khabar-kay-peechay-2nd-may-2016

پی ٹی آئی ، مسلم لیگ ن،پیپلزپارٹی حلقہ بندیوںپر قانون سازی نہیں کر سکتیں

لاہور: نئی حلقہ بندیوں کی قانون سازی میں تاخیر اور قبل از وقت انتخابات کیسے ممکن ہونگے ۔ اس ضمن میں سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی کیا ہے ۔ نیو ٹی وی کے پروگرام خبر کے پیچھے پروگرام میں پیپلزپارٹی کے رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ ن یہ بات ذہن سے نکال دے کہ ٹیکنو کریٹک حکومت بننے جا رہی ہے،نواز شریف سے ہم کسی صورت میں نہیں مل رہے۔ مسلم لیگ ن کو یہ بات مان لینی چاہئے کہ سپریم کورٹ ان کے خلاف کسی سازش میں شریک نہیں ہے ۔انہوں نے حلقہ بندیوں پر قانون سازی کے بارے میں کہا کہ سینٹ میں اس کےلئے 69 ووٹ درکار ہیں اگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن مل بھی جائیں تو 69 ووٹ نہیں بنتے ۔ تحریک انصاف بھی ساتھ مل جائے تو بھی نمبر کم رہتے ہیں تینوں جماعتیں مل کر بھی حلقہ بندیوںپر قانون سازی نہیں کر سکتیں۔ اس میں کلیدی کردار چھوٹی جماعتوں نے ادا کرنا ہے جس میں فاٹا اور ایم کیو ایم شامل ہیں۔ فاٹا انضمام کے معاملے میں عدم تعاون کی وجہ سے آگے نہیں آرہی ۔ ایم کیو ایم کے اپنے تحفظات موجو د ہیں اس موقع پر ان کا نیو نیوز کا پرانا کلپس بھی د کھا یا جس میں تحریک انصاف کے بارے میں بتا یاتھا تحریک انصاف کے دما غ میں ایک اور سازش آئی ہے آئیں میں لکھا ہے قومی اسمبلی کی معیاد مکمل ہونے جب چار مہینے رہتے ہوں اور اگر کوئی استعفی دیدے یا وفات پاجائے اس کے بعد ضمنی الیکشن نہیں ہو سکتا۔ان کا خیال یہ ہے کہ ہم پانچ فروری کے قریب جا کر مستعفی ہوں اور ہم کے پی کے اسمبلی بھی توڑ دیں اس کے بعد پھر الیکشن ہو نہیں سکیں گے ۔تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے کہا اگر حکومت وقت سے پہلے چلی جائے تو اس ترمیم کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، اگر اپ چار اور چھ مہینے میں مردم شماری کا کام مکمل نہیں ہو پاتا تو پھر حکومت کیا کرے گی،بلاول بھٹو نے درست کہا ہے کہ ہر جمہوریت کے خلاف نواز شریف کھڑئے ہوتے آ ئے ہیں ۔ مسلم لیگ ن کے ترجمان مصدق ملک نے کہا اگر ہر شہر میں دھرنے شروع ہو جاتے ہیں اور ان کو ختم کرنے کے لیے اگر فورس استعمال کرتے ہیں توپورے ملک میں دھما چوکڑی شروع ہو جائے گی اور ترمیم رہ جائے گی سپریم کورٹ کہے گی کہ حالات حکومت سے نہیں سنبھالے جا رہے اور عبوری حکومت لائی جائے انہوں نے کہا فاٹا کے پاس دس سیٹیں ہیں اور اس کو فائدہ ہے اگر مرجر کرتے ہیں تو سیٹ کم ہو جاتی ہیں،بغیر فوج کے جب خانہ شماری کرائی گی تو تمام پارٹیاں اکھٹی ہو گئیں کہ فوج کراے ورنہ ہم نہیں ما نیں گے جب فوج کو کہا تو اس نے انکار کر دیا پھر سپریم کورٹ نے کہا و فوج نے مردم شماری کرائی ۔ تجزیہ نگار عاصمہ شیرازی نے کہا حلقہ بندیوں پر اعتراضات وقت سے پہلے ہونے چا ہئیں تھے تاکہ یہ معاملات کھڑ ے ہی نہ ہوتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *