nasif awan new

آنکھیں بھیگ بھیگ جاتی ہیں!

یہاں کوئی بھوک سے، کوئی دواؤں کی عدم دستیابی سے، کوئی ذہنی تشدد سے کوئی غموں کے سمندر میں ڈوب کر، کوئی نفرت و عداوت کے گہرے گڑھے میں گرنے سے اور کوئی انصاف کی لغزش سے ہر روز مر رہا ہے؟
کس سے فریاد کریں کس سے منصفی چاہیں کچھ معلوم نہیں۔۔۔؟
ہر کوئی عوام کو عجیب نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔۔۔ کوئی قانون کی شقیں پڑھا رہا ہے اور کوئی آئین کی باریکیاں سمجھا رہا ہے کہ انہیں اپنے کندھوں پر بٹھائے رکھو۔۔۔ ٹھیک!
اس آئین میں اور قانون میں کوئی جینے کی راہ بھی تو دکھائی ہو گی وہ کیوں دکھائی نہیں جاتی، وہ قانون و آئین ہی کیوں بتایا جاتا ہے جو تمہارے مفادات کے تحفظ میں ہے؟
ذہن الجھا اور دل بجھا ہوا ہے!
اس سماج میں کمزوروں، مفلوک الحالوں اور غریبوں کے لیے کچھ نہیں بچا، عزت نہ دولت؟ احتجاج کناں ہیں سب، تڑپ رہے ہیں ماہی بے آب کی مانند۔۔۔ ہر روز کوئی دہلا دینے والا انسانیت سوز واقعہ کوئی سانحہ۔۔۔ وقوع پذیر ہو رہا ہے۔۔۔! خون ہی خون دکھائی دے رہا ہے ہر سمت۔۔۔ خزاں ہی خزاں چھائی ہوئی ہے ہر طرف۔۔۔ بہار کب آئے گی کب یہ موسم درد ناک بدلے گا۔۔۔ کسی کو کچھ علم نہیں۔۔۔ زینب کے ساتھ جو کچھ ہوا بیان سے باہر ہے۔۔۔!
آنکھیں ابھی تک بھیگ بھیگ جا رہی ہیں۔۔۔!
نظام عدل کی بحالی کی بات کی جاتی ہے۔۔۔ اسے تو پچھلے چھے عشروں سے بحال کیا جانا مقصود تھا مگر کسی نے کبھی ایسا کرنے کی فکر نہیں کی۔۔۔ چلیے اب ہی بحال کر دو شاید آنسو بے بسوں کے تھم جائیں۔۔۔ لرزاں و ترساں ڈولتے جسموں میں توانائی آجائے۔ وہ ایک بار تو جی اُٹھیں اور محسوسات کی دنیا میں خود کو بھی ٹٹول سکیں؟ انہیں یہ یقین ہو جائے کہ ان کا کوئی مقام ہے کوئی احترام ہے اور کوئی درجہ ہے، مگر نہیں انہیں تسلیم کبھی نہیں کیا گیا اب بھی نہیں کیا جا رہا۔۔۔! انہیں حقیر قرار دیا جا رہا ہے۔۔۔ یہ اہل زر یہ اہل اقتدار ان محنت کشوں کو، ان بلند و بالا عمارتیں کھڑی کرنے والوں کو انسان نہیں جانور تصور کرتے ہیں کہ بھلا انہیں کیا شعور زندگی کی رعنائیوں کا۔۔۔ آسائشوں کا اور لطافتوں کا۔۔۔ اس کا ادراک و فہم فقط انہیں ہے۔۔۔ نہیں ایسا نہیں جو ہاتھ تمہارے لیے یہ سب اپنا پسینہ بہا کر تیار کرتے ہیں انہیں سب پتا ہے مگر وہ اس قابل سمجھے جائیں تو۔۔۔؟
کہا جا رہا ہے کہ کچھ تبدیلی کے دعویداروں کی طرف سے کہ وہ یہ اس اداس اور سہمے گلستاں میں بہاریں لے آئیں گے۔۔۔ کسی کے چہرے پر زردی کا نشان باقی نہیں رہے گا۔۔۔ وہ کھل اٹھے گا۔۔۔ فضائیں مہک اٹھیں گی اور ماحول میں تازگی کا احساس ہو گا۔۔۔؟
کیسے مان لیں کہ وہ ایسا کر دکھائیں گے۔۔۔ ان کو ایسا کرنے دیا جائے گا۔۔۔ ان کے ہمقدم تو وہی ہیں جو مزدوروں کی مزدوری دیتے ہوئے بھی سو بار سوچتے ہیں پھر وہ ان کا معاوضہ کب پورا دیتے ہیں۔۔۔ کہ غلاموں کو ان بے کسوں کو اور مجبوروں کو کیا ضرورت ہو سکتی ہے۔۔۔ ان کے بچے اور یہ خود جتنا ملتا ہے اس میں اپنی گزر بسر کر سکتے ہیں۔۔۔؟ ستم ڈھایا جا رہا ہے طویل عرصے سے ان لوگوں پر۔۔۔ مگر کبھی بھی کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ آخر ان کے سینے میں دل دھڑکتے ہیں۔۔۔ آنکھوں میں کچھ خواب بھی ہیں۔۔۔ ذہنوں میں کچھ خیالات بھی ہیں۔۔۔ جو بلندیوں کو چھو کر آگے نکل جاتے ہیں مگر وہ انہیں مجسم کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔۔۔ لہٰذا چکنا چور خوابوں کو پلکوں پے سجائے رہتے ہیں۔۔۔!
یہاں پر کمزور کو ایک تماشا بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔۔۔ اس کی بہو بیٹیوں اور بیٹوں کو عزت و تکریم ہی سے محروم کر دیا گیا ہے۔۔۔ مگر کب تک ایسا ہوتا رہے گا۔۔۔ کب تک وہ عفت و عصمت لٹواتا رہے گا۔۔۔ آخر کار اسے اس خوف کو اپنے اندر سے جدا کر لینا ہے اور جب خوف علیحدہ ہوتا ہے تو دل و دماغ میں طوفان برپا ہو جاتے ہیں، حصول حقوق کی آندھیاں چل پڑتی ہیں۔۔۔ پھر لاٹھی نہ گولی کچھ کام نہیں آتے۔۔۔!
جذبات کی دنیا ہی الگ ہوتی ہے۔۔۔ سوچوں کے سمندر کی متلاطم موجیں کسی کو نہیں پہچانتیں بہالے جاتی ہیں جو ان کے سامنے آتا ہے۔۔۔ لگتا ہے ایسا کچھ ہونے والا ہے کیونکہ ظلم بڑھ گیا ہے۔۔۔ عصمتیں پامال ہونے لگی ہیں۔۔۔ جن کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اہل اقتدار و اختیار کے آنسو نہیں نکل رہے۔۔۔ نکلیں گے بھی کیسے جب ان کی نظر میں کوئی اہم نہیں ۔۔۔ لہٰذا کوئی دلخراش واقعہ پورے ملک میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔۔۔ اگرچہ انقلابوں کے لیے کچھ عرصہ کچھ تیاری لازمی ہوتی ہے مگر پھر بھی لوگ بپھر سکتے ہیں کہ وہ مان گئے ہیں۔۔۔ ان پر چند فیصد لوگ ہیں جو ان کے حصے کا رزق ہڑپ کر رہے ہیں۔۔۔ انہیں اب تک انصاف دینے میں ناکام رہے ہیں۔۔۔ ہمیشہ انہیں پستیوں کی طرف دھکیلتے رہے ہیں۔۔۔ لہٰذا اب ان کے لیے خاموش رہنا ممکن نہیں رہا۔۔۔ ان کے بچوں کا مستقبل تاریک سے تاریک تر ہوتا جا رہا ہے۔۔۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ابھی تک انہیں وہ سہولتیں وہ آسائشیں کیوں میسر نہیں جو امراء و اشرافیہ کو ہیں۔۔۔ کیا وہ باصلاحیت نہیں، کیا انہیں پت جھڑ اور بہار کے فرق کا معلوم نہیں۔۔۔؟
مجھے ڈر ہے کہ جب عوامی دھاوے بولیں جانے لگیں گے تو استحصالیوں کو کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی۔۔۔ پھر کون تہذیب یافتہ ہے اور کون نہیں، کون اس دھرتی کا اصل وارث ہے، کون ہے جو اس مٹی میں سے سونا نکالتا ہے اور کون ہے جس کا ضمیر اندھیرے میں رہ کر بھی روشن ہے ،اس کا فیصلہ ہو جائے گا!