12

’حج کا انتظام خود مختاری اور استحقاق کا معاملہ ہے‘

سعودی شہزادے ترکی الفیصل نے حج کے انتظامات میں دیگر مسلم ممالک کو شریک کرنے کی تجویز کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اس کو ’خود مختاری اور استحقاق‘ کا معاملہ سمجھتا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی سے ایک خصوصی گفتگو میں سعودی شاہی خاندان شہزادہ ترکی الفیصل نے یہ بات ایسے وقت کی ہے جب سعودی عرب پر منیٰ میں بھگدڑ کے دوران 769 افراد کی ہلاکت کے بعد تنقید کی جا رہی ہے۔

’سعودی عرب واقعے کی ذمہ داری قبول کرے اور معافی مانگے‘

مرنے والوں کی تعداد پر سعودی عرب کی وضاحت

ایران نے اس واقعے پر ریاض پر بدانتظامی کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک آزاد ادارے کے قیام کا مطالبہ کیا ہے جو حج کے انتظامات کو دیکھے۔

شہزادہ ترکی نے کہا کہ ’مقدس مقامات اور حج کی نگرانی سعودی عرب کے لیے خود مختاری اور استحقاق کا معاملہ ہے۔

’سعودی عرب نے گذشتہ کئی سالوں میں مختلف حالات میں حج کا انتظام کیا جن میں بیماریاں، رہائش کے مسائل وغیرہ شامل تھے۔ ہم اپنا استحقاق یا خادمین حرمین شریفین کا امتیاز نہیں جانے دیں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مکہ کے لوگ اس علاقے کو اچھی طرح جانتے ہیں اور یہ حق آپ مکہ کے لوگوں سے نہیں لے سکتے۔‘

ترکی الفیصل سعودی شاہی خاندان کے سب سے سینیئر ممبر ہیں جنھوں نے پہلی بار ایران کی جانب سے تنقید کا جواب دیا ہے۔

ترکی الفیصل دو دہائیوں تک سعودی عرب کے انٹیلیجنس کے سربراہ رہے ہیں اور اس کے علاوہ برطانیہ، آئر لینڈ اور امریکہ میں سفیر بھی رہ چکے ہیں۔

ان کے بھائی شہزادہ خالد الفیصل مکہ کے گورنر ہیں۔

شہزادہ ترکی الفیصل ابو ظہبی میں ایک تھنک ٹینک بیروت انسٹیٹیوٹ کے پروگرام کے لیے گئے ہوئے ہیں جہاں انھوں نے اے پی سے بات کی۔

یاد رہے کہ منیٰ میں بھگدڑ کے دوران سعودی حکام کے مطابق 769 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ البتہ دوسرے ذرائع اس سے کہیں زیادہ تعداد بتاتے ہیں۔

ترکی الفیصل نے کہا ’یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اس واقعے سے ایران سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ ایرانی رہنما یہ بات بار بار کر چکے ہیں۔‘

1 comment

Get RSS Feed
  1. Sami

    |Author

    Vestibulum ante ipsum primis in faucibus orci luctus et ultrices posuere cubilia Curae; Aliquam congue eu sapien ac congue.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *