Hafeez Khan (Sarkashi)

آدمی ابھی خواہشوں کا غلام ہے

ماضی سے جڑے رہنا(nostalgia) شاید اُن اوصاف میں سے ایک برتر وصف ہے جو انسان اور حیوان میں خطِ امتیاز کا سبب ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ماضی سے جڑی یادیں نہایت عزیز اور گزرا ہوازمانہ بہت اچھا لگتا ہے۔میں جب کبھی زمانۂ موجود کی بے رحمانہ روش سے اکتا جاتا ہوں تو خود کو ماضی میں دھکیلنے کے لیے اُس زمانے کی موسیقی سنتا ہوں ، کسی ڈرامے کا کوئی کلپ دیکھ لیتا ہوں یا لیپ ٹاپ میں ذخیرہ کی ہوئی تصویروں کاسلائیڈ شو دیکھنے لگتا ہوں۔زمانۂ حال کی سہولتیں بلا تاخیر اپنے بچپن، لڑکپن اور اوائلِ جوانی سے جوڑ دیتی ہیں۔میں اُن چہروں کو تلاشتا ہوں، اُن کی آنکھوں میں جھانکتا ہوں کہ جنہوں نے اپنی دعاؤں کے ساتھ پال پوس کر بڑا کیا اور اپنی زندگی کے سنہرے دن میرے اچھے مستقبل کے لیے ہمہ قسم مشقتوں کے حوالے کئے رکھے مگر انہیں میرادنیاوی عروج جو بھی تھا، دیکھنا نصیب ہی نہ ہوا ۔میں جن کی خواہشات کا مظہر ہوا مگر وہ اُس سے پہلے ہی رزقِ خاک ہوئے یا اگر زندہ رہے بھی تو میرا نام اور میرا کام اُن کے کسی کام نہ آیا۔اگر سب کچھ یونہی چلا آتا ہے تو سوچتا ہوں ہم کیوں کر اور کس لیے خود کو کبھی نہ ختم ہونے والے فکرات اورکبھی نہ سمیٹی جانے والی خواہشات کے چنگل میں پھنسائے رکھتے ہیں۔کبھی اولاداور کبھی اولاد کی اولاد کا مستقبل ’’ڈیزائن‘‘ کرنے کی اس طرح تگ و دو کرتے ہیں کہ اپنا ’’حلیہ‘‘ بگاڑلیتے ہیں مگر آخر کو نتیجہ وہی نکلتا ہے کہ ہم اولاد سمیت ہرکسی کو مواقع تو مہیا کر سکتے ہیں لیکن اُن کا مقدر ڈیزائن نہیں کر سکتے۔
اِس عرصۂ حیات میں اپنے اطراف بے تحاشہ تلاطم اور بے انداز ہنگام دیکھے۔حرص وہوس کے دام اور اُن کے بے دام غلام ۔مرنے کے بعدسکندرکے دونوں ہاتھ خالی ہونے کا چرچا تو سبھی کانوں تک تھا مگر یقیں کسی کو نہ تھا ۔بچپن میں نواب بہاول پور صادق محمد خان خامس عباسی کا کئی میل طویل جنازہ دیکھا تو دنیا کی بے ثباتی آشکار ہوئی۔اپنے ریاستی ناناکو روتے ہوئے دیکھا کہ جن کی زباں پر تھا ’’لکھ مرے تے لکھ پال نہ مرے‘‘تو حیرت ہوئی کہ لکھ کی موت کی قیمت پر لکھ پال کیوں نہ مرے۔ لیکن پھر کہیں بعد میں جا کر اندازہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں کے رزق کو اپنی خواہش بنانے والا مرے تو کسی کو دکھ نہیں ہوتالیکن اپنی خواہشات کو لاکھوں انسانوں کے رزق میں بدلنے والا مرجائے تو ایک انسان نہیں مرتا ، لاکھوں مر جاتے ہیں۔کبھی کبھار تویوں ہوتا ہے کہ ہوس سے بھی زیادہ خواہشات رکھنے والا مقتتدراپنے تئیں اپنے آپ کو رعیت کی خواہشات کا داتا سمجھ بیٹھتا ہے مگر حقیقت میں اُس کے برعکس وہی ایک شخص لاکھوں کروڑوں انسانوں کی خواہشات کو گروی رکھتے ہوئے بھول جاتا ہے کہ فراعینِ مصر کے اہرام اور قارون کے خزانے بھی اُن کی قبروں کی تنگنائیوں کو وسعت میں منقلب نہ کر سکے۔
بہت سے لوگوں سے سنا کہ کفن کو جیب نہیں ہوتی مگر انہی لوگوں کوپیسے پیسے کے پیچھے دوڑتے اور ذلیل و رسوا ہوتے دیکھا۔’’تاریخ فرشتہ ‘‘ کے مطابق محمود غزنوی نے سومنات اور ملتان سے لاکھوں لوگوں کو تہ تیغ کرتے ہوئے بے حد وحساب دولت، لاکھوں غلام اور کنیزیں غزنی منتقل کر دیے اس حد تک کہ اِن کی کثرت سے غزنی کے بازار ملتان کے بازار دکھائی دینے لگے۔سندھ میں جاٹوں کی نسل کشی کے بعد ملتان اور سندھ میں مقیم اُن عرب خاندانوں کو بھی جبراً یہاں سے بے دخل کر دیا گیا کہ جو محمد بن قاسم یا اُس کے بعد کے عرب حکمرانوں کے عہد میں ملتان اور منصورہ کو اپنا مسکن بنا چکے تھے۔جن عرب مسلمانوں نے سندھ اور ملتان سے بے دخل ہونے میں مزاحمت کی انہیں اُن کے خاندان سمیت قتل کر دیا گیااور اِس نسل کشی کی یادگار کے طور پر 418ہجری میں لاہور کے ٹکسال سے ایک یادگاری سکہ بھی جاری کیا گیا۔لیکن یہ سبھی دولت اور خواہشات کا انبوہ اُس تپِ دق کی بیماری کو شکست نہ دے سکے کہ جو اُس کی موت کا باعث ہوئی۔اُس کے بعد یہی دولت جب اُس کے بیٹے مسعود غزنوی کے حصے میں آئی تو روز روز کی خانہ جنگیوں سے تنگ آ کر اُس نے لاہور منتقل ہونا چاہا۔تمام زر وجواہر تین ہزار اونٹوں پر لادے گئے مگر یہ قافلہ مارگلہ کی پہاڑیوں کے پاس خود اُس کے وفاداروں نے لوٹ کر اُسے قلعہ گیری میں قید کر دیا۔
اسلام آباد میں صدر ایوب خان کی سابقہ رہائش گاہ کے پاس سے گزریں تو دنیا کی بے ثباتی اعصاب کو ساکت کر دیتی ہے۔نسبتاً اونچی پہاڑی پر واقع یہ خوبصورت گھر نہ جانے کتنی خواہشات کے ساتھ کیا سوچ کر بنایا ہوگا اُس وقت کے مقتدرِ اعلیٰ نے کہ جس کے ایک اشارے پراِس ملک کی تقدیر اُلٹ پَلٹ ہو جانے کی آندھیاں چلا اور تھما کرتی تھیں۔کیا کسی کو خبر ہے کہ پاکستان کے اُس صدر کی قبر کہاں ہے جس کا استقبال کرنے کے لیے امریکی صدر جان ایف کینیڈی اپنی بیگم کے ساتھ خود چل کرائیر پورٹ آیا تھا۔کیا کیا منصوبہ بندی کی جاتی ہے ہمیشگی کی خواہش کو دوام عطا کرنے کے لیے مگرتیزی سے گزرتا ہوا زمانہ سبھی کچھ تاریخ کے کباڑ خانے کی نذر کرتا رہتا ہے۔سہولتیں کوئی اور خریدتا ہے اور اُن سے لطف اندوز کوئی اور ہوتا ہے۔جبلتوں کی غلامی کسی اور کا مقدر بنتی ہے مگر انہی جبلتوں سے جڑی نعمتیں کسی اور کا مقدر ہوتی ہیں۔لاہور کے لبرٹی چوک سے گزریں تو قذافی سٹیڈیم جانے والے راستے پر بائیں جانب بنا ہوا مال اُس حسین خاتون کی یاد دلاتا ہے کہ دنیا جسے ملکۂ ترنم نورجہاں کے نام سے جانتی تھی۔’’گائے گی دنیا گیت میرے‘‘ کی آرزومند کی سُرکو تو دوام عطا ہوامگر وہ گھر کہ جس کی ایک ایک اینٹ سے اِس صاحبۂ جمال کی خواہشات جڑی تھیں اُس بلڈوزر کی بھینٹ چڑھ گیا جسے ایک نیا مالک اپنی پلازہ بنانے کی خواہش کی تکمیل کے لیے وہاں لایا تھا۔وہ جس کے نام سے کبھی لاہور پہچانا جاتا تھا، جس کی شخصیت کی خوشبولاہور کی فضاؤں میں رقص کیا کرتی تھی، اُسی سیمیں بدن کے بدن کو اپنی آغوش میں لینے کے لیے لاہور میں دوگز زمین بھی نہ مل سکی اوریوں کڈنی سینٹر کراچی میں ایک طویل عرصہ تک گردوں کی صفائی کا عذاب سہنے کے بعداُنہیں کراچی کی مٹی کے ساتھ مٹی ہونا پڑا۔
میں اپنے اطراف میں دیکھتا ہوں تو ایک جانب وہ لوگ ہیں کہ جن کے پاس نہ مال وزر ہے اور نہ ہی وہ اس کے خواہش مند ہیں، اور ایک طرف وہ ہیں کہ جن کے پاس کچھ ایسا خاص نہیں مگر وہ ہروز کچھ اور پا لینے کی بے اندازہ خواہش میں ذلیل و رسوا ہونے کو بھی خاطر میں نہیں لاتے اور اُن گرد اُڑاتی سیاہ شیشوں والی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ بھاگے پھر رہے ہیں کہ کہیں سے کوئی ٹکڑا، کوئی بھورا گِرا پڑا مل جائے اوریوں اُن کی حرص سے لتھڑی ہوئی زبان کو قرار ہو۔میں دیکھتا ہوں کہ کچھ لوگ کارِ مذلت میں اِن سے بھی سوا ہیں۔یہ وہ ہیں کہ جنہیں زندگی میں خواہشات سے بڑھ کر ملامگر انہوں نے سجد�ۂ شکر بجا لانے کی بجائے عوامی لوٹ کھسوٹ کو وتیرہ بنا لیا۔ گھر، محلات اور زر وجواہر کے انبار مگر ہرلگنے والے انبار اوربننے والے محل نے خواہشات کے ایک اور انبوہ کو جنم دینا شروع کر دیا، اِس حد تک کہ رسوائیوں کا چرچاتا با فلک ہونے لگا۔ یہ شاید ہزیمت کی کوئی معراج منزل ہے کہ جہاں رسوائیوں کا حد سے گزرجانا حرص وہوس میں گندھی ہوئی خواہشات کو اور بھی مہمیز کرتا ہے۔ اتنا کچھ پا لینے کے بعدبھی کہیں سکون سے زندگی بسر کرنے کی بجائے اپنے آپ کو تھانے کچہریوں کی چوکھٹوں میں ہدفِ تمسخر بنا لیناہو سکتا ہے اُس راستے کا سفر ہوکہ جس کا آخرآتے آتے شاہ ا یران، مارکوس، صدام اور قذافی جیسوں کے کئی مقابردرمیاں آتے ہیں۔جگر مراد آبادی نے نہ جانے کس لہجے میں بات کی تھی کہ
اِس کائنات میں اے جگر کوئی انقلاب اُٹھے گا پھر
کہ بلند ہو کے آدمی ابھی خوہشوں کا غلام ہے