Untitled-1 copy

سپریم کورٹ نے تمام سرکاری یونیورسٹیز کو نئے لا کالجزکے الحاق سے روک دیا

۔ لاہور : سپریم کورٹ نے تمام سرکاری یونیورسٹیز کو نئے لا کالجز کو الحاق کرنے سے روک دیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو لا کالجز کی انسپکشن کرنے کا حکم دے دیا۔ قانون کی معیاری تعلیم کیلئے پاکستان بارایسوسی ایشن سے تجاویزطلب کر لیں اورلا کالجزکی ریفارمزکیلئے معروف قانون دان حامد خان کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی اورلاکالجزکی صورتحال سے متعلق وائس چانسلرزکو بیان حلفی جمع کروانے کا حکم دے دیا۔غیر معیاری لا کالجز سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا اگر نقل مار کر وکیل بننا ہے تو کیوں نہ وکالت کے لیے انٹری ٹیسٹ ختم کر دیں۔ ملک میں غیرمعیاری لاکالجزنہیں چلنے دوں گا،سپریم کورٹ 6 ہفتے میں لاکالجزکانظام ٹھیک کرناچاہتی ہے،بدقسمتی سے ہم نے اپنے اداروں کومضبوط نہیں کیا انہوں نے کہا تھرڈڈویڑن گریجویٹس کوایل ایل بی میں داخلہ دیناافسوسناک ہے،ایسے وکیل پیدانہیں کرنے جوصبح پان کی دکان چلاتے ہوں بعد میں ڈگری حاصل کرلیں۔ سمجھ نہیں آتی اتنی پرائیویٹ یونیورسٹیاں کھل کیسے گئیں، جس کاجوجی چاہتاہے،وہ کررہا ہے،اندھابانٹے ریوڑیاں،اپنے پاس ہی آئیں چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ادارے قائم رہنے چاہیئں شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں،اداروں کی مضبوطی اچھی گورننس کاثبوت ہے۔اسٹیک ہولڈرزکام کرنے کایقین دلائیں،رات کوبھی عدالت لگانے کوتیارہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ملک بھر کی یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز عدالت میں پیش ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی نہ ہونے پر چیف جسٹس نے سخت اظہار برہمی کیا اور چیف سیکرٹری پنجاب کو لاہور رجسٹری میں فوری طلب کرلیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *