hafiz idrees

آقائے دوجہاںؐ اور بندۂ بے نوا!

نبئ مہربان صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت ایمان کا تقاضا اور رضائے الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اتنی ارفع و اعلیٰ ہے کہ پوری کائنات میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ آپ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام نعمتیں مکمل کر دیں۔ آپؐ انبیاء و رسلؑ کے سردار ہیں۔ آپؐ پر نبوت کی تکمیل ہوئی۔ اب تاروز قیامت نہ کوئی نبی آئے گا، نہ کتاب۔ آپ ؐہی کی کتاب اور آپؐ ہی کی نبوت پوری انسانیت کے لیے روشنی کا منبع ہے۔ آپؐ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ مستند حوالوں کے ساتھ محفوظ ہے۔ آپؐ ناخن کیسے کاٹتے تھے، یہ بھی راویانِ حدیث نے محفوظ کر دیا ہے۔ آپؐ کے بچپن سے لے کر آخری لمحے تک بلکہ آپؐ کی پیدائش سے قبل کے واقعات بھی جو آپؐ کی عظمتوں کی نشاندہی کرتے ہیں، تاریخ اور حدیث کی کتابوں میں پوری جُزرسی کے ساتھ محفوظ ہیں۔
آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات تاریخِ انبیا ورسلؑ کا اہم ترین باب ہیں۔ یہ معجزات عملاً تو آپؐ کی بعثت کے بعد ہی ظہور پذیر ہوئے، مگر آپؐ کی پیدایش بلکہ پیدایش سے بھی قبل آپؐ کی دنیا میں آمد اور آپ کی غیرمعمولی شخصیت کے متعلق بے شمار واقعات اہلِ دنیا نے دیکھے۔ یہ سبھی سیرت وتاریخ کی کتب میں موجود ہیں۔ مکی دور کی حیات طیبہ میں ان میں چند ایک ہی کا احاطہ ممکن ہوسکا، اگرچہ ان میں سے ہر واقعہ ایک عظیم شہادت ہے کہ سید الرسل، خاتم النبیینؐ کی آمد سے قبل کائنات میں جگہ جگہ ان کی آمد کی نشانیاں رونما ہورہی تھیں۔
حسنِ یوسفؑ ، دمِ عیسیؑ ٰ، یدِ بیضاداری
آنچہ خوباں ہمہ دارند ، تو تنہاداری
آپؐ کے والد جناب عبداللہ بن عبدالمطلب کے متعلق یہ بات تاریخ کے اوراق میں ضوفشاں ہے کہ ان کی پیشانی اور چہرے پر ایک غیرمعمولی نور تھا جس کی چمک عرب کی دوشیزاؤں کو خیرہ ومسحور کردیتی تھی۔ ختمی مرتبت کے والد گرامی قدر کو جب بھی کسی عورت نے غلط کام کی دعوت دی تو انہوں نے دو ٹوک انداز میں اس کا انکار فرمادیا۔ شادی کے بعد جب اپنی اہلیہ کے پاس گئے تو اگلے دن عورتوں نے ان کے چہرے اور پیشانی کے ظاہری حسن وجمال کے باوجود روشنی کی وہ چمک غائب پائی۔ نورمبین جو پشت درپشت چلا آرہا تھا، اب بطنِ مادر میں منتقل ہوچکا تھا۔ اس عرصے میں سیدہ آمنہ نے بے شمار خرق عادت امور کا مشاہدہ کیا۔ یہ واقعات کسی حد تک ہم نے اپنی کتاب ’’رسول رحمت کی مکی زندگی‘‘ میں مدوّن کیے ہیں۔
اس احقر العباد نے جب ہوش سنبھالا تو سب سے پہلے اللہ اور اللہ کے رسولؐ کا نام زبان پر آیا۔ یہ والدین کی تربیت اور گھر کے ماحول کا اثر تھا۔ جوں جوں شعور حاصل ہوتا گیا، آنحضورؐ کی حیاتِ طیبہ کے واقعات سننے کی سعادت حاصل ہوتی رہی۔ آنحضورؐ کی حیاتِ طیبہ
کے بارے میں میری ابتدائی معلومات سماعی ہیں۔ میں اس وقت نہ لکھنا جانتا تھا، نہ پڑھنا۔ عمر یہی کوئی چار، پانچ سال ہوگی۔ تایا جان مرحوم کی زبانی ہر مجلس میں آنحضورؐ کا تذکرہ سننے کو ملتا تو جی چاہتا کہ کبھی ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کی قدم بوسی کروں۔ وقت گزرتا گیا حفظ قرآن کی تکمیل ہوئی اور اس عرصے میں یہ سماعی معلومات بڑھتی رہیں۔ یہ اللہ کا خاص احسان ہے کہ دیگر واقعات میں اکثر بھول جاتا تھا، مگر آنحضورؐ اور آپؐ کے صحابہ کرامؓ کے بارے میں سنے ہوئے واقعات ناموں کے ساتھ یاد رہ جاتے تھے۔ جب سکول میں داخل ہوا اور اردو پڑھنے کی مہارت حاصل ہوئی تو ابھی پرائمری ہی میں تھا کہ آنحضورؐ کی سیرت سے متعلق اردو کتابیں پڑھنے لگا۔ بعض اوقات گرمیوں کی دوپہروں میں رحمۃ اللعالمینؐ کے چالیس پچاس صفحات پورے غور وخوض کے ساتھ پڑھتا۔ اگر کسی بات کی سمجھ نہ آتی تو بزرگوں سے پوچھتا۔ وہ اس بات پر خوش ہوتے اور رہنمائی دیتے۔
اسی عرصے میں جب میں بہت چھوٹا تھا تو تایا جان نے حکم دیا کہ مسجد میں خطاب کیا کروں۔ میں نے کیا خطاب کرنا تھا، بس یہ ان کی ہدایت تھی، جس کی تعمیل کے لیے میں نے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔ پنجابی زبان میں دس پندرہ منٹ گفتگو کرتا اور لوگ توجہ سے سنتے۔ گفتگو کے بعد جہاں جہاں میری زبان لڑکھڑائی ہوتی یا میں کسی واقعہ کو اس کے صحیح تناظر میں بیان نہ کر پاتا تو اس کی تصحیح کی جاتی۔ یہ دراصل تربیت کا وہ پہلو تھا ، جس کی اہمیت بہت بعد میں مجھے معلوم ہوئی۔ رحمۃ للعالمینؐ کی پہلی جلد بار بار پڑھنے کے بعد سیرت پر حضرت مولانا نعیم صدیقی مرحوم کی کتاب محسنِ انسانیت میری رہنمائی کا ذریعہ بنی۔ اس کتاب کو پڑھنے کے دوران میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں بھی اپنے آقاؐ کی سیرت پر کچھ لکھ سکوں۔ میں اپنے آپ سے خود ہی کہتا کہ یہ خواہش تو اچھی ہے مگر ’’کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ‘‘! بہرحال یہ میں اپنی دل کی کیفیتیں بلاتکلف عرض کر رہا ہوں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کوئی خواب ہے یا حقیقت، تو عرض ہے کہ آپ خواب بھی سمجھ سکتے ہیں جس کی تعبیر محض اللہ کی خصوصی رحمت اور مخلص احباب اور والدین مرحومین کی دعاؤں سے ممکن ہوسکی۔
کالج اور یونیورسٹی کے زمانے میں مولانا شبلی نعمانی اور مولانا سید سلیمان ندوی کی کتاب سیرت النبیؐ تفصیلاً پڑھنے کا موقع ملا۔ جب یونیورسٹی ہاسٹل میں تھا تو اکثر راتوں میں بیشتر وقت سیرت کی ورق گردانی میں گزر جاتا۔ سیرتِ آقائے دوجہاںؐ پر کچھ لکھنے سے پہلے سوچا کہ آنحضورؐ کے صحابہ پر مضامین لکھنے سے آغاز کیا جائے۔ پہلا مضمون حضرت زید بن حارثہؓ پر لکھا۔ یہ ہفت روزہ ’’آئین‘‘ میں چھپا اور ’’آئین‘‘ کے مدیر، مرد درویش جناب مظفر بیگ صاحبؒ نے مربیانہ شفقت کے ساتھ حوصلہ افزائی کی کہ یہ سلسلہ بہت ایمان افروز ہوگا، اسے جاری رکھا جائے۔ ان کی ترغیب پر جو مضامین کا سلسلہ شروع ہوا ، وہ میری پہلی کتاب ’’روشنی کے مینار‘‘ کی صورت میں منظر عام پر آیا۔ اس کے بعد مختلف موضوعات پر کچھ نہ کچھ لکھا، لیکن دل میں ہمیشہ خواہش یہی تھی کہ کچھ ٹوٹی پھوٹی کاوش کرکے اس جماعت میں شامل ہوجاؤں، جو روز قیامت آنحضورؐ کے سیرت نگاروں اور مدح خوانوں پر مشتمل ہوگی۔
کام بڑا نازک اور مشکل تھا۔ عشق اپنی جگہ مگر احترام کے تقاضے اتنے عظیم اور نازک کہ سوچتا کہیں لغزش نہ کرجاؤں۔ بہرحال اللہ نے دل میں یہ بات ڈالی کہ نیت صاف اور پیش نظر اللہ کی رضا رکھو تو اللہ کی رحمت سے بعید نہیں کہ مصر کی اس خاتون کی طرح جو سوت کی اٹی لے کر خریدارانِ یوسفؑ میں شامل ہوگئی تھی، تم بھی عاشقانِ رسولؐ کی صف میں شمار ہوجاؤ۔ اپنے ذوق کے مطابق پہلے آنحضورؐ کی حیاتِ طیبہ کے جہادی پہلو پر قلم اٹھایا ۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکرہے کہ پہلی جلد20؍ مئی 1991ء کو منظر عام پر آئی اور پانچویں جلد دسمبر 2015 ء میں طبع ہوئی۔ یوں یہ کام ربع صدی میں دیگر مصروفیات کے ساتھ ساتھ پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ الحمد للہ علی ذلک۔
میں نے پانچویں جلد کی تکمیل پر اپنی اس تمنا کا ذکر کیا تھا کہ اللہ نے توفیق دی تو مکی دور پر بھی کچھ لکھوں۔ جلد پنجم میں عرض مصنف کے تحت میں نے بیم و رجا کے عالم میں لکھا تھا :’’اب دل کے اندر ایک آرزو ہے کہ ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی حیات طیبہ پر مختصر انداز میں ایک ہی جلد میں سب اہم واقعات مرتب کردوں۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ یہ آرزو پوری ہوسکے گی یا نہیں۔ احباب سے دعاؤں کی درخواست ہے۔ اللہ کرے میری یہ کاوش جو مدنی دور کے بارے میں کی گئی ہے، رب العزت کی بارگاہِ عالیہ اور حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دربارِ اقدس میں قبول فرمالی جائے۔ یہی اصل کامیابی ہوگی۔ وَمَاذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ۔ وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم۔‘‘
اللہ کا نام لے کر 2016ء کے وسط میں کام کا آغاز کر دیا۔ جسمانی و ذہنی کمزوری اور بے پناہ دیگر مصروفیات کے درمیان جو بھی وقت نکلتا، اسے اسی کام کے لیے وقف کردیا۔ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مآخذ قرآن مجید، حدیث مبارکہ اور سیرت کی کتابوں کی ورق گردانی کی تو بچپن میں سنے ہوئے واقعات کا منظر بھی تازہ ہوتا رہا۔ سیرت کی تمام امہات، سیرت ابن ہشام، طبقات ابن سعد، البدایۃ والنہایۃ، طبری، اسد الغابہ، الاصابۃ، زاد المعاد، سیرت الحلبیہ، سیرت النبیؐ (شبلی نعمانی وسید سلیمان ندوی)، رحمۃ اللعالمین اور دیگر کتب کی ورق گردانی میں بہت محنت صرف کرنا پڑی۔ مگر ہر قدم پر ایک عجیب لطف محسوس ہوتا، کیوں کہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے متعلقہ ہر واقعہ ایمان کی بالیدگی کا ذریعہ بنتا رہا۔