Untitled-1 copy

نورجہاں کی فلم جگنو نے دلیپ کمار اور رفیع کے فن کو لازوال بنادیا

لاہو: اللہ وسائی کے نام سے 21 ستمبر 1926 کو پیدا ہونے والی نورجہاں نے 9 سال کی عمرمیں چائلڈ گلوکارہ کے طورپر گانا شروع کیا۔ انہوں نے اپنا فلمی کیریئر1930 میں خاموش اداکاری والی فلم حنا کے ترسے سے شروع کیا جبکہ فلمی ہیروئن کے طورپران کے کیرئیرکا آغاز 1942ئ میں  خاندان   فلم سے شروع ہوا۔اس فلم کیلئے غلام حیدر کے کمپوزکئے ہوئے تمام گانے سپرہٹ ہوئے اوراس دورکے مقبول ترین گانوں میں شمارہوئے۔نور جہاں نے ممبئی میں کئی بھارتی فلموں نادان، نوکر، لال حویلی، دل، ہمجولی اور جگنو وغیرہ میں کام کیا۔ فلم جگنو سے بھارت کو دو ایسے فنکار مل گئے جن کا آج تک کوئی ثانی نہیں ہے ۔ ان میں سے ایک کا نام دلیپ کمار اور دوسرے گلوکار محمد رفیع تھے ۔ دلیپ کمار کو اس فلم سے لازوال شہرت ملی جبکہ رفیع نے نورجہاں کے ساتھ دوگانا گایا ۔ یہاں بدلہ وفا کا بیوفائی کے سوا کیا ہے ۔اس گانے کے بعد گلوکار رفیع کے عروج تک آج تک کوئی نہیں پہنچ سکا یہ وہ دور تھا جب نورجہاں کا نام تھا جبکہ دلیپ کمار اور رفیع کوکوئی نہیں جانتا تھا ۔ ملکہ ترنم نورجہاں قیام پاکستان کے بعد 1947 میں وہ لاہور منتقل ہو گئیں جہاں پرانہوں نے اداکاری اورگلوکاری کا سلسلہ جاری رکھا۔ نور جہاں نے دوپٹہ، گلنار، انتظار، لخت جگر، کوئل اور انار کلی میں کام کیا۔نور جہاں نے 1960 سے 1970 کے عشرے میں پنجابی فلموں کیلئے گانے گائے جو کہ سپرہٹ ہوئے۔ انہوں نے ایک ہزار فلموں کیلئے گیت گائے جن میں سے زیادہ تر مقبول عام ہوئے۔ ملکہ ترنم نور جہاں نے 1965ئ کی جنگ میں اپنی آواز میں رضا کارانہ طور پر کئی ترانے گائے جو کہ بڑے مقبول ہوئے اور ان ترانوں سے پاکستانی فوج اورعوام کا حوصلہ بلند ہوا۔انھیں شاندار پرفارمنس کے باعث صدارتی ایوارڈ تمغہ امتیاز اور بعد ازاں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔ انھوں نے مجموعی طور پر10 ہزارسے زائد غزلیں و گیت گائے۔ ملکہ ترنم نور جہاں نے اپنا آخری نغمہ 1996 میں ریکارڈ کرایا جس کے بعد خرابی صحت کی بنائ پر ا نہوں نے گلوکاری ترک کردی اور23 دسمبر 2000ئ کو انتقال کرگئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *