Untitled-1 copy

لاہور: کشور کمار نے ایک بار کہا تھا کہ رفیع صاحب ایک گانے کو سینکڑوں انداز میں گا سکتے ہیں جب کہ میں ایک گانے کو دو یا تین طرح سے زیادہ نہیں گا سکتا۔ایسا کئی مرتبہ ہوا کہ کشور کمار نے فلم میں کام کیا اور گلوکار رفیع نے انہیں اپنی آواز دی ۔جیسا کہ عجب ہے داستاں تیری اے زندگی یہ گانا کشور سے گایا ہی نہیں گیا تھاجس پر رفیع کو گانے کےلئے بلویا گیا۔ فلم ہم کسی سے کم نہیں کا گانا کیا ہوا تیرا وعدہ بھی گانے سے گلوکار قاصر تھے یہاں بھی رفیع سے استفاد کرنا پڑا اور رفیع کو اس گانے پر دو ایوارڈ ملے ۔۔ فلم پیار کا موسم میں گانا تم بن جاوں کہاں ، کشور کمار اور محمد رفیع نے علیحدہ علیحدہ گایا۔اس گانے سے دونوں میں فرق نمایاں ہو جاتا ہے ۔ کشور کمار ر اس گانے میں رفیع کے نزدیک بھی نہیں پہنچ پائے۔گلو کار رفیع جب دوگانا گاتے تو ان کے ساتھ گلوکار یا گلوکارہ دب جاتے تھے ۔ رفیع کی ادائیگی پورے رچاو کے ساتھ ہوتی تھی ۔کئی ایسے گانے ہیں جو لتا اور رفیع نے علیحدہ علیحدہ گائے لیکن لتا بھی رفیع کے مقابلے پر پوری نہ اتریں۔ تقدیر کا فسانہ جا کر کسے سنائیں ۔ یہ گانا لتا اور رفیع نے علیحدہ علیحدہ گایا تھا لیکن رفیع کا فن پوری شدت کے ساتھ بولا۔آشا بھوسلے بھی رفیع کے ساتھ گاتی ہوئی نہایت محتاط ہوتی تھی ۔ آشا بھوسلے کے مطابق جس گانے پر میں بہت محنت کر رہی ہوتی تھی لیکن رفیع صاحب وہی گانا نہایت آسانی کے ساتھ گاتے تھے ۔ گلو کار منا ڈے ، مہندر کپور رفیع کے اندھے شیدائی تھے وہ رفیع کو گائیکی کا دیوتا سمجھتے تھے ۔سر اونچا یا نیچا،رفیع کی آواز باآسانی پورے اثرات کے ساتھ سننے والے کے دل میں سرایت کر جاتی تھی ۔بھارت کے مشہور ترانے رفیع کی آواز میں ہیں جبکہ بھجن بھی رفیع کے آواز کے سحر سے بچ نہیں پائے۔رفیع کے انتقال کے بعد بھارت میں گلوکاری یتیم ہو چکی ہے کوئی رفیع جیسا گلو کار نہیں آیا اور نہ ہی آئے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *