download copy

پولیٹیکل پریشر پر کسی شخص کو مقابلےئ میں مار دینا غلط ہے۔ فواد چودھری

لاہورٟ: تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری نے کہا ہے ،پاکستا ن میں جتنی ایف آئی آر کاٹی جاتی ہیں ذیادہ تر جعلی ہوتی ہیں، پولیٹیکل پریشر سے کسی شخص کو مقابلےئ میں مار دینا غلط ہے ڈاکٹر مسعود نے جو بات کی کہ عمران کے بنک اکاونٹس ہیں اگر یہ بات دس فیصد بھی درست ثابت ہوتی ہے تو بہت بڑی بات ہے اگر وزیر ملوث ہے تو یہ صوبائی نہیں پھر تو وفاقی مسئلہ ہے انہوں نے نیو نیوز کے پروگرام خبر کے پیچھے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا پولیس نے ایمان فاطمہ کے ملزم کو گرفتار کیا جس کا نام مدثر تھا اور اس کا ڈی این اے کیا گیا اور کہا گیا میچ کر گیا ہے اور اسے پولیس مقاملے میں مار دیا گیا،اب عمران کا ڈی این اے بھی میچ کر گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ شخص ناجائز مارا گیاہے۔ مسلم لیگ ن کے ترجمان مصدق ملک نے کہا پنجاب حکومت نے جے آئی ٹی بنادی جس میںاسٹیٹ بنک کا نمائندہ شامل ہے تاکہ جو الزام لگائے جا رہے ہیں ان کا پتہ چل سکے، شاہد مسعود نے جو کہا اس سے متعلق کچھ کہا نہیں جا سکتا ایک شخص جس کے پاس 16 لاکھ پاونڈ ہیں تو وہ کہیں بھی رہ سکتا تھا اسے اس محلے میں رہنے کی کیا ضرورت تھی،اگر اس معاملے میں وفاقی وزیر شامل ہے تو یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے،کسی پر صرف الزام لگانے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک ثابت نہ ہو،پہلے بھی کئی ایم این یز پر الزام لگا کہ وہ دہشتگرد تنظیم سے وابستہ ہیں،ستر سالوں میں جب بھی الزام لگے ہیں کبھی کسی کی تحقیق نہیں ہوئی،چاہے پولیس کرے یا کوئی بھی انکاونٹر ناقابل قبول ہوتے جا رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے ترجمان مصطفی نواز کھوکھر نے کہا سب سے پہلے ان تمام الزامات کی تحقیقات ہونی چاہیں جے آئی ٹی کی رپورٹ تک کچھ کہا نہیں جا سکتا،ہمارا میڈیا سچ اور جھوٹ جانے بغیر نشر کرتا رہتا ہے جو غلط ہے،قصور بچیوں سے زیادتی کا کیس کا معاملہ انتہائی سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے مدثر کو ناجائز مارا گیا لاہور ہائی کورٹ کو اس کا نوٹس لے کر جے آئی ٹی بنانی چاہیے۔ نمائندہ نیو نیوز جہانزیب عباسی نے بتایا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ 37 سے ذیادہ اکاونٹس ہیں چیف جسٹس نے ان سے کچھ نام پوچھے تو انہوں نے کچھ نام لکھ کر دیے ، ان میں کچھ بڑے بڑے لوگ ہیں جن میں ایک وفاقی وزیر ہے، انہوں نے وفاقی وزیر کا نام نہیں بتایا۔ اس ضمن میں نمائندہ نیو نیوز زبیر ڈھلوں۔ نے بتایا کہ مدثر جس شخص کو پولیس نے گرفتار کر کے پولیس مقابلے میں مارا تھا وہ ایک مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتا تھا اس کی شادی ہو چکی تھی وہ پہلے لاہور میں واپڈا ٹاون میں رہتا تھا شادی کے بعد وہ اپنی بیوی کے ساتھ قصور میں شفٹ ہو گیا ،مدثر مزدوری کرتا تھا، اس کا ایک بیٹا تھا اور وہ ایک شریف آدمی تھا،ہم نے پولیس سے رابطہ کیا تو وہ کوئی بات بتاتے ہی نہیں، چند ذرائع سے کچھ افسران نے بتایا کہ ہم پر پولیٹیکل پریشر ہوتا ہے ،جیلوں میں بھی بہت سے لوگ انہی بچیوں کے قتل کیس میں جہلوں میں سزائیں کاٹ رہے ہیں،کچھ تو انکاونٹر میں مارے جا چکے ہیں اور اب عمران کو ان سب بچیوں کا قاتل کہا جا رہا ہے۔ نمائندہ نیو نیوز سلمان قریشی نے کہا جتنی بچیان بھی قتل ہوئیں ہم ان کے گھر میں گئے اور ان سے پوچھا کہ کوئی آیا تو انہوں نے بتایا کہ کوئی وزرا تو دور کوئی قونصلر بھی ہمارے گھر نہیں آیا،پولیس بھی تب نکلی جب لوگ باہر نکلے اور دو شخص احتجاج میں ہلاک ہوئے،حکومت اور پولیس مکمل ناکام ہو چکی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *