14621_32468456 copy

معاشرہ شناس اشفاق احمد کی تحریریںآج بھی لازوال

لاہور: شفاق احمد خان ہندوستان کے شہر ہوشیار پور کے ایک چھوٹے سے گا¶ں خان پور میں ڈاکٹر محمد خان کے گھر 22 اگست، 1925ئ کو بروز پیر پیدا ہوئے ۔ ان میں معاشرہ پڑھنے والا اور پھر اس کو بیان کرنیوالا شخص موجود تھا جس نے ہر ایک سے داد سمیٹی۔ ان کی تحریریں آج بھی لازوال ہیں۔ وہ اردو ادب کی پہچان بنے ان کی وجہ شہرت ان کا پہلا افسانہ گڈریا بنا۔ ۔ اجلے پھول، ایک محبت سو افسانے اشفاق احمد کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہیں۔ اشفاق احمد نے ریڈیو پاکستان ٟلاہورٞ سے ایک ہفتہ وار پروگرام تلقین شاہ شروع کیا۔ جو اپنے مخصوص مزاح اور ذومعنی جملوں کی وجہ سے بے حد مقبول ہوا۔ یہ پروگرام تیس سال سے زیادہ نشر ہوا۔پاکستان ٹیلی وعن کے آغاز کے ساتھ ہی بے شمار ڈرامہ نگار سامنے آئے۔ پی ٹی وی کے پہلے دور کاپہلا ڈرامہ سیریل اشفاق احمد نے ٹاہلی تھلے کے عنوان سے تحریر کیا۔ اس ڈرامے کو نثار حسن اور ذکا درانی نے پیش کیا۔ ۸۰ کی دہائی میں اشفاق احمد نے سماجی اور رومانی موضوعات پر ایک محبت سو افسانے کے نام سے ایک ڈرامہ سیریز لکھی۔ اسی عرصے میں اشفاق احمد کے دو مقبول ڈرامہ سیریل توتا کہانی اور من چلے کا سودا ٟبراڈ کاسٹٞ نشر ہوئے۔ توتا کہانی، اور من چلے کا سودا، دونوں ڈراموں میں اشفاق احمد نے تصوف کے نقطے بیان کیے۔ جس پر انھیں مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اشفاق احمد کا ڈرامہ پھول والوں کی سیر پی ٹی وی کا پہلا رنگین ڈرامہ تھا جسے عوام میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ اشفاق احمد کے ڈراموں پر عام طور پر دو اعتراضات کیے گئے کہ سمجھ نہیں آتا کہ وہ اپنے ڈرامے میں کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اشفاق احمد اپنے ڈرامے کے پلاٹ سے زیادہ مکالموں کو اہمیت دیتے اور ان کے کردار بات کرنے کے بجائے لمبی لمبی تقریریں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پی ٹی وی پر اشفاق احمد کا سب سے مقبول پروگرام زاویہ تھا۔ اس پروگرام میں اشفاق احمد اپنے مخصوص انداز میں قصّے اور کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ اشفاق صاحب کا انتقال ۷ ستمبر ۲۰۰۴ئ کو جگر کی رسولی کی وجہ سے ہوا۔ جس کے بعد زاویہ پروگرام کی تمام قسطوں کو کتابی شکل دے دی گئی۔ زاویہ کئی جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب نے بے حد مقبولیت حاصل کی۔اشفاق احمد کے پی ٹی وی ڈراموں میں، درج ذیل ڈراموں نے عوامی مقبولیت حاصل کی۔
ایک محبت سو افسانے (۱۹۸۸ئ)، ننگے پا¶ں (۱۹۹۱ئ)، بند گلی، قلعہ کہانی (۱۹۹۰ئ)، اور ڈرامے (۱۹۹۳ئ)، شاہلہ کوٹ، ٹاہلی تھلے، حیرت کدہ (۱۹۹۵ئ)، مہمان سرائے اچے برج لاہور دے، توتا کہانی (۱۹۹۸)، من چلے کا سودا فہمیدہ کی کہانی استانی راحت کی زبانی۔ اشفاق احمد اردو کے ایک ایسے ادیب تھے کہ جنھوں نے افسانے، ڈرامے اور مضامین لکھے ان کی کتاب بابا صاحبا میں تصوف سے تعلق رکھنے والے مختلف بابو کا تذکرہ ہے۔۔اشفاق صاحب کے اکثر ڈراموں کا بنیادی موضوع بھی تصوف ہے۔ایک محبت سو ڈرامے ، کی کہانیاں بھی ناظرین کو متاثرکیے بنا نہیں رہ پاتیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *