیں۔ رائے فروش ہیں ۔ ذلتوں، نفرتوں، حسرتوں، محرومیوں کے مارے لوگوں کے مسائل فروش ہیں۔ جو جہالت کا یوں مظاہرہ کریں میں چشم تصور میں اُنہیں ابو جہل دیکھتے ہوئے لطف اندوز ہوتا ہوں۔ جیسے نئے چیئرمین نیب نے اعلان کیا کہ احتساب سب کا۔ جس پر ایک دانشور یوں سیخ پا ہوئے کہ احتساب کوئی روٹی، کپڑا اور مکان ہے جو سب کا ہے۔ اسے کون سمجھائے کہ اس کا مطلب ہے ہر سٹیک ہولڈر، ہر ادارے، اور ہر قابل احتساب کا احتساب ہو گا محض خاص پارٹی ، ادارے، خاندان ، فرد اور رہنما کا نہیں۔ اسی ’’دانش ور‘‘ سے میرے ایک کالم نگار دوست نے سوال کیا کہ آپ میاں صاحبان کو اتنا برا کہتے، ہیں (دراصل یہ میاں صاحبان کی مخالفت کا کاروبار کرتے ہیں جیسے کئی لوگ بھٹوز کی مخالفت کے کاروبار سے کھربوں پتی بن گئے) ان کے پروڈیوسرز کے بارے خاموش رہتے ہیں وہ ’’بہادر‘‘ ’’دانشور‘‘ بے ساختہ کہنے لگا میں نے گولی کھانی ہے اور ساتھ ہی بولا کہ مالٹا کی شہریت لوں گا پھر سچ لکھوں گا۔ اس کی اطلاع کے لیے عرض ہے مالٹا کی صحافی بھی ٹھکانے لگ گئی ہے۔ مرنا تو انجائنا درد سے بھی ہوتا ہے سچ لکھ اور بول کر اگر موت آجائے تو غنیمت ہے۔ جھوٹ لکھ اور بول کر زندہ رہنے سے بہتر ہے۔ بعض اوقات تو مجھے ایسے دانشور اور نام نہاد بہادر اینکر دیکھ کر ایک واقعہ یاد آتا ہے ایک دفعہ چند دوستوں کا جھگڑا ہو گیا۔ ان کی صلح کے لیے لوگ اکٹھے تھے ایک آدمی کی طویل سی ڈاڑھی، لمبی قمیص، ماتھے پر محراب کا سا نشان ، دھوتی ٹخنوں سے اونچی ، کلائی پر کڑا، سر پر رومال آواز میں بھاری پن اور ہر کوئی اس کی بات بھی سنتا، ہر ایک کی بات میں وہ بولتا، میں نے اپنے دوست سے کہا یہ تو نیک نمازی آدمی ہے، اس کا انڈر ورلڈ کے ان لوگوں پر اتنا اثر کیوں ہے، تو وہ کہنے لگا نمازی نہیں نہ یہ نیک ہے، یہ جو محراب سا نشان ہے نماز کی محراب نہیں ہے دراصل اسے پولیس سے فائر لگا تھا قسمت سے بچ گیا، تب سے اس کا بڑانام چلتا ہے۔ مجھے بھی لگتا ہے میڈیا کی دنیا کے جو اپنے منہ میں کسی اور کی زبان اور ہاتھ میں کسی اور کا قلم رکھتے ہیں کسی فکر اور شعور کے نمازی نہیں بلکہ ماتھے پر جانبداری، تعصب اور جہالت کا فائر کھائے ہوئے ہیں۔
کردار کہاں مرتے ہیں، چہرے بدلتے ہیں، آج بھی ہماری معاشرت میں قیامت تک کی آنے والی نسلوں کے لیے مال متاع اکٹھا کر کے بھی لوگ مطمئن نہیں ہیں۔ جانتے بوجھتے ہوئے بھی حق کے مخالف ہیں، طاقت کا ناجائز استعمال بے شرمی کے ساتھ کیے دیتے ہیں۔ ساری زندگی دو نمبری اور منافقت میں گزارتے مگر زبان پر مذہب اور شعور کی باتیں، مذہب مذہب کھیلتے ہوئے اکابرین اور ہر بات پر تنقید کرتے ہوئے لوگوں کو پتا نہیں کیا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا آج بھی شیطان کے چیلے، نمرود، شداد، فرعون، قارون، ابو جہل، عبد بن ابی سلول، یزید و شمر ہمیں مختلف لوگوں کی صورت اپنا سفر جاری رکھے ہوئے نظر نہیں آتے۔ مگر آج چلتے لمحے میں حق کو جانتے خیر کو سمجھتے ہوئے بھی باطل اور شر پر اڑے رہنے سے ابو جہل کی روح کو تسکین ملتی ہوگی کہ وہ تو ہلاک ہو گیا مگر اس (ابوجہل) کا سفر جاری ہے۔