Untitled-1 copy

میرے خلاف فیصلہ آئین و قانون نے تسلیم نہیں کیا میں کیسے مان لوں۔نواز شریف

اسلام آبادٟ: سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے میرے خلاف فیصلے کو آئین اور قانون نے نہیں تسلیم نہیں کیا تو میں کیسے مان لوں مجھے نا اہل کرنا ہی تھا اس لئے اقامہ کی آڑ لی گئی ۔ عدالت سے فرار ہونا ہمارا طرز نہیں ہے ۔ہم قانون کی عملداری پر یقین رکھتے ہیں ۔ انصاف کو انتقام بنادیا جائے تو سزا عدالت کو ملتی ہے۔سالہ پرانے کینسر کا علاج تشخیص کرنے کا وقت آ گیا ہے ورنہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں ملک کسی بڑے سانحہ کا شکار نہ ہو جائے۔انہوں نے پنجاب ہاوس میں پریس کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا پہلے اور اب میں فرق یہ ہے کہ پہلے آمریت تھی لیکن اب جمہوری دور ہے، آمر کے دور میں اپیل کا حق تھا آج اس سے بھی محروم کردیا گیا، ہم قانون کی عملداری پر یقین رکھتے ہیں، ہم نے جائز اور ناجائز سب تسلیم کیا لیکن ملک میں ہر صورت قانون کی پاسداری اور انصاف ہونا چاہیے، قانون کی بالادستی نہ ہونے سے اداروں میں تصادم کا خدشہ پیدا ہوتا ہے، حالات کی سنگینی کا سامنا پہلے بھی کیا اور اب بھی کررہا ہوں۔ نواز شریف نے کہا حالات کی سنگینی کا سامنا پہلے بھی کیا اور اب بھی کررہا ہوں پاناما تاریخ کا پہلا کیس ہے جس میں دفاع کرنے والے کے حقوق سلب کرلیے گئے اور عدل و قانون کا پورا وزن درخواست گزار کے پلڑے میں ڈال دیا گیا، اس کیس نے سیاسی انتقام کی کوکھ سے جنم لیا، کیا ایسا ہوتا ہے انصاف، کیا یہی قانون کی پاسداری اور فیئر ٹرائل یہی ہے، قانون کی پاسداری نہ ہونے سے اداروں میں تصادم کا خدشہ جنم لیتا ہے۔ انصاف کے عمل کو انتقام کا عمل بنادیا جائے تو پہلی سزا کسی فرد کو نہیں بلکہ عدالت کو ملتی ہے، فیصلوں کی ساکھ نہ رہے تو عدالتوں کی ساکھ بھی نہیں رہتی، تمیزالدین سے نواز شریف تک تاریخ ایسے فیصلوں سے بھری ہے جن پر ندامت ہوتی ہے، 70 سالہ کینسر کا علاج تجویز کرنے کا وقت آگیا ورنہ پاکستان خدانخواستہ کسی سانحے کا شکار نہ ہوجائے، میں جھوٹ پر مبنی بے بنیاد مقدمے لڑ رہا ہوں اور سزا پارہا ہوں۔۔نواز شریف نے میرا ضمیر اور دامن صاف ہے، عوام میرے ساتھ کھڑے ہیں، امید ہے کہ کہیں نہ کہیں انصاف زندہ ضرور ہے۔ آمریت کے دور کے پٹے ہوئے مقدمات کو میرے خلاف استعمال کیا جارہا ہے، نشانہ میری ذات اور میرا خاندان ہے لیکن سزا پوری قوم کو اور ان کی نسلوں کو دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا مجھے افسوس ہے کہ صحافیوں پر تشدد کیا گیا ۔ فریڈم آف میڈیا کا حامی ہوں۔ مستقبل میں ایسے واقععات کی روک تھام کی ہدایت کی ہے ۔ اہلیہ کو دعاوں میں یاد رکھنے پر عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اہلیہ کی بیماری کی وجہ سے لندن جانا پڑا ۔ وہاں ایک دن بھی رکنا نہیں چاہتا تھا۔ وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کسی بھی مرحلے پر ملک سے باہر ہونگا۔لوگوں نے میرے دورے پر باتوں کے بتنگڑ بنالئے ۔ نواز شریف نے کہا کا ش یہ لوگ دیکھتے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کا اعلان کس نے کیا پاکستان کے موٹروے اور دیگر بڑے اثاثوں پر کس کا نام لکھا ہوا ہے لواری ٹنل کچھی ایکسپریس وے کس نے بنایا،گیس کی قلت کا خاتمہ ،لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کس نے کیا یہ کم اثاثے ہیں ،کراچی فاٹا سمیت پورے ملک میں امن آیا کیا یہ کوئی معمولی اثاثہ ہے ،نوجوانوںکیلئے روزگار کے موقع پیدا کرنا کوئی معمولی اثاثہ ہے کاش ان پر بھی نظر ڈالی جائے لیکن میرے لئے یہ خوشی ہے کہ میری قوم یہ سب جانتی ہے ۔جب انہیں پاناما میں کوئی ثبوت نہ ملے توعدالت نے ایک جے آئی ٹی بنا ڈالی اور اسی عدالت نے نگرانی بھی سنبھال لی اور اسی عدالت نے نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا اور اسی عدالت نے نیب کا کنٹرول بھی سنبھال لیاکیا اسی کو آئین کی پاسداری کہتے ہیں ۔ نواز شریف نے کہا میں جانتا ہوں کہ میر ا صل جرم کیا ہے ۔ انہوں نے کہا میں جانتا ہوں کہ میر ا صل جرم کیا ہے ماضی میں بڑی بڑی پیشیاں اور مقدمات مجھے عوام سے دور نہیں کر سکے اور کوئی ہے جو نہیں جانتا کہ 2013 میں ملک کے حالات کیا تھے اور آج کا پاکستان کے کیا حالات ہے ہماری پوری کوشش ہے کہ توانائی بجلی ترقیاتی منصوبے وقت پر مکمل ہوں میں اپنی اور اپنے خاندان کی مشکلات کو عوام کی مشکلات نہیں بننے دوں گا۔انہوں نے کہا میں عوام کا شکر گزار ہوں جو میرے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں اور خاص طور پر این اے 120 کے عوام کا جنہوں نے ن لیگ کو کامیابی دلوائی میں اپنے رہنما وں کا بھی شکر گزار ہوں جو پارٹی کے ساتھ جڑے رہے اور یہ آئندہ الیکشن میں بھی کامیاب ہونگے میں نے پاکستان کے تحفظ کی دھرتی کھائی ہے اور اس کیلئے ہر قسم کی قربانی ادا کرنے کیلئے تیار ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *