khabar-kay-peechay-2nd-may-2016

ن لیگ کے اراکین اسمبلی کا اپنی ہی حکومت کے خلاف واک آوٹ ،۔ نیو نیوز نے اصل کہانی کا پتہ چلا لیا

لاہورٟ: ن لیگ کے اراکین اسمبلی نے اپنی ہی حکومت کے خلاف واک آوٹ کیو ں کیا ۔ نیو نیوز کے پروگرام کے میزبان فواد چودھری نے اندر کی بات عیاں کر دی ۔ جس سے آئی بی کی لسٹ میں شامل ہونیوالے سیاستدانوں کے ناموں کی وجہ پتہ چل گئی ۔ ۔ انہوں نے بتایا کہ نجی ٹی وی پر پروگرام ہوا تھا جس میں انٹیلی جنس کا ڈائریکٹو دکھا یا گیا تھا 37 کے قریب ایم ایز کا تعلق شدت پسندوں سے ظاہر کیا گیا تھا ۔ ان میں، ریاض پیرزادہ ،ارمغان سبحانی ،شازیہ مبشر ،سردار محمد ڈوگر،بلال ورک ،اویس لغاری ، جاوید اخلاص سمیت دیگر شامل تھے ۔ جس پر اگلے دن کیبنٹ میٹنگ ہوئی جس میں اویس لغاری اور باقی سب نے وزیراعظم کو کہا کہ ہم سٹنگ منسٹر ہیں اور ہمارئے بارے میں یہ لسٹ آئی ہے، ۔ اس موقع ہ پر پرائم منسٹر کو فورا کوئی چٹ آگئی جس پر پروائم منسٹر نے بتایا کہ ڈی جی آئی بی نے واضح کیا ہے کہ یہ لسٹ پرائم منسٹر ہاوس کے ڈارئریکٹیو پر کی۔کیونکہ جو لیٹر آئی بی کا ہے اس پر وزیرعظم ہاوس کا ایک ریفرنس نمبر بھی ہے، ارشد شریف کو آئی بی آفیشل نے دھمکیاں بھی دیں۔ جس کی مذمت کی گئی اور انہیں پیمرا طلب بھی کیا گیا ۔ ،اس کے بعد تین رکنی کمیٹی بنا دی یہ کمیٹی لا منسٹر کے ماتحت بنائی گئی ۔ ریاض پیرزادہ ایران گئے ہوئے تھے جب وہ پاکستان واپس آئے تو انہوں نے کہا جو کمیٹی بنائی گئی تھی اس کمیٹی نے کوئی کام نہیں کیا۔ ،ایک ایم این اے کی بیگم ویزے کے لیے گئیں اس اییمبیسی نے ان کے سامنے لسٹ رکھ دی انہوں نے کہا اپ کے خاوند کاکا نام تو دہشتگردوں کی لسٹ میں ہے،اویس لغاری کے بیٹے باہر پڑہتے ہیں، ان کے بیٹے کو یونیورسٹی انتظامیہ نے بلایا اور کہا کہ اپ کلیرنس کروائیں،اس طرع باقی تمام ایم این ایز بہت پرشان ہو گئے کیو نکہ انہوں نے باہر آنا جانا تو ہوتا ہے اسی طرح شزرے منصب کے عزیز امریکہ میں ہیں انہیں وہاں ایف بی آئی نے طلب کر لیا اور کہا آپ لوگ تعلقات ان لوگوں سے جڑے ہوئے ہیں اور آپ گورنمنٹ ا ٓف پاکستان سے کلیرنس لیں۔ اس کے بعد تمام ایم این ایز پریشان ہوگئے کیونکہ سب نے باہر آْنا جانا ہوتا ہے ۔ اس میٹنگ کے بعد پھر سپیکر سے ایک میٹنگ ہوئی جس میں ڈی جی آئی بی نے کہا کہ یہ میرے دستخط نہیں ہیں۔یہ ہمارا ڈارئیریکٹو نہیں ہے لیکن یہ سکین ہوا ہے ۔ لیکن ارشد شریف کا موقف جو کہ انہوں نے پیمرا میں دیا انہوں نے کہا ہم اس کے فرانزک کروانے کے پیسے دینے کو تیار ہیں آپ اس کا فرانزک کروالیں۔ اب صورتحال یہاں پر پہنچ چکی ہے کہ ۔ نجی ٹی وی اور ارشد شریف اپنی سٹوری پر قائم ہیں اور ایم این اے بھی اس بات پر سٹینڈ لے چکے ہیں کیونکے بہت سارے ایسے لوگ ہیں جو خود دہشتگردی کا شکار ہیں اور ر ہے ہیں۔فواد چودھری نے کہا ہ دیکھنا ہو گا کہ آج کے اجلاس میں ایم این اے بائیکاٹ کرتے ہیں یا نہیں، انہوں نے کراچی کے حالات پر بات کرتے ہوئے کہا ایک موٹر سائکل سوار گزرتا ہے چاقو مارتا ہے اور فرار ہو جاتا ہے، مگر ملزم ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکا،مذہبی شدت پسند تنظیمیں اور سکالر بھی ہو سکتے ہیں جو عورتوں کی آزادی نہیں چاہتے اور ممکن ہے کہ ایک گیم ہے جو آج کل دنیا میں خوف پھلا رہی ہے جسے بلیو ویل کہتے ہیں ممکن ہے کہ کوئی اس کا ٹاسک پورا کر رہا ہو،پانچ چھ کلومیٹر کے علاقے میں یہ کوئی ایک ہی بندا لگ رہا ہے۔ چیف ایگزیکٹو نیو نیوزنصراللہ ملک نے کہا کہ اداروں کے درمیان ٹینشن موجود ہے، آئی بی کے مبینہ خط میں جو نام آئے ہیں اس سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا، مسلم لیگ ن کے ایم این اے پر نظر رکھنی ہو گی
پیپلزپارٹی کے رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے کہا حکومتی وزرا نے حکومت کے خلاف ہی بات کی ،ایم این ایز کا ایک بہت بڑا گروپ ہے اور یہ مسئلہ تو بہت گھمبیر ہے،حکومت اپنے رینک پر موجود لوگوں کو بھی مطمئن نہیں کر پا ر ہی ،وزیرعظم کے نااہلی کے بعد بہت سارے وزرائ ناراض ہیں اور ان پر نظر رکھنے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے ان میں ذیاداتر وہ لوگ ہیں جو خود جیت کر آئے ہیں اور ان کے حلقے مضبوط ہیں۔ انہوں نے امریکہ کی پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا امریکا کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان پر دبا¶ بڑھایا جائے، پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانی دی ، امریکا افغانستان میں اربوں ڈالرز خرچ کرکے امن قائم نہیں کر سکا، امریکا افغانستان میں اپنی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو نہ ٹھہرائے، انہوں نے کہا کراچی میں عورتوں کو چاقو سے وار کرنے والا ممکن ہے کوئی نفسیاتی مریض ہو ،ایسے لوگوں کو پکٹرنا تھوڑا مشکل ہو سکتا ہے۔سینئر تجزیہ کار رضا رومی نے کہا کہ ٹرمپ کے آنے کے بعد پاکستان سے تعلقات پر نظر ثانی ہو رہی ہے، دنیا کو بتانا ہوگا کہ ہم نے دہشتگردی کیخلاف ہزاروں جانوں کی قربانیاں دیں،امریکا افغانستان سے فوری نہیں نکلنا چاہتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *