Lahore-Orange-Line-Metro-Train-Project-latest-update-3 copy

اورنج لائن میٹروٹرین، پراجیکٹ 260 ارب روپے تک پہنچ گیا

لاہور:  سپریم کورٹ کے حکم پر اورنج لائن میٹروٹرین پراجیکٹ پر کام جاری رکھنے کے حکم کے بعد اس کو پایہ تکمیل پہنچانے کے عمل میں تیزی آگئی ۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ چین کے تعاون سے پنجاب حکومت نے 25 اکتوبر 2015 کو شروع کیا۔ ابتدائی طور پر 164 ارب روپے کا پراجیکٹ بڑھتا ہوا 260 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ 28 جنوری 2016 کو منصوبے کے خلاف سول سائٹی سمیت دیگر کئی درخواستوں پر لاہور ہائیکورٹ نے حکم امتناعی جاری کیا اور پنجاب حکومت کو تاریخی عمارتوں کی 200 فٹ حدوو میں اورنج لائن منصوبے پر کام سے روک دیا، ان تاریخی عمارتوں میں شالا مار باغ، گلابی باغ گیٹ وے، بدو کا آوا، چوبرجی، زیب النسائ کا مقبرہ، لکشمی بلڈنگ، جی پی او، ایوان اوقاف، سپریم کورٹ رجسٹری بلڈنگ، سینٹ اینڈریو چرچ، موج دریا دربار اور مسجد شامل تھیں۔ پنجاب حکومت نے حکم امتناعی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور عدالت نے اورنج ٹرین مکمل کرنیکا گرین سگنل دیدیا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ منصوبے کے 11 مقامات پر ایک سال 10ماہ تک تعمیراتی کام بند رہا لیکن پنجاب حکومت کا دعویٰ ہے کہ لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے پر 73.8 فیصد کام مکمل کر لیا گی چیف انجینئراسرار سعید کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ تقریبا 6 سے 7ماہ میں مکمل ہو جائیگا۔ا۔ قائد اعظم انٹرچینج کے قریب رنگ روڈ کے اوپر سے ٹرین گزارنے کیلئے پل کی تعمیر بھی مکمل ہو چکی ہے جبکہ ریلوے سٹیشن کے قریب پل کی تعمیر کا 55 فیصد کام بھی مکمل کیا جا چکا ہے۔ پیکیج ون کے 13.4 کلومیٹر ٹریک میں سے 5 کلو میٹرتک پٹڑی بچھانے کا کام، تمام 11 بالائے زمین سٹیشنز جبکہ پیکیج ٹو کے 5 سٹیشنز کا گرے اسٹرکچر مکمل کر کے انہیں الیکٹریکل و مکینیکل ورکس کیلئے چینی کنٹریکٹرز کے حوالے کیا جا چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *