mian-imran-ahmad

آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس

48سال قبل 25 ستمبر 1969ء کو موروکو کے دارالحکومت ر باط میں مسلمانوں کی سب سے بڑی اور دنیا کی دوسری بڑی تنظیم ”آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس”کی بنیاد رکھی گئی۔ مسلم مماملک کو اس تنظیم کی ضرورت 21 اگست 1969ء کو اسرائیل کے القدس میں مسجدالقصی پر کیے گئے حملے کے بعدمحسوس ہوئی۔ اس تنظیم کا قیام مسلم اُمّہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا پہلا قدم تھا۔ مارچ 1970ء میں اس تنظیم نے ایک منظم شکل اختیار کی۔ جدہ میں اس کا سیکرٹیریٹ بنایا گیا، سیکرٹری جزل منتخب کیا گیا اور سیکرٹری جزل کو اس کا سربراہ بنا دیا گیا۔دو سال بعد اس کے چارٹر میں اظہار کیا گیا کہ او آئی سی کا مقصد مسلم ممالک کے درمیان ہر شعبے میں تعان کو فروغ دینا اور ان کے مابین دوستی کو مظبوط کرنا ہے۔ لیکن آج اڑتالیس سال بعد او آئی سی کہاں کھڑی ہے اور مسلم دنیا نے اس سے کیا فائدہ اٹھایا ہے؟ آئیے ان سوالات کا جائزہ لیتے ہیں۔ او آئی سی ممالک
اس وقت دنیا کی مکمل آبادی کا چوبیس فیصد ہیں۔ دنیا میں تیل اور گیس کے ذخائر کا 75 فیصد مسلم ممالک کے پاس ہے جبکہ امریکہ کے پاس تیل اور گیس کے صرف 2 فیصد ذخائر ہیں اور مغربی ممالک کے پاس صرف 4 فیصد ذخائر ہیں۔ لیکن مسلم ممالک کا جی ڈی پی پوری دنیا کے جی ڈی پی کا صرف 8 فیصد ہے۔او آئی سی ممالک کے25 فیصد عوام پینے کے صاف پانی اور طبعی سہولتوں سے محروم ہیں۔کوئی بھی مسلم ملک ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس اور گلوبل اکنامک انڈیکر کے ٹاپ لسٹ میں نہیں ہے۔ مسلمانوں کی یہ مایوس کن صورتحال صرف اکنامک یا سماجی شعبوں میں نہیں ہے بلکہ ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں بھی صورتحال پستی کا شکار ہے۔ او آئی سی ممالک سالانہ 500 PHD پیدا کرتے ہیں۔ جبکہ صرف انڈیا ہر سال 5000 اور برطانیہ ہر سال 7000 PHD پیدا کرتا ہے۔او آئی سی ممالک میں تعلیم اور ریسرچ کے شعبے میں کوئی بھی ایک ملک دنیا کے پہلے100اداروں میں شامل نہیں ہے۔ 2003ء میں ملائیشیا میں مہاتیر محمد کی قیادت میں ہونے والے او آئی سی کے اجلا س میں او آئی سی کی ناکامیوں کا دل کھول کر اعتراف کیا گیا۔اس اجلاس میں مسلم ممالک میں سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، جمہوریت کی کمی اور عوام کی نمائندہ جماعتوں کواقتدار سے دور رکھنے کو او آئی سی کے غیر فعال ہونے کا ذمہ دار ٹھرایا گیا۔ اس اجلاس میں اوآئی سی کی تشکیل نوع اور نئی حکمت عملی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا گیا ۔ اس کمیشن نے سفارشات مرتب کیں۔ ان سفارشات کی جانچ پڑتال کے لیے دسمبر 2005ء کو مکہ میں ایک خصوصی اجلاس بلایا گیا ۔مکہ اجلاس میں او آئی سی کی پچھلے سالوں کی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی۔ بنیادی مسائل کو اجاگر کیا گیا۔ ان مسائل کے حل کے لیے حکمت عملی تیار کی گئی۔تمام فرقوں کو اپنے فرقے سے ہٹ کر ایک مسلمان بننے پر زور دیا گیا۔مسلمانوں کودنیا میں اپنا لوہا منوانے کے لیے بلندوبالا دعوے کیے گئے او ران تمام حقائق کے پیش نظر او آئی سی کی ترقی کا دس سالہ منصوبہ پیش کر دیا گیا۔ اس منصو بے کو مکہ ڈیکلریشن کا نام دیا گیا۔مکہ ڈیکلریشن میں دقیانوسی سوچ کو پس پشت ڈال کر تازہ سوچ اور جدید حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس ڈیکلریشن نے ممبر ممالک کو گڈ گورنس پر فوکس کرنے، قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے، انسانی حقوق کی حفاظت کرنے، سماجی انصاف کوعملی جامہ پہنانے، کرپشن کے خلاف جنگ کرنے اور سول سوسائٹی کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔
لیکن یہ دس سالہ منصوبہ کچرے کا ڈھیر ثابت ہوا۔ یہ منصوبہ کتابوں کی حد تک بہت لمبا چوڑاتھا لیکن عملی طور پر ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ سکا۔اس کی سب سے بڑی وجہ تیل سے مالا مال ممالک کی ا قتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش اور امریکی لابی کا مضبوط ہونا تھا۔ آج او آئی سی کے ممبرممالک کی تعداد 57ہے اور ان ممالک کے مسائل کے حل کے لیے دس سے زیادہ اجلاس بلائے جا چکے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب سے او آئی سی وجود میں آئی ہے مسلم ممالک سینکڑوں حادثات کا شکار ہو چکے ہیں لیکن او آئی سی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ہے۔ 1971ء میں انڈیا نے پاکستان پر حملہ کر کے اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ 1982ء میں اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا۔ ایران عراق جنگ کروائی گئی۔سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا۔امریکہ نے عراق کے تیل پر قبضہ کیا۔شام میں کیمیائی حملے کیے گئے اور آج برما میں مسلمانوں کو گاجر مولی کے طرح کاٹا جا رہا ہے لیکن او آئی سی ان تمام معاملات پر کوئی بھی مثبت کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ میری او آئی سی ممالک سے گزارش ہے کہ وہ ایک قراداد پیش کریں اور اس تنظیم کو ختم کر دیں تا کہ پوری دنیا کے مسلمان او آئی سی کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنا قبلہ درست کریں اور ایک ایسی تنظیم بنا سکیں جو حقیقی معنوں میں مسلم دنیا کی نمائندہ ہواور اس تنظیم کی تشکیل کے لیے میں چند تجاویز آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ اس نئی تنظیم میں ایک ایسا مستحکم نظام بنایا جائے جو ممبر ممالک کے مابین غلط فہمیاں پیدا ہونے سے روکے ۔ اگر کوئی تضاد پیدا ہو جائے تو اسے بلا تفریق رنگ ونسل قران اور سنت کی روشنی میں حل کرے اور اس ادارے کا سربراہ ووٹنگ سسٹم کے تحت چنا جائے۔ سا ئنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کے لیے ایک ”مسلمز نیٹ ورک سنٹر آف ایکسیلنس ان سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ” کے نام سے ترکی میں ایک سنٹر بنایا جائے جہاں پوری دنیاکے مسلم نوبل انعام یافتہ لوگوں اور ناسا میں کام کرنے والے سائنس دانوں کو بھاری تنخواہوں پر
ریکروٹ کیا جائے ۔انھیں پوری دنیا میں ہیرو بنا کر پیش کیا جائے ا وران کی ایجادات اور ریسرچز کوانٹرنیشنل میڈیا میں پھیلایا جائے۔ ”فورم آف اسلامک تھاٹ” کے نام سے ایک مستقل اسلامک سنٹر بنایا جائے جہاں تمام فقہ کے لوگ اکٹھے ہوں اور اپنے مسائل کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنے کی مثبت کوشش کریں۔اسلامک ٹریڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے نام سے ایک سنٹر بنایا جائے جو منظم اور مضبوط حکمت عملی کے ذریعے مسلم ممالک کے مابین تجارت کو آسان شرائط پر یقینی بنائے ۔اس ادارے کے تحت ایک عالمی بینک تشکیل دیا جائے جو ضرورت پڑنے پر کسی بھی اسلامی ملک کو سود کے بغیر قرض دے سکے۔ اس ادارے کے تحت ایک عالمی اسلامی فوج تیار کی جائے جو وقت آنے پر مسلمانوں کے تحفظ کے لیے جنگ لڑ سکے۔اور اس ادارے کے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خصوصی فنڈ قائم کیا جائے جس میں تمام ممبر ممالک اپنے جی ڈی پی کا 0.5 فیصد دینے کے پابند ہوں۔ اس فنڈ کا ہر تین ماہ بعد آڈٹ ہو جس کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے۔
نوٹ: ان تجاویز کو کس طرح عملی شکل دی جا سکتی ہے اس حوالے سے بھی مکمل حکمت عملی موجود ہے۔