images

مودی سے  میٹنگ کی کوئی ضرورت نہیں ۔ وزیر اعظم

اسلام آباد  : وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے بھارت سے کشمیر کا مسئلہ 70 سالہ پرانا ہے اس پر لچک کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ جب سے مودی وزیر اعظم بنے ہیں کشمیریوں پر ظلم ختم نہیں ہو رہے نریندر مودی سے سائیڈ لائن میٹنگ کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا امریکہ کے متعلق ہماری پالیسی واضح ہے ہم اپنی سلامتی و آزادی پر کوئی آنچ نہیں آنے دینگے ۔ دنیا میں ہر ملک ایک دوسرے پر انحصار کر تی ہے َ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی۔ دہشت گردی کے خلاف ہماری جدوجہد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا الیکشن میں چار ماہ رہ گئے15 مارچ تک اعلان ہو جائے گا۔ آج بھی اسمبلی تحلیل کردی جائے تو الیکشن وقت سے پہلے نہیں ہو سکتے ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اتنی عجلت کیوں ہے ۔ لوگوں نے شیروانیاں سلوا کر رکھی تھیں مگر انہیں موقع نہیں ملا ، انہیں پیغام دیتا ہوں کہ وہ شیروانیاں اتار کر الماریوں میں رکھ دیں کیوں کہ عام انتخابات گرمیوں میں ہوں گے۔ آئین میں ٹیکنو کریٹ حکومت کی کوئی گنجائش نہیں۔ جس کو پاکستان کے عوام منتخب کرینگے وہی حکومت کرے گا۔ سینٹ کے انتخابات وقت پر ہونگے حکومت اپنی مدت پوری کرے گی ۔ وزیر اعظم نے کہا نواز شریف کی مجیب الرحمان کے متعلق گفتگو کو کوئی اور رنگ دینا مناسب نہیں نوا زشریف کی نظریہ سے متعلق بات اقتباس سے ہٹ کرکی گئی ۔ نواز شریف اور ضیا الحق کے درمیان تعلق پر تاریخی جھوٹ بولا جا رہا ہے ۔ نواز شریف کا ضیا ئالحق سے تعلق تو صرف 29مئی سے17اگست1988ئ تک تھا۔ اس تعلق پر لوگ تاثر دے رہے ہیں کہ نواز شریف ضیا ئکی آمریت کے دور میں سیاسی افق پر ابھرے ۔ صدر اور وزیر اعلیٰ کا تعلق عموما محدود سا ہوتا ہے ، ضیا ئدور میں کئی لوگ بہت بڑے بڑے عہدوں پر پہنچے اور آج ان لوگوں کی سیاسی حیثیت کیا ہے؟ سب لوگ اس سے واقف ہیں۔جو تجربہ نواز شریف کے پاس ہے وہ بہت کم لوگوں کے پاس ہے،انہوں نے اپنے دور اقتدار میں ملک میںترقی کی بنیاد رکھی اور جمہوریت کو فروغ دیا ، ان پر آمریت سے قربت کا تعلق الزام بالکل بے بنیاد ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا جنرل باجوہ ایک پروفیشنل سولجر ہیں وہ جمہوریت کے حق میں ہیں۔پی آئی اے کے متعلق انہوں نے کہا پی آئی اے چار سو پچاس ارب روپے کی مقروض ہے ۔پی آئی اے نے بہت نقصان اٹھا یا ہے ۔ انہوں نے کہا میں میں نے ائیر بلیو سیاست میں آنے سے پہلے بنائی تھی انہوں نے کہا نواز شریف کے خلاف فیصلہ تو ہو گیا لیکن کسی نے قبول نہیں کیا میں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہئے ۔ نواز شریف کے ہر دور میں ترقی ہوئی ۔ جتنی جمہوریت مسلم لیگ ن میں ہے اتنی کسی اور جماعت میں نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کس کو وزیراعظم بنانا ہے یہ فیصلہ پارٹی ہے ۔ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی وزیر اعلی اپنی اسمبلی تحلیل کرے گا۔ میں نے وزیر داخلہ احسن اقبال کو اس بات کی تحقیقات کے لئے کہہ دیا ہے۔ ماضی میں اس قسم کے کام ملکی سیاست میں ہوتے رہے ہیں اور ہمیں ان سے سبق لینا چاہیے ۔ ممبران اسمبلی اگر اس حوالے سے بیانات دیتے ہیں تو وہ ان کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اب اس قسم کے معاملات سیاست میں نہیں ہو رہے ۔ عمران خان کے متعلق انہوں نے کہا عمران خان کی باتیںروز بدلتی ہیں۔ عمران کے پاس ایک صوبے کی حکو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *