402203_54468856 (1)

پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت کا کردار ہے،۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

۔ راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے تھریٹ پاکستان سے ختم ہو گئی،افغانستان میں موجود ہے۔ افغان بارڈرسے فوج ہٹا نے کارسک نہیں لے سکتے۔ہماری دو لاکھ سے زائد فوج افغان بارڈر کے علاقے میں موجود ہے گر افغانستان سے خطرہ ختم ہو جائے تو آج ہی اپنی 50 فیصد فوج واپس بلا لیں۔ ہم نے اپنی طرف امن کر لیا،افغانستان کو بھی امن کرنا ہوگا، پاکستان کے بغیر امریکا القاعدہ کو شکست نہیں دے سکتا تھا امریکہ کو افغانستان میں شکست کا ذمہ دار پاکستان کو نہیں ٹھہرانا چاہئے ۔پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت کا کردار ہے بھارت پاکستان میں اب بھی سرگرم ہے ۔کلبھوشن کا کیس بھی سامنے ہے کہ کیسے اس نے عدم استحکام کی کوشش کی ۔ 2017 میں بھارت کی سیز فائرکی خلاف ورزیاں بقیہ تمام سال سے زیادہ ہیں۔ انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا دہشتگردی کیخلاف تمام آپریشن مختلف تھے لیکن پاکستانی قوم نے ثابت کیا ہم پرعزم قوم ہیں، پاکستان نے اس جنگ میں 100 فیصد کامیابی حاصل کی۔ نئی دہلی پاکستان میں دہشت گردی کے لئے افغان سرزمین کا استعمال کر رہی ہے ، جس کی واضح مثال کلبھوشن یادیو کا اعترافی بیان ہے موجودہ مرحلے میں ہم اس دشمن کیخلاف لڑ رہے ہیں جو دکھتا نہیں۔ اس ان دیکھے دشمن کو ہمیں ڈھونڈنا ہے اورختم کرنا ہے۔ پورے پاکستان میں کوئی غیرقانونی اسلحہ نہیں ہونا چاہیے۔ دہشتگروں کیخلاف پاکستان میں کام کیا100فیصد نتائج دیے پائیدار امن کیلیے کچھ اقدام پاکستان اور کچھ افغانستان کو کرنے ہونگے۔ آنیوا لے سا ل میں بارڈر مینجمنٹ کرلی جائے توبہت بہتری آ جائے گی۔ فغانستان بارڈر مینجمنٹ سے متعلق مکینزم پر افغانستان کو دستاویز بھیجے ہیں۔جسمانی طورپر جنگ ختم ہو گئی،موجودہ مرحلہ مشکل ہے اپاکستان نے افغانستان کے ساتھ جڑی اپنی 2600 کلومیٹر سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کر دیا ہے، اگر بارڈر مکینزم طے پا گیا تو سرحد کے بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے۔۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا قیام پاکستان سے اب تک چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان کا مستقبل امن اور ترقی ہے قوم نے ثابت کر دیا ہم پر عزم ہیں ۔ پاکستان میں امن قائم کر لیا افغانستان میں امن قائم ہونا ضروری ہے ۔ افغانستان کے بغیر امن قائم ہونا ممکن نہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ فاٹا کی 7ایجنسیوں میں طالبان کا اثر و رسوخ تھا ضرب عضب شروع کرکے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا ۔ دہشت گردی کے خلاف مشکل جنگ لڑی ۔ سوات میں دہشت گردوں کے زیادہ ٹھکانے شہر کے اندر تھے سوات میں آبادی ہے آپریشن مشکل تھا ۔انہوں نے کہا شمالی وزیر ستان سے قبل اے پی سی بلائی گئی ۔ اس وقت مالا کنڈ میں تھریٹ ملے تھے ۔ مالا کنڈ میں تھریٹ ختم ہونا ضروری تھا۔ فیصلہ ہوا دہشت گردوں کو افغانستان میں منتقل نہ ہونے دیا جائے ۔ آئی ایس ایف سے پاکستانی فوج کی اچھی کوآرڈنیشن تھی ۔پلان تھا کہ آپریشن سے پہلے دہشت گردوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنا ضروری تھا ۔ فیصلہ ہو ا کہ دہشت گردوں کو افغانستان منتقل نہ ہونے دیا جائے۔ افغان جنگ کے دوران تمام جنرلز نے اچھا کام کیا۔ان کا کہنا تھا کہ بارڈرمینجمنٹ سے متعلق مکینزم پر افغانستان کو دستاویزات بھی بھیجے ہیں، اگر آنے والے سالوں میں بارڈر مینجمنٹ کر لی جائے تو بہت حالات میں بہت بہتری آ جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *