Sattar-Choudhary

آخری آپشن

وزیر اعظم نواز شریف استعفیٰ نہیں دیں گے۔ یہ پکی بات ، لوہے پر لکیر۔ وہ کیوں ؟ استعفیٰ دینے کا مطلب ہے میاں صاحب نے اعتراف جرم کرلیا۔ اعتراف جرم کا مطلب ہے نواز شریف نے جے آئی ٹی کے 44 نکات کو تسلیم کرلیا ہے ، نکات کیا ہیں ۔ پاناما کے علاوہ شریف خاندان کی مزید 3 آف شور کمپنیاں۔ نمبر 2: وزیر اعظم بھی یواے ای میں آف شور کمپنی کے مالک ہیں۔نمبر 3:وزیراعظم یواے ای میں ماہانہ 10 ہزار درہم تنخواہ پر ملازمت کرتے رہے۔ نمبر 4:وزیر اعظم معلوم ذرائع سے ہٹ کر اثاثوں کے مالک ہیں۔ اثاثے خاندان کے نام پر رکھے۔نمبر 5:وزیر اعظم نے اپنی جماعت ن لیگ سے لیے گئے ساڑھے چار کروڑ چھپائے۔ نمبر 6: وزیراعظم نے 2010ء سے 2013 ء کے درمیان چودھری شوگرمل سے 24 ملین تنخواہ وصول کی۔نمبر 7: وزیر اعظم کی قومی اسمبلی کی تقریر جھوٹ پر مبنی ہے۔ نمبر8:وزیر اعظم کا اپنے خالو محمد حسین کو نہ جاننے کا بیان بھی جھوٹا ہے۔9:جے آئی ٹی کے سامنے وزیراعظم نے حقائق چھپائے۔نمبر10:حسن اور حسین نواز منی ٹریل دے سکے نہ شریف خاندان کے پاس کوئی دستاویز تھی۔ نمبر 11: شریف خاندان کی برطانیہ میں کمپنیاں نقصان میں ہیں لیکن ہیر پھیر میں ملوث رہیں۔نمبر 12: شریف خاندان کے اثاثوں ، رہن سہن اور ذرائع آمدن میں واضح فرق ہے۔۔نمبر 13: شریف خاندان نے کمپنیاں تب بنائیں جب نواز شریف کے پاس عوامی عہدہ تھا۔ نمبر 14: مریم نواز نے نیلس اور نیسکول کے بارے میں جعلی سرٹیفکیٹ اور جھوٹی دستاویزات جمع کرائیں۔نمبر 15: مریم صفدر ہی نیلس اور نیسکول کی بینی فیشل اونر اور لندن فلیٹس کی مالک ہیں۔نمبر16: نوازشریف جب دوسری مرتبہ وزیر اعظم بنے تو مریم اور حسین نواز کے اثاثے بے تحاشا بڑھے۔نمبر 17: مریم نے لندن فلیٹس کو کبھی ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر نہیں کیا۔ نمبر18:برطانیہ کی فرانزک،ہینڈرائٹنگ اور ڈاکومنٹ ایگزامنر کی رپورٹ کے مطابق مریم صفدر کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی دستاویزات جعلی ہیں۔نمبر 19:مریم صفدر کی ٹرسٹ ڈکلریشن دستاویزت بھی جھوٹی ہیں۔ لندن فلیٹس 1993ء سے شریف خاندان کے پاس ہیں۔ نمبر 20: مریم صفدر نے کروڑوں مالیت تحائف سے زرعی زمین خریدی۔ نمبر21:یواے ای کے شاہی خاندان نے مریم نواز کو بی ایم ڈبلیو تحفے میں دی۔ جس کی ٹیکس گوشواروں میں قیمت 35 لاکھ ظاہر کی گئی۔ بعد میں اسے ایک کروڑ 96 لاکھ 60 ہزار میں فروخت کیا گیا۔نمبر 22: حسن نواز کی 10 کمپنیوں کے لیے رقم کہاں سے آئی کوئی پتا نہیں۔ نمبر 23:حسن نواز نے جھوٹی دستاویزات جمع کراکر سپریم کورٹ کو گمراہ کیا۔نمبر24: لندن فلیٹس کے بارے میں حسن نواز اور حسین نواز کے بیان میں تضاد ہے۔ نمبر 25: حسن نواز اور حسین نواز 2000ء تک خاندان کے زیر کفالت تھے۔ نمبر 26: حسین نواز کو اثاثے بڑھانے کیلئے پراکسی کے طور پر استعمال کیا گیا۔ نمبر 27: وزیراعظم کی دوسری بیٹی اسما نواز کے اثاثوں میں 21.07 فیصد اضافہ ہوا۔اسما نے کبھی ٹیکس نہیں دیا۔یہ معلوم نہیں ہوسکا اسما نواز کے پاس 1991-92ء میں اسما کے پاس 1.47 ملین کے اثاثے کہیں سے آئے۔یہ 31.55 ملین کیسے ہوگئے۔نمبر 28: کیپٹن صفدر جھوٹے اور فراڈیے ہیں۔انہوں نے بتایا وہ نواز شریف سے ماہانہ 1500 وصول کرتے رہے جس سے زرعی زمین خریدی۔ نمبر29: جاوید کیانی نے نواز شریف کیلئے جعلی اکاؤنٹس کھولے۔ان اکاؤنٹس سے لندن فلیٹس اور حدیبیہ پیپرملز کے پیسے جاتے۔امریکی شہری فل بیری امریکا سے لاہور ٹریولر چیک لانے کیلئے کورئیرکے طور پر استعمال ہوتے۔ نمبر 30: جاوید کیانی نے بتایا ان کے اکاؤنٹس غیرملکی زرمبادلہ میں استعمال ہوئے۔ نمبر31: شریف خاندان جاوید کیانی کے فرضی بینک اکاؤنٹس کا حقیقی بینی فشری مالک ہے۔نمبر 32: فراڈ پر سعودی عرب میں جیل کاٹنے والے اوربرطانوی شہری سعید احمد کو نیشنل بینک کا صدر اور ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک بناکر غیر قانونی کام کرائے گئے۔نمبر33: سعید احمد نے بتایا کہ اسحاق ڈار کے کہنے پر لاہور ایمرٹس بینک میں اکاؤنٹ کھولا۔اسحاق ڈار میرے اکاؤنٹس چلاتے رہے۔ میرے نام پر بینک آف امریکا، البراق بینک اور التوفیق بینک میں جعلی اکاؤنٹس کھول کر پیسہ ان میں بھیجا گیا۔ نمبر 34: گلف اسٹیل کے بارے میں طارق شفیع کا حلف نامہ غلط اور ٹیمپرڈ ہے۔نمبر 35: شہباز شریف گلف سٹیل،حدیبیہ پیپرملز کیس، التوفیق سیٹلمنٹ اور لندن فلیٹس سے متعلق جواب نہ دے سکے۔نمبر36: طارق شفیع اور محمد حسین گلف اسٹیل کے بے نامی مالک تھے۔ نمبر37:گلف اسٹیل کا سرمایہ جدہ، قطریا برطانیہ نہیں بھیجا گیا۔12 ملین درہم کی کہانی افسانہ ہے۔ نمبر 38:طارق شفیع کے بیانات اور قطری شہزادہ کے خط آپس میں نہیں ملتے۔نمبر39: حدیبیہ کیس پر پورا شریف خاندان بات کرنے سے گریز کرتا رہا۔نمبر40: بتایا گیا میاں شریف بھی ٹیکس نادہندہ تھے۔ 1970ء سے 1994ء تک ٹیکس ریٹرنز فائل نہیں کی۔ نمبر 41: میاں محمد نوازشریف نے مقدمہ سے بچنے کے لیے طارق شفیع اور محمد حسین کا استعمال کیا۔ نمبر 42: وزیر اعظم اور حسین نواز تحائف اور قرضوں کے بارے میں وضاحت نہ کرسکے۔ نمبر43:نیب نے شریف خاندان کے کیسز بغیرکسی وجہ کے بند کردیے۔ لندن فلیٹس کی تحقیقات 19 سال میں بھی مکمل نہیں ہوئی۔نمبر 44:قطری خطوط افسانہ ہیں۔ ان سب نکات کا اعتراف کرنے کا مطلب واضح ہے ۔ میاں صاحب زندگی کے بہت نشیب وفراز دیکھ چکے ہیں وہ کبھی بھی استعفیٰ نہیں دیں گے۔اپوزیشن بھی استعفیٰ پر اسی لئے زور ڈال رہی ہے۔ نواز شریف کے پاس بس اب آخری آپشن بچا ہے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو تسلیم نہ کریں، اگر سپریم کورٹ انہیں نااہل قرار دیتی ہے تو اسمبلی توڑ کر الیکشن کا اعلان کردیں۔ نیا وزیر اعظم بنانا گلے پڑسکتا ہے۔ 20 امیدوار ہیں۔ پارٹی اختلافات شدت اختیار کر جائیں گے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ خلاف آتا ہے تو پھر بھی جرم کو تسلیم نہ کیا جائے۔ جے آئی ٹی کے خلاف شور شرابا جاری رہے۔ اورظفر اقبال کے شعر پر سوفیصدعمل کیا جائے
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئے
فی الحال آخری آپشن تو یہی ہے۔ صورت حال تبدیل بھی ہوسکتی ہے ،دوبارہ کوئی اور آپشن بتانے کی الگ فیس ہوگی۔