Quaid-e-azam-hd-wallpaper1

ملک کے موجودہ حالات میںقائداعظم کی ضرورت

لاہور: ملک کے موجودہ حالات میں میں بانی پاکستان قائد اعظم کے یاد آگئی ۔ سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں نے مارشل لا کے امکان کو خارج از امکان قرار دیدیا تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری نے کہا ہے نہرو کے طرح اگر قائداعظم کو بھی وقت ملتا اور وہ پاکستان کو سنبھا لیتے ۔ تو شاہد وہ سب نہ ہوتا جو پاکستانی تاریخ میں ہوا۔سیاست دانوں کی غلطیاں بھی فوج کو اجازت دیتی ہیں چونکوں دونوں کو پاس اقدار کی خواہش ہے،ہمیں پچھلے مار شل لا ئ سے سبق سیکھنا چاہیے وہ نیو نیوز کے پروگرام خبر کے پیچھے میں گفتگو کر ر ہے تھے ۔ تجزیہ کار افتخار احمد نے کہا اگر قائداعظم زندہ رہتے تو بلکہ ایسا نہ ہوتا،عدلیہ اور فوج کوگالیاں کیوں دی جا رہی ہیں کون ذمہ دار ہے۔ ملک کے حساس اداروں کی کون تذلیل کر رہا ہے،کیا ملک ایسے چل پائے گا، قادیانی مسئلہ کو چھیڑنے کا مقصد کیا ہے جو چیز ختم ہو چکی ہے پھر اس کو گندی سیاست کے لیے کیوں استعمال کیا جا رہا ہے،
انہوں نے کہا جن لوگوں نے مار شل لائ لگایا ان کے ساتھ وہ لوگ بھی قصور وار ہیں جنہوں نے ان کا ساتھ دیا،سب سے بڑی تباہی ہمارا خوش آمدانہ رویہ ہے۔ مسلم لیگ ن کے ترجمان مصدق ملک نے کہا اب پاکستان میں مارشلائ نظر نہیں آتا،آج پی ٹی آئی خود کہہ ر ہی ہے عدلتیں تعصب زدہ ہیں ہم تو پہلے بھی کہتے تھے۔ دفاعی تجزیہ کار غضنفر علی۔ نے کہا مارش لائ کو کبھی بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا وہ ٹھیک تھا یہ غلط ،یہ ایک قانون کا حصہ ہے ۔ تاریح نے پہلے تو سسٹم مضبوط نہیں کیا ،مجھے اب پاکستان میں مارشلائ کا کوئی خطرہ نظر نہیں آتا۔ پیپلزپارٹی کے ترجمان مصطفی نواز کھوکھر نے کہا اب پاکستان1999 کا پاکستان نہیں ہے اب میڈیا ،عدالتیں موجود ہیں ،پی ٹی آئی والے دوسروں کو عدالت میں پیش ہونے کی باتیں کرتے ہیں اور خود کیوں نہیں پیش ہوتے،انصاف کا نام لے کر اور انصاف کا نام رکھ کر انصاف کیوں نہیں کرتے،عمراں خان پیش ہو کر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *