download (1) copy

نواز شریف پر پھر فرد جرم عائد

اسلام آبادٟ : اسلام آباد کی احتساب عدالت نے تینوں ریفرنس کیسز میں نواز شریف پر پھر فرد جرم عائد کردی اس سے قبل نواز شریف پر نمائندے ظافر خان کے ذریعے فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ نواز شریف نے صحت جرم سے انکار کردیا۔ اس موقع پر نواز شریف کا موقف تھا یہ ٹرائل سیاسی بنیادوں پر ہو رہا ہے، میرے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف بدھ کےروز پانچویں مرتبہ احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے، اس سے قبل وہ 26 ستمبر، 2 اکتوبر، 3 نومبر اور 7 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے تھے۔جبکہ اس سے قبل احتساب عدالت نے نوازشریف اور بیٹوں کی ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اپیل خارج کردی۔ کیس کی مزید سماعت 15 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت نے تینوں ریفرنس کیسز میں نواز شریف پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے مختصر فیصلہ سنا دیا۔ فیصلہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے پڑھ کر سنایا۔ جج کی جانب سے فیصلہ زبانی پڑھ کر سنایا گیا۔ عدالت نے نواز شریف پر لندن فلیٹس، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز میں فرد جرم عائد کی۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن ٟرٞ محمد صفدر کے خلاف نیب کی جانب سے دائر تین ریفرنسز کی سماعت کی۔ اس موقع پر عدالت کے جج نے برطرف وزیر اعظم نواز شریف کو روسٹرم پر طلب کیا۔ نواز شریف روسٹرم پر پچیس منٹ تک کھڑے رہے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا 4 ریفرنسز کو 6 ماہ میں نمٹانے کا حکم ہے،آپ جو کہنا چاہتے ہیں کہہ سکتے ہیں، جج نے نواز شریف سے استفسار کرتے ہوئے پوچھا کیا آپ کچھ اور کہنا چاہتے ہیں؟ جس پر نواز شریف نے کہا کہ کیس سیاسی انتقام کیلئے بنایا گیا، جس پر جج نے کہا کہ یہ لندن فلیٹ کی فرد جرم ہے۔ اس کے بعد عدالت نے نوازشریف کو فرد جرم پڑھنے کی ہدایت کی۔نواز شریف نے کہا مجھے فیئر ٹرائل کے حق سے محروم سے کیا گیا، میں فرد جرم کو نہیں مانتا، کارروائی سیاسی بنیادوں پر کی گئی، بنیادی حقوق سلب کیے جارہے ہیں، ٹرائل میں پنا دفاع کروں گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *