hafiz shafique ur rehman

آرمی چیف کی دبنگ للکار

یاد رہے کہ 2007ء میں امریکی بحریہ کے سر براہ ایڈمرل مائیکل جی ملن نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں اعتراف کیا کہ ’ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارامضبوط اتحادی ہے‘۔ تاہم دوسری طرف امریکی بحریہ کے سر براہ یہ بتا کر امریکی اور مغربی عوام کو بالخصوص مزید دہشت زدہ کر رہے تھے کہ’ القاعدہ اب بھی امریکی بحری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اہلیت رکھتی ہے‘۔ ان دنوں ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف بین الاقوامی جنگ‘‘ کے سالانہ مصارف ابتداء میں فی ملک 72 ارب ڈالر بتائے جا رہے تھے۔ بعد ازاں ان مصارف میں قابلِ ذکر اضافہ ہوا۔ درمیان میں ا س جنگ کی وجہ سے امریکا کے سالانہ میزانیوں کو خسارے کے دھچکوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ مالی و اقتصادی نقصان کے علاوہ سب سے بڑا نقصان افغانستان اور عراق میں امریکا اور اُس کے اتحادی ممالک کی افواج کے حوصلوں کا پست ہونا اور افغانستان اور عراق سے فرار اختیار کرنے کے لئے ان میں سے بعض کا خود کشیوں تک کا ارتکاب کرنا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اکتوبر 2001 ء سے امریکیوں نے دنیا کے دو مسلم ممالک افغانستان اور عراق میں جو جنگ جدید ، مہلک اوروسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ممنوعہ ہتھیاروں سے شروع کی تھی ، مارچ 2007ء میں ساڑھے 6 سال گزر چکنے کے باوجود وہ اُس میں خاطر خواہ کامیابی کیوں حاصل نہیں کی جا سکی۔
امریکی بحریہ کے سر براہ کا یہ بیان اس لحاظ سے واقعتا انتہائی اہم تھا کہ امریکی افواج میں امریکی بحریہ کو ہمیشہ برتری حاصل رہی ہے۔ امریکا کو دنیا کی تنہا عالمی طاقت بنانے میں امریکی بحریہ کی نگرانی میں دنیا بھر کے سمندروں میں رواں دواں امریکی بحری بیڑوں کاکلیدی کردار رہا ہے۔ دنیا کا ہرذی شعور شہری جانتا ہے کہ امریکی بحری بیڑے دنیا کے کمزور ممالک کے لیے خوف اور دہشت کا استعارہ ہیں۔ جب بھی دنیا کے کسی خطے میں امریکہ کسی ملک کو خائف اور ہراساں کرنا چاہتا ہے، امریکی بحری بیڑے اس ملک کی جغرافیائی حدود کے قریب واقع سمندری علاقوں میں مٹر گشت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کسی بھی بر اعظم کے سمندری علاقوں میں امریکی بحری بیڑوں کی یہ مٹر گشت سرد جنگ کے دنوں سے اب تک خطرے کی علامت تصور کی جاتی ہے ۔ امریکی حکام مخصوص مفادات کے حصول کے لیے جن ممالک پر حملہ آور ہو نا چاہتے ہیں، انہیں سب سے پہلے اس امر کی دھمکی دیتے ہیں کہ ان کا فلاں بحری بیڑا فلاں سمندری حدود میں پہنچ چکا ہے، جہاں سے وہ امریکہ اور امریکی عوام کے لیے خطرہ بننے کی اہلیت رکھنے والے ملک کوفضائی بالادستی کے زور پر بآسانی نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس تناظر میں غیر جانبدار مبصرین بلا تامل یہ قرار دیتے ہیں کہ امریکی بحری بیڑے عالمی سکیورٹی کیلئے ہر دور میں مسائل پیدا کرنے کا موجب بنے ہیں اور بنتے رہیں گے۔
امریکی بحری بیڑوں کے حوالے سے یہ یاد رہے کہ یہ کئی ہزار میٹر پر پھیلی سمندری سطح پر چلتی پھرتی اور فراٹے بھرتی میکانکی چھاؤنیاں ہیں۔ ان چھاؤنیوں میں غیر روایتی ، جراثیمی، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے وسیع و عریض گوداموں کے علاوہ ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک مار کرنے والے سیٹلائٹ گائیڈڈ میزائلوں کے وار ہیڈز بھی نصب ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس جنت ارضی کے لیے امریکی بحری بیڑے گرم پانیوں میں رواں دواں جہنم ہیں۔ ان بحری بیڑوں کی قیادت اور سیادت کرنے والا امریکی بحریہ کا سر براہ جب کسی بھی تنظیم یا ملک کے بارے یہ کہتا ہے کہ وہ اُس کی بحری تنصیبات کو ٹارگٹ کر سکتے ہیں تو اس کا صریح مطلب یہ ہوتا ہے کہ امریکہ ہمہ جہتی اسلحہ اور افواج کی بالادستی کے باوجود اپنی شناخت اور قومی تشخص کے تحفظ کیلئے ڈٹ جانے پرُ مصِر کسی بھی تنظیم اور ملک کیلئے نا قابل تسخیر نہیں ۔ اس تمہید کا بنیادی مقصد آپ کو یہ بتانا تھا کہ امریکی جنگوں کے آرکیٹیکٹ مارچ 2007 ء ہی میں طے کرچکے تھے کہ امریکی اس خطے میں اکتوبر2017 ء کے بعد بھی جنگ کا الاؤ روشن رکھیں گے۔ ملاحظہ کیجئے امریکی ایڈمرل مائیکل جی ملن کا یہ فرمان جو انہوں نے مارچ 2007 ء میں جاری کیاتھا ’’ہمارے لئے اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کو مزید ایک دہائی تک جاری رکھا جائے، اسے دیر ینہ حکمت عملی کے تحت ہی جاری رکھا جا سکتا ہے‘‘۔ میں آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ امریکہ نے جب افغانستان پر جنگ مسلط کی تھی تو ان دنوں امریکی صدر جارج بش نے یہ کہا تھا کہ’’ یہ جنگ چند ہفتوں یا چند مہینوں کے لیے شروع نہیں کی گئی بلکہ یہ ایک دہائی تک جاری رہے گی‘‘۔ امریکی صدر بش کے بیان کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ انہیں یقین تھا کہ وہ افغانستان پر قابض امریکی اور نیٹو افواج کی قوت قاہرہ استعمال کر کے اکتوبر2011ء تک افغانستان میں متحرک مقامی آبادی کے مزاحمت کاروں کو مکمل طور پر پسپا ہونے پر مجبور کردیں گے۔ امریکی تھنک ٹینکس بھی ان دنوں قطعیت کے ساتھ یہی پراپیگنڈا کر رہے تھے۔ ان کے برعکس امریکی بحریہ کے سربراہ کو ادراک تھا امریکی افغان جنگ کی دلدل سے اکتوبر 2017ء کے بعد بھی نکلنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
یہ امر لائق توجہ ہے کہ 21اگست2017 ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں افغانستان بارے پاکستان مخالف سخت گیر اور بھارت نواز سرپرستانہ پالیسی کا اعلان کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے پاکستان کو دھمکی آمیز لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے امریکہ سے تعاون کرنے، بصورت دیگر نقصان کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنے کا غیر منصفانہ جواب دیا۔ اسی سانس میں موصوف نے بھارت کو افغانستان میں کلیدی کردار تفویض کرنے کا ذکر طمانیت سے بھرپور لہجے میں کیا اور کہا کہ اس ملک نے امریکہ کے ساتھ تجارت میں اربوں ڈالر کا فائدہ اُٹھایا ہے لہٰذا اُسے ہمارے ساتھ مل کر افغانستان کی معاشی ترقی میں زیادہ اہم اور بڑا کردار ادا کرنا چاہئے۔ ٹرمپ نے یہ بھی واضح کر دیا کہ وہ اپنے پیش رو باراک اوبامہ کی پالیسیوں کے برعکس افغانستان میں غیر معینہ مدت کے لیے رہنا چاہتے ہیں۔ امریکی صدر نے بین السطو ر باراک اوباما کی پالیسی ’مذمت ‘ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے عراق سے نکل کر غلطی کی تھی، عراق سے ہماری افواج کے انخلاء کے بعد داعش غالب آ گئی، افغانستان میں ایسا نہیں ہونے دیں گے اور داعش جو یہاں رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اس کا صفایا کردیا جائے گا‘۔ ٹرمپ کی اس تقریر کا 4 نکاتی خلاصہ یہی ہے کہ(1) امریکہ کا اصل نشانہ پاکستان ہے۔ (2) ٹرمپ انتظامیہ دہشت گردی کو جواز بناکر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنا چاہتی ہے(3) امریکا پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے پرخاش رکھتا ہے اور حیلوں بہانوں سے اس محدود اور پرامن ایٹمی پروگرام اور ایٹمی تنصیبات پر کڑی معاندانہ نگاہ رکھے ہوئے ہے۔(4) ٹرمپ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو افغانستان میں کہیں زیادہ اثرورسوخ کا مالک بناکر اسے خطے کا امریکی تھانیدار بنانا چاہتا ہے۔
اس تناظر میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ یوم دفاع کے موقع پر جی ایچ کیو میں مرکزی تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید با جو ہ نے کمال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جو کچھ کہا اہالیان پاکستان اس کے حرف حرف کی توثیق کرتے ہیں۔ پاک افواج کے سپہ سالار نے درست کہا تھا کہ’ پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو دور کرنا ہو گا، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں لیکن ان قربانیوں کے باوجود کہا جارہا ہے کہ ہم نے بلا تفریق کارروائی نہیں کی، دہشت گردی کے خلاف اتنی بڑی کامیابی صرف پاکستان کا ہی کمال ہے اور ہم اس مسلط کردہ جنگ کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پاکستان امن کا گہوارہ نہ بن جائے ، آپریشن شیر دل سے راہ راست ، راہ نجات ، ضرب عضب اور اب ردالفساد تک ہم نے ایک ایک انچ کی قیمت اپنے لہو سے ادا کی ہے‘۔ انہوں نے دبنگ لہجے میں دشمنان پاکستان کو للکارتے ہوئے کہاکہ ’عالمی طاقتیں ہاتھ مضبوط نہیں کر سکتیں تو اپنی ناکامیوں کا ذمے دار بھی ہمیں نہ ٹھہرائیں، ہم نے بہت ڈ و مور کرلیا اب دنیا ڈ و مور کرے، امریکہ سے امداد نہیں باعزت تعلقات چاہتے ہیں،ہم نے افغانستان کو بھی اپنی بساط سے بڑھ کر سہارا دینے کی کوشش کی لیکن ہم افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑ سکتے، ہم اس جنگ کا حصہ نہیں بن سکتے تاہم ہم یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ مکمل غیر جانبداری کے لئے افغان مہاجرین کی جلد اور باعزت واپسی میں مدد کریں اور اپنے بارڈر کی مکمل حفاظت کریں،ہم دوسروں سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ جن دہشتگردوں نے مغربی سرحد کے پار پناہ لے رکھی ہے، ان کے خلاف جلد اور موثر اقدام ہوں گے ، یہ ہماری آنے والی نسلوں کا ہم پر حق ہے کہ ہم ان کو دہشتگردی، کرپشن اور بد امنی سے پاک ، ایک نارمل پاکستان دیں، اگر قوم کا تعاون اور مدد شامل رہی تو عنقریب ہم دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیں گے‘۔