download copy

قصور میں 7 سالہ بچی بداخلاقی کے بعد قتل، مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ 2 جاںبحق3 زخمی

قصورٟ:  سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ زینب کو 6 روز قبل اغوائ کیا گیا تھا۔ جو پر لوگ سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر نکل آئے ۔ پولیس کی فائرنگ سے دو مظاہرین جاں بحق اور تین زخمی ہو گئے تفصیلات کے 8 سالہ بچی کے والدین عمرہ ادائیگی کے لئے سعودی عرب گئے ہوئے تھے ۔ پولیس کے مطابق روڈ کوٹ کی رہائشی 8 سالہ بچی زینب 5 جنوری کو زینب سپارہ پڑھنے گھر سے نکلی تھی لیکن گھر کے قریب بچی کو راستے میں اغوا کرلیا گیا، بچی کی گمشدگی پر اہل خانہ نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی تاہم منگل کی رات بچی کی لاش کشمیر چوک کے قریب واقع ایک کچرہ کنڈی سے برآمد ہوئی۔ واقعہ کا علم ہونے پر بدھ کے روز اہل علاقہ مشتعل ہوگئے اور احتجاج شروع کردیا یہ احتجاج قصور بھر میں پھیل گیا ۔ علاقے میں مکمل ہڑتال ہے اور دکانیں بھی بند کردی گئیں، کمسن بچی زینب کے قتل کے خلاف ڈسٹرکٹ بار اور انجمن تاجران نے ہڑتال کا اعلان کردیا اور بچی کے قتل میں ملوث ملز موں کی گرفتاری کے لئے کی عدم گرفتاری پر سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہر ین نے ڈی پی آفس کا رخ کرلیا ۔ مظاہرین نے ڈی پی او آفس پر دھاوا بول دیا کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور شیشے توڑ دیئے۔مظاہرین مجرموں کی فوری گرفتاری اور ڈی پی او کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ مظاہرین کے ڈی سی آفس داخل ہونے پر پولیس کے ساتھ دھکم پیل ہوئی،اس دوران پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی جس سے 2 افراد جاں بحق اور 3 شدید زخمی ہو گئے ،ایک جاں بحق شخص کی شناخت محمد علی کے نام سے ہوئی ہے،زخمیوں کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کردیاگیا۔ ڈی پی او قصور ذوالفقار احمد نے بتایا ہے کہ پولیس بچی کے ساتھ ہونے والے اس سلوک میں ملوث درندہ صفت انسان کی گرفتاری کے لیے ہر زاویے سے تفتیش کررہی ہے۔ اب تک 5 ہزار لوگوں سے تفتیش کی گئی ہے جب کہ 67 افراد کا میڈیکل چیک اپ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر زیادتی کے بعد قتل ہونےوالی یہ آٹھویں بچی ہے، زیادتی کا شکار بچیوں کے ڈی این اے سے ایک ہی نمو میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، معصوم بچی کے قتل کے ملزم قانون کے مطابق قرار واقعی سزا سے بچ نہیں پائیں گے اور متاثرہ خاندان کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *