untitled copy

ہر اداکارہ مدھو بالا کی طرح سے خوبصورت نظر آنے کے لئے کوشاں

لاہور: م برصغیر پاک و ہند میں ہر اداکارہ کی خواہش اور کوشش رہی کہ وہ مدھو کی طرح خوبصورت نظر آئے ۔ مادھوری ڈکشت مدھو بالا کی دیوانی تھی وہ مدھو بالا کی قبر پر حاضری دیا کرتی تھی ۔ تاحال مدھو بالا کا جواب نہیں مل سکا اس جیسا کوئی نہیں۔۔ دھو بالا کا اصل نام ممتاز جہاں بیگم تھا اور وہ 14 فروری 1933 کو پیدا ہوئیں، گھر کی غربت نے انہیں 9برس کی عمر میں ہی نگارخانوں کی چکا چوند روشنیوں میں دھکیل دیا اور انہوں نے 1942 میں ‘ فلم’ بسنت سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ مشہور فلم ساز دیویکا رانی نے انہیں مدھوبالا کا فلمی نام دیااور 1947میں انہوں نے کیدار شرما کی فلم نیل کمل میں راج کپور کے مقابل مرکزی کردار ادا کیا۔مدھو بالا کی مشہور فلموں میں محل، دلاری، دولت، اپرادھی، نادان، ساقی، سنگدل، امر، نقاب، پھاگن، بارات کی رات، مغل اعظم، شرابی اور جوالا شامل ہیں۔ موت سے پہلے وہ لاکھوں میں ایک تھی اورآج وہ کروڑوں میں ایک ہے،ان کی خوبصورتی کی بنائ پر انہیں ملکۂ حسن کا خطاب دیا گیا۔روشنیوں کی اسی دنیا میں مدھو اوردلیپ کمار کا عشق شروع ہوا، دلیپ مدھو سے شادی سے پہلے انہیں اس کے خاندان کے چنگل سے نکالنا چاہتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ مدھوبالا کے والدعطااللہ خاں اپنی بیٹی کے عشق کو عدالت تک لے گئےاور دلیپ نے عدالت میں کہا ‘میں مدھو سے محبت کرتا ہوں اور اپنی آخری سانس تک محبت کرتا رہوں گا’۔ مدھو بالا اداکار دلیپ کمار سے شادی کرنا چاہتی تھیں مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا، پھر 1960 میں انہوں نے مشہور گلوکار اور اداکار کشور کمارسے سول میرج کی ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ گلو کار کشور کمار نے مسلمان ہر کر مدھو بالا سے سول میرج کی۔ صرف36 برس کی عمر میں شائقین کو اپنے فن کا تحفہ دے کر 23 فروری1969 کو مدھو اس دنیا سے چلی گئیں۔ صرف36 برس کی عمر میں 23 فروری1969 کو مدھو بالا نے اس دنیا کو چھوڑ دیا اور تہہ خاک جا سوئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *