1012180-bosnia-1511961179-558-640x480

ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کے قاتل نے عدالت میں زہر پی لیا

پدی ہیگ: ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کے قاتل سلوبوڈن پرالجاک نے سزا کے خلاف اپیل مسترد ہونے پر بھری عدالت میں زہر پی لیا واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے جنگی جرائم ٹریبونل نے 1993میں بوسنیائی مسلمانوں کی نسل کشی رکوانے میں ناکامی اور ٹھوس اقدامات نہ کرنے پر سلوبوڈن پرالجاک کو مجرم قرار دیا تھا جب کہ اطلاعات کے باوجود منظم منصوبہ بندی کے تحت مساجد پر حملوں اور مسلمانوں کے قتل ِ عام پر خاموشی اختیار کی سلوبوڈن پرالجاک بوسنیا کے ان 6 سابق سیاسی رہنماؤں اور فوجی افسران میں شامل تھا جنہیں ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کے جرم میں سزا دی گئی ہے۔ سلوبوڈن پرالجاک کو عالمی عدالت انصاف نے 2013 میں 20سال قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف مجرم نے اپیل دائر کررکھی تھی اپیل مسترد ہونے پر سلوبوڈن پرالجاک نے عدالت میں زہر پی لیا۔ کٹہرے میں کھڑے مجرم نے دوران سماعت جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مجرم نہیں ہیں اور وہ اپنی سزا پر زہر پی رہے ہیں۔ جس کے بعد انہوں نے پہلے اپنے ہاتھ بلند کیے اور پھر زہر سے بھری شیشی پی لی،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *