Green copy

نیویارکٟ : وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل چاہتے ہیں لیکن بھارتی مہم جوئی اور کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ پاکستان میں سول اور ملٹری قیادت میں کوئی اختلاف نہیں ہے، سول و عسکری قیادت ایک پیج پر ہے پاناما فیصلے کے بعد انتقال اقتدار جمہوری عمل کا حصہ تھاعدالتوں کا احترام کرتے ہیں ہمارا موقف ہے کہ سب کو ایک ہی معیار پر تولا جائے، کابینہ میں کوئی ردو بدل نہیں ہو رہا عدالت نے فیصلہ دے دیا جس کے بعد حکومت چلی گئی اور نیا وزیر اعظم 4 روز بعد آگیا۔انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72 ویں اجلاس سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اقوام متحدہ نے 70 سال میں دنیا کو کئی تنازعات سے بچایا لیکن بدقسمتی سے اقوام متحدہ کے منشور پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی تمام ممالک کے ساتھ دوستی پر مبنی ہو گی لیکن۔ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ با¶نڈری پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں اور رواں برس بھارت کی جانب سے 600 سے زائد بار فائر بندی کی خلاف ورزیاں کی جا چکی ہیںبھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 7 لاکھ فوجیوں کو تعینات کر رکھا ہے جو کشمریوں کی جدو جہد آزادی کو طاقت کے ذریعے کچل رہی ہے لیکن پاکستان کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔ کشمیری بھارت سے آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں، بھارت کشمیر میں جنگی جرائم سے جنیوا کنویشن کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے لہذا اقوام متحدہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی شفاف تحقیقات کرائے۔انہوں نے کہا دہشت گردی اب ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے اور اسے اسی سطح پر ہی حل ہونا چاہیئے لیکن دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ بھی نہایت ضروری ہے۔ بھارت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن بھارت کی کسی بھی مہم جوئی اور کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا دنیا سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مشترکہ کوششوں کی اشد ضرورت ہے اور پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانیں دیں اور 120 ارب ڈالر لگائے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں پر کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے واضح کیا کہ طالبان کے محفوظ ٹھکانے پاکستان میں نہیں افغانستان میں موجود ہیں جہاں سے اکثر سرحد پار حملے ہوتے ہیں، جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی سرحد پار سے پاکستان میں حملے کرتی ہیں جب کہ پاکستان نے سرحدی علاقوں سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کئے۔ 16 سال سے جاری افغان جنگ کا حل صرف مذاکرات میں ہے، بین الاقوامی طاقتیں افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر مت ڈالیں، ہم افغان جنگ کو پاکستانی سرزمین پر لڑنے کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی پاکستان قربانی کا بکرا بنے گا۔ پاکستان سے زیادہ افغانستان میں امن کا خواہاں کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دنیا روہنگیا میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ظلم اور زیادتیوں کو بھی دیکھ رہی ہے جہاں منظم طریقے سے مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے جب کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لئے مسئلہ فلسطین کا حل بھی بہت ضروری ہے جسے فوری طور پر حل ہونا چاہئے، اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ خطے میں تشدد کا سبب بن سکتا ہے۔ یورپ کو ایک نئی سرد جنگ کا سامنا ہے جب کہ سلامتی کونسل کو زیادہ جمہوری بنانے کے لئے پر عزم ہیں۔ داعش عراق اور شام میں دہشت گردی کر رہی ہے، ۔انہوں نے میڈیا کوبتایا کہ ان کا دورہ امریکہ بہت اہم رہاامریکی انتظامیہ سے مختلف سطح پر بات چیت ہوئی امریکی صدر سے غیر رسمی ملاقات ہوئی امید ہے امریکی حکام سے مثبت جواب ملے گا۔ دورے کے دوران مختلف کمپنیوں کے سربراہوں سے بھی ملے، نشریاتی اداروں اور اخبارات کو انٹرویو بھی دیے ، پاکستانی وفد نے گزشتہ روز 27 ملاقاتیں کیں اور پاکستان کا موقف ہر جگہ موثر انداز میں پیش کیا۔ا دہشتگردی کے خلاف حقیقت دلائل کے ساتھ بیان کی ، دہشتگردی یا کسی دہشتگرد کے حامی نہیں ہیں بلکہ اس کے خلاف جنگ میں شراکت دار ہیں آج دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف پاکستان لڑ رہا ہے ہم نے کہیں سے ڈو مور کی آواز نہیں سنی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *