Blasts-650x439

کوئٹہ میں چرچ پر حملہ ، 2خواتین سمیت 9افراد جاں بحق56 زخمی، 2 دہشت گرد ہلاک

کوئٹہ  : مازرغون روڈ پر وقع چرچ میں خودکش دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 2خواتین سمیت نوافراد جاں بحق اور افراد56 زخمی ہوگئے فورسز کی کارروائی میں 2خودکش حملہ ہلاک اور 2فرار ہوگئے ،خودکش حملے میں زخمی ہونے والوں میں 9افراد کی حالت تشویشناک تھی۔،صدرمملکت ممنون حسین، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ،مسلم لیگ ٟنٞ کے صدر نوازشریف، آصف زرداری، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو، تحریک انصاف عمران خان،جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ،جے یو آئیٟفٞ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن،قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ ،وزیر داخلہ احسن اقبال، گورنر بلوچستا ن محمدخان اچکزئی،وزیر اعلیٰ ثنائ اللہ زہری،وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا،وزیر اعلی پرویز خٹک، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور دیگر رہنماوں نے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کوئٹہ چرچ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم متحد اور پرعزم ہے۔ صدر ممنون حسین نے حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ حملے میں مسیحی بھائیوں کونشانہ بنایا گیا، جس کا مقصد مذہبی تقسیم کو ہوا دینا ہے اور یہ کرسمس کا جشن پھیکا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ بتایا گیا ہے کہ چرچ پر دہشت گردوں نے چرچ پر اس وقت حملہ کیا جب وہاں دعائیہ تقریب جاری تھی، خودکش بمباروں نے چرچ کے اندر جانے کی کوشش کی تاہم مرکزی دروازے پر تعینات اہلکار نے ایک فائرنگ کر کے ایک بمبار کو مار گرایا جبکہ دوسرے خودکش حملہ آور نے چرچ کے اندر جانے کی کوشش کی۔ دھماکے کے بعد پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جس کے بعد سیکیورٹی فورسز اور دہشتگرد کے درمیان دوطرفہ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔دوسرا خودکش بمبار فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوا اور اس نے چرچ کے احاطے میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کے مطابق چرچ پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی تعداد 4تھی جن میں سے 2ہلاک اور 2فرار ہوگئے۔ڈی آئی جی کے مطابق سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیتے ہوئے مفرور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔ وزیر داخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے میڈیا کو بتایا کہ دو خود کش حملہ آوروں نے زرغون روڈ پر واقع چرچ پر حملے کی کوشش کی تاہم چرچ کے مرکزی دروازے پر ایک بمبار سیکیورٹی اہلکار کی فائرنگ سے مارا گیا۔صوبائی وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ دوسرے خودکش حملہ آور اور فورسز کے درمیان دوطرفہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں بمبار زخمی ہوا اور اس نے خود کو چرچ کے احاطے میں ہی دھماکے سے اڑا دیا۔آئی جی بلوچستان معظم انصاری نے بھی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ خودکش حملہ آوروں کی تعداد 2تھی جن میں ایک دہشتگرد چرچ کے مرکزی دروازے پر مارا گیا جب کہ دوسرے نے احاطے میں خود کو دھماکے سے اڑایا۔آئی جی بلوچستان نے کہا کہ چرچ میں خواتین اور بچوں سمیت تقریباً400 افراد موجود تھے، اگر دہشت گرد چرچ کے اندر پہنچ جاتے تو بہت بڑا نقصان ہوسکتا تھا تاہم سکیورٹی فورسز نے فرائض انجام دیتے ہوئے قوم کو بڑے سانحے سے بچاتے ہوئے حملہ آوروں کو ہلاک کیا۔ سول ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق 8افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 44زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی ،زخمیوں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ ترجمان سول ہسپتال کے مطابق جاں بحق افراد میں ایک شخص کی شناخت آزاد کے نام سے ہوئی ہے جبکہ 8جاں بحق افراد میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ سو ل ہسپتال سمیت کوئٹہ کی دیگر اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ شدید زخمیوں کو ٹراما سینٹر منتقل کردیا گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے زرغون روڈ کو ٹریفک کی آمد و رفت کے لئے بند کردیا اور میڈیا نمائندوں کو بھی جائے وقوعہ سے دور کردیا گیا ۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر کوئٹہ سول ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم جائے وقوع پر سیکیورٹی اہلکاروں اور مسلح دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا رہا۔حکام کے مطابق متاثرہ علاقے کے قریب کوئٹہ کا ریلوے اسٹیشن جبکہ اہم سرکاری عمارتیں بھی موجود ہیں جبکہ اس سے قبل ہی چرچ پر حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد اس کی سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی تھی۔سرکاری حکام کے مطابق وزیراعلی بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہر ممکنہ اقدامات اٹھانے کی ہدایت کردی گئی۔وزیراعلی بلوچستان نواب ثنااللہ زہری نے آئی جی بلوچستان سے چرچ حملے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں زرغون روڈ پر ہونے والے دہشت گردی کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان بزدلانہ حملوں سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے حوصلے پست نہیں ہوسکتے۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے بیان میں کوئٹہ میں چرچ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چرچ کو نشانہ بنانے کا واقعہ بزدلانہ اور افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر پاکستان میں بدامنی اور انتشار پھیلانا چاہتے ہیں، اسلام ہمیں دیگر مذہبی عبادت گاہوں کا احترام سکھاتا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا پاکستان میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی کا تحفظ دینا پوری قوم کا فرض ہے، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردوں سے جنگ ان کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گی۔ ۔ چیرمین تحریک انصاف عمران خان نے کوئٹہ چرچ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم لوگوں کو دعائیہ تقریب کے دوران نشانہ بنایا گیا، حکومت چرچوں اور کرسمس تقریبات کی حفاظت یقینی بنائے۔ عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ان کی دعائیں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لئے بھی دعاگو ہوں۔ اقلیت سے تعلق رکھنے والی رکن بلوچستان اسمبلی انیتا عرفان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کی وجہ سے بڑا سانحہ ہونے سے بچ گیا۔انیتا عرفان نے کہا شہر میں اقلیتی برادری کو نشانہ بنانے کے حوالے سے موبائل پر میسجز گردش کر رہے تھے۔صدر مملکت ممنون حسین نے کوئٹہ چرچ حملے کی مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کوئٹہ میں چرچ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ بزدلانہ تھا، مشکل کی اس گھڑی میں ہم بلوچستان حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *