tofeeq butt

آہ داغی جی!

کبھی ہم واہ ”باغی جی“ لکھتے تھے۔ آج اپنی اِسی غلطی کا احساس بار بار ہمیں ہوتا ہے۔ انسان غلطیوں سے سبق سیکھتا ہے۔ جو غلطیوں سے سبق نہ سیکھے وہ انسان نہیں داغی جی ہوتا ہے،باغی سے داغی بننے کا سفر بہت ہی ہولناک ہے۔ اِس سفر میں ہمیں کارپوریشن کا کوڑا اُٹھانے والا وہ ٹرک یاد آجاتا ہے جو سڑکوں سے اتنا گند اُٹھاتا نہیں جتنا گزرتے ہوئے ڈالتا جاتا ہے۔ داغی جی نے ہرجگہ گند ڈالا ۔ کبھی اُن کی وجہ سے سیاست اور جمہوریت ہمیں اچھی لگتی تھی، آج اُن کی وجہ سے سیاست اور جمہوریت سے لوگوں کی نفرت انتہا تک پہنچ گئی ہے۔ وہ اب شرمندگی اور بے عزتی کے اُس مقام پر کھڑے ہیں جس مقام پر وہ کھڑے ہیں جن کے ساتھ اب وہ دوبارہ جاکر کھڑے ہوگئے ہیں۔ ”خوب گزرے گی جو مِل بیٹھیں گے دیوانے دو“۔دونوں نے تھوک کر چاٹا۔ یہ فیصلہ وہ خود کریں دونوں میں تھوک کون ہے چاٹا کِس نے ہے؟ عزت آبرو دونوں کو راس نہیں آتی، بے عزتی کا اُنہیں شاید چسکا ہی پڑگیا ہے۔ اِس عمر اور حالات میں دونوں کو سیاست چھوڑ دینی چاہیے تھی۔ اُن کا یہ چسکا مرنے کے بعد بھی شاید ختم نہ ہو، اپنی طرف سے دونوں ”جنتی“ ہیں، مگر انہیں شاید پتہ نہیں الیکشن وہ صرف ”دوزخ“ کا ہی جیت سکتے ہیں، مرحوم جنرل ضیاءالحق وہاں بھی اُنہیں خصوصی مدد فراہم کریں گے۔ کچھ عرصہ پہلے تک داغی جی کی تنہائی اور خاموشی یہ پیغام دے رہی تھی شرافت کی طرح وہ سیاست بھی شاید چھوڑ دیں گے۔ اب دوبارہ نون لیگ میں شامل ہوتے ہوئے انہوں نے یقیناً سوچا ہوگا ”بھاگتے چور کی لنگوٹی سہی“ ….یہ الگ بات ہے ”بھاگتا چور“ لنگوٹی بھی اُن کے لیے نہیں چھوڑے گا۔ عدلیہ اور فوج نے منہ پرے کررکھے ہیں تو اُن کا یہ حوصلہ ہے جو پہلی بار باقاعدہ اُن کی ایک کمزوری بن کر سامنے آرہا ہے۔ جس طرح عدلیہ کو وہ مسلسل تنقید کا نشانہ بنارہا ہے عدلیہ ایک عام یا کسی کمزور آدمی کو اجازت دے سکتی ہے اپنے خلاف آنے والے فیصلوں پر ایسے ہی عدلیہ یا معزز ججوں کو کھلم کھلا وہ برا بھلا کہے؟اتنی ڈھیل اللہ جانے کس ڈیل کے تحت اُسے دی جارہی ہے؟ ….تاحیات نااہل سابق وزیراعظم کی جماعت تیسری بار اقتدار میں آئی یا لائی گئی اُنہیں چاہیے تھا اعلان فرما دیتے میں اب وزیراعظم نہیں بنوں گا ۔ اپنی جماعت کے کسی اہل شخص کو اُنہوں نے وزیراعظم بنایا ہوتا معاملات اِس حدتک ہرگز نہ بگڑتے۔ اپنی جماعت کے کسی اہل شخص کو انہوں نے وزیراعظم شاید اِس لیے نہیں بنایا ہوگا اپنی جماعت میں سب سے زیادہ اہل وہ خود کو خود بخود سمجھتے ہیں۔ اور جتنے وہ اہل ہیں پوری دنیا جانتی ہے۔ جہاں تک ماضی کے ”باغی جی“ اور حال کے”داغی جی“ کا تعلق ہے ہونا یہ چاہیے تھا پی ٹی آئی میں وہ شامل ہی نہ ہوتے۔ پی ٹی آئی میں شمولیت کے بعد اُنہوں نے فرمایا ” نون لیگ میں نے اپنی عزت کے لیے چھوڑی“ ….اب نون لیگ اُنہوں نے شاید اپنی دوبارہ بے عزتی کے لیے جائن کرلی ہے۔ ویسے تو خودنون لیگ عرف خون لیگ کی بھی کوئی عزت اب نہیں رہی، جو تھوڑی بہت تھی داغی جی کی دوبارہ شمولیت سے وہ بھی ختم ہوگئی ہے۔ مگر اس کے سواداغی جی کے پاس کوئی ”چارہ“ ہی شاید نہیں رہا تھا جو وہ ”چرتے“ ۔ کوئی اور جماعت اُن پر اعتماد کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھی ۔ کاش وہ پیچھے مڑکر دیکھ سکتے ہوتے۔ اُن کے بارے میں، میں نے پہلے بھی لکھا تھا جماعتیں چھوڑنے کے وہ اتنے رسیا اور تجربہ کار ہیں اپنی کوئی جماعت بنائیں کچھ عرصے بعد اُسے بھی چھوڑدیں گے۔ نون لیگ نے اُنہیں پورا موقع اور حالات فراہم کیے اُسے چھوڑ کر پی ٹی آئی میں وہ چلے جائیں۔ بلکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے نون لیگ نے ایک خصوصی پیکج طے کرکے خود اُنہیں پی ٹی آئی میں بھجوایا تھا۔ نون لیگ کو یقین تھا ایسے انسان کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے پی ٹی آئی کو نقصان ہی ہوگا۔ اور ایسے ہی ہوا۔ البتہ اس سے نون لیگ کو اچھا خاصا فائدہ ہوا اور یہی وہ چاہتی تھی ،….پی ٹی آئی نے اُنہیں عزت دی، ایسی عزت نون لیگ میں جس کا وہ تصورتک نہیں کرسکتے تھے۔ نون لیگ کے سربراہان عہدے دے دیتے ہیں، مگر دوسروں کو عزت دیتے ہوئے اُنہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اپنی جائیداد میں سے کسی کو وہ حصہ دے رہے ہوں،….افسوس جو عزت داغی جی کو پی ٹی آئی میں مِلی وہ اُس کے مستحق نہیں تھے، ….مجھے یاد ہے نون لیگ چھوڑنے اور پی ٹی آئی جائن کرنے کے بعد پہلی بار پی
ٹی آئی کے کراچی کے جلسے میں وہ آئے، عمران خان جو اُن سے پہلے کراچی پہنچ چکے تھے اُن کی خواہش تھی خود کراچی ایئرپورٹ جاکر اُن کا استقبال کریں، عمران خان اُن کا اتنا ادب اور احترام کرتے تھے کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا تھا وہ اپنی جگہ پی ٹی آئی کا چیئرمین کہیں اُنہیں ہی نہ بنا دیں، شاہ محمود قریشی کی محبت یا ناراضگی اُن کے پیش نظر نہ ہوتی ممکن ہے یہ بھی وہ کر گزرتے ۔ ان کا خیال تھا پی ٹی آئی میں ان کی شمولیت پی ٹی آئی کے لیے بہت بابرکت ثابت ہوگی۔ ان کا کیا ہمارا خیال بھی یہی تھا۔ کراچی کے جلسے میں جو زہر نون لیگ اور نوازشریف کے خلاف اگلنے کی اُنہوں نے ابتداءکی اور دیکھتے ہی دیکھتے انتہا کردی، کم ازکم میں اِس پر خوش اِس لیے نہیں ہوا تھا تھوڑی سی حیا کسی میں ہو، تو جن کے ساتھ چار دن اُس نے اچھے گزارے ہوں، کچھ جائز ناجائز فائدے بھی اُن سے اُٹھائے ہوں اُن کے خلاف ایسی زبان کسی صورت میں وہ استعمال نہیں کرتا۔ داغی جی نے بار بار ثابت کیا کسی کا راز اپنے پیٹ میں وہ نہیں رکھ سکتے۔ حتیٰ کہ ممکن ہے اپنے بارے میں بھی کسی دن اِس ”راز“ سے وہ پردہ اُٹھادیں نون لیگ چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت کن مقاصد کے تحت اُنہوں نے اختیار کی تھی؟ اور پھر پی ٹی آئی اور عمران خان کو گندہ کرنے کا فریضہ کتنا خرچہ لے کر انجام دیا تھا ؟۔….اگلے روز ملک کے ممتاز دلیر ودلبر قلم کار جناب رﺅف کلاسرا نے اپنے معروف ٹی وی پروگرام مقابل میں بھی اسلام آباد کلب میں اُن کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات کا ذکر کیا جس میں، میں اور میرے عزیز چھوٹے بھائی عثمان ڈار بھی موجود تھے، جن کے والد محترم مرحوم امتیاز الدین ڈار اور خود اُنہوں نے بھی کئی برسوں تک داغی جی کے ہرقسم کے خرچے و نازونخرے برداشت کیے۔ مجھے یاد ہے اس موقع پر رﺅف کلاسرانے اُن کی خوب کلاس لی۔ وہ آگے سے آئیں بائیں شائیں ہی کرتے رہے کہ اس عمر میں وہ صرف یہی کرسکتے ہیں۔جناب رﺅف کلاسرا نے اُن کی خدمت میں عرض کیا ”بیگم کلثوم نواز جب خود چل کر آپ کو منانے آگئی تھیں پھر آپ کو نون لیگ نہیں چھوڑنی چاہیے تھی“۔ اس کے جواب میں آگے یا شاید پیچھے سے انہوں نے فرمایا ”نواز شریف کو چاہیے تھا خود منانے آتے“ ….نواز شریف اب بھی اُنہیں منانے نہیں آئے۔ البتہ ہوسکتا ہے سعد رفیق کے ذریعے یہ پیغام انہوں نے بھجوادیا ہو ”آپھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ“ ۔ دعا ہے اللہ ہمارے اس سیاسی مرحوم کو اب مستقل طورپر میاں صاحب کے ”جواردولت “ میں جگہ عطا فرمائے!