Shahid-Khaqan

پاکستان میں قابل اعتماد اور طاقتور جوہری توانائی کے منصوبے کی بنیاد رکھ دی

اسلام آباد : وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے 28 دسمبر 2016ءمیں چشمہ یونٹ تھری کے باقاعدہ آغاز کے صرف آٹھ ماہ بعد ملک کے پانچویں جوہری بجلی گھر چشمہ یونٹ فور کا افتتاح باعث افتخار ہے۔ انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ماضی کی طرف دیکھتے ہوئے مجھے اس بات کی بڑی خوشی ہے کہ جب چشمہ یونٹ کی تعمیر کا معاہدہ ہوا تھا تو اس وقت بھی ملک میں محمد نواز شریف کی حکومت تھی اور اسی معاہدے نے دونوں ممالک کے درمیان نیوکلیئر توانائی کے شعبے میں تعاون کی بنیاد رکھی۔ چشمہ میں چلنے والے تینوں یونٹ ملک میں بہترین کارکردگی کے حامل ہیں اور اس وقت ملک کو 900 میگا واٹ سے زائد بجلی ارزاں نرخ پر فراہم کر رہے ہیں۔انہوں نے چشمہ میں 340 میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کے حامل پاکستان کے پانچویں ایٹمی بجلی گھر سی فور کے افتتاح کے بعد خطاب کرتے ہوئے حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ دو اضافی منصوبے کے 2 اور کے 3 بھی تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن ہیں اور یہ وقت سے پہل مکمل ہو کر ملک کو روشن بھی کریں گے اور ماحول میں آلودگی کو کم کرنے میں اپنا کردار بھی ادا کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں قابل اعتماد اور طاقتور جوہری توانائی کے منصوبے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے تعاون سے چشمہ میں تعمیر کئے گئے چشمہ نیوکلیئر پاور کی بنیاد رکھی گئی۔ ملک میں جاری بجلی کے متعدد منصوبوں کے علاوہ چشمہ اور مظفر گڑھ کے مقام پر مزید نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر کا منصوبہ بھی بنایا جاچکا ہے اور یہ حکومت کی طرف سے 2020ءتک پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو دیئے جانے والے 8800 میگاواٹ کے ہدف کے حصول کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت محمد نواز شریف کے اس عزم کو پورا کرے گی کہ جو ہدف پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو دیا تھا، اس کو پورا کرنے میں ہر ممکن مدد کرے گی اور یہ ہماری اولین ترجیح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ چین کی حکومت اور چین کے عوام کی مدد کے بغیر یہ منصوبے پایہ تکمیل کو نہ پہنچ پاتے اور میں اس موقع پر چینی حکومت، چین اٹامک انرجی کمیشن اور دیگر چینی تنظیموں سمیت ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف چائنہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوںکہ انہوں نے جدید نیوکلیئر پاور پلانٹ کے لئے ہمیں تکنیکی اور مالی امداد فراہم کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں دیگر چینی کمپنیوں کو بھی دعوت دوں گا کہ وہ پاکستان میں نیوکلیئر پاور پلانٹ لگائیں اور اس شعبہ میں مزید سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ نہ صرف نیوکلیئر پاور کے پلانٹ میں بلکہ دور جدید میں چینی حکومت کا تعاون دونوں ممالک کے لئے قابل فخر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے لہذا حکومت نے ترجیحی بنیاد پر بجلی حاصل کرنے کے 10 ہزار میگاواٹ سے زائد کے منصوبے بنائے جو انشاءاللہ اگلے سال جون سے پہلے اسی حکومت کے دور میں مکمل ہوں گے اور کچھ مکمل ہو چکے ہیں جبکہ باقی تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں بجلی کی صورتحال اب کافی بہتر ہے، مجھے یقین ہے کہ انشاءاللہ نومبر 2017ءکے بعد ہم ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرنے کے قابل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے ادارے ملک میں قائم شدہ اور نئے قائم کئے جانے والے تمام پاور پلانٹس کی کڑی نگرانی کر رہی ہے تاکہ دنیا میں مرو جہ حفاظتی قوانین کے مطابق تمام ایٹمی بجلی گھروں کے لئے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *