trump-1 copy

ورجینیاٟ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیںاوراسلام آباد کو دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کیخلاف کارروائیاں کرنا ہوں گی ۔پا کستان میں دہشتگردوں کی مبینہ پناہ گاہوں پر خاموش نہیں رہیں گے، پاکستان افراتفری پھیلانے والے افراد کو پناہ دیتا ہے۔ انہوں نے آرلینگٹن کے فوجی اڈے میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کردی جبکہ بھارت کی خدمات کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا پاکستان سے نمٹنے کے لیے اپنی سوچ تبدیل کر رہے ہیں جس کے لیے پاکستان کو پہلے اپنی صورتحال تبدیل کرنا ہوگی اور پاکستان تہذیب کا مظاہرہ کرکے قیام امن میں دلچسپی لے۔ جنوبی ایشیا میں اب امریکی پالیسی کافی حد تک بدل جائے گی انہوں نے جنوبی ایشیاکے بارے میں نئی امریکی پالیسی کااعلان کرتے ہوئے کہا پاکستان اربوں ڈالر لینے کے باوجود دہشتگردوں کو پناہ دے رہا ہے جب کہ ہم دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی مالی مدد کرتے آئے ہیں۔ پاکستان دہشتگردی کیخلاف ہمارا اہم شراکت دار ہے اس لیے پاکستان کا افغانستان میں ہمارا ساتھ دینے سے فائدہ، بصورت دیگر نقصان ہوگا۔امریکی صدر نے ،بھارتی کردار کی تعریف کہا انہوں نے کہا خطے میں بھارت کے کردارکے معترف ہیں اور امریکا چاہتا ہے کہ بھارت افغانستان میں معاشی ترقی میں کرداراداکرے۔ انہوں نے داعش کے متعلق سوال پر کہا داعش کو پھلنے پھولنے دینا ہماری غلطی تھی تاہم اب عراق کی طرح انخلا کی غلطی افغانستان میں نہیں دہرائیں گے، افغانستان سے نکلے تو پیدا ہونے والا خلا دہشتگرد پورا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا جلد بازی میں عراق سے نکل گیا، فائدہ دہشتگردوں نے اٹھایا اورعراق سے تیز انخلا کا نتیجہ داعش کے تیزی سے پروان کی صورت نکلا، تیزی سے انخلا کی صورت میں ممکنہ نتائج کا پتہ ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں پاکستانی عوام کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام نے دہشتگردی اورانتہاپسندی کو بہت زیادہ سہاہے اورامریکا پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پرخاموش نہیں رہے گا،ا ہمیں افغانستان اورجنوبی ایشیامیں چیلنجنگ صورتحال کاسامناہے،امریکا ان ممالک پر اقتصادی پابندیاں لگائے گا جودہشت گردوں کوبڑھاوادیتے ہیںامریکی افواج نے ملک کےلئے بے پناہ قربانیاں دیں،امریکا میں نفرت کےلئے کوئی جگہ نہیں،افغان جنگ 17سال پر محیط ہے،افغانستان سے امریکی فوج کاانخلا میری خواہش ہے،امریکی فوجی وہ سمجھتے ہیں جوبحیثیت قوم ہم نہیں سمجھتے،ٹرمپ نے کہاکہ امریکا کےلئے لڑنے والے جیت کے حق دارہیں،امریکی فوجی باہمی اعتمادکےساتھ خودکوبھلاکرملکی خدمت کرتی ہے انہوں نے کہا ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت 2 ایٹمی طاقتیں ہیں، ایٹمی ہتھیار دہشتگردوں کے ہاتھ نہیں لگنے دینا چاہتے تاہم پاکستان اور افغانستان میں ہمارے مقاصد واضح ہیں اس لیے پاکستان اور افغانستان ہماری ترجیح ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں صرف فوجی کارروائی سے امن نہیں ہو سکتا، سیاسی، سفارتی اور فوج حکمت یکجا کرکے اقدام کریں گے، افغان حکومت کی مدد جاری رکھیں گے اور امریکا افغان عوام کے ساتھ مل کر کام کرے گا اس لیے افغانستان کو اپنے مستقبل کا تعین خود کرنا ہوگا۔ ہم نے افغانستان کو ہر زاویے سے دیکھ کر حکمت عملی تیار کی، ہم کسی نہ کسی طرح مسائل کا حل نکالیں گے اور دہشتگردی بڑھانے والوں پر معاشی پابندیاں لگائیں گے اور یقین ہے نیٹو بھی ہماری طرح فوج بڑھائے گا۔ مجھے بھی اپنی عوام کی طرح افغان جنگ میں طوالت پر پریشانی ہے امریکی قوم گزشتہ 16 سال کے جنگی حالات سے پریشان ہو چکی ہے جب کہ امریکا نے نسل در نسل مسائل کا سامنا کیا اور ہمیشہ فاتح رہا۔۔ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں نائن الیون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو کوئی نہیں بھول سکتا، یہ حملے بدترین دہشتگردی ہیں، ان کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد افغانستان سے ہوا تاہم امریکا کو بیرونی دشمنوں سے بچانے کیلیے متحد ہونا پڑیگا اور دہشتگردی کے خلاف ساتھ دینے والے ہر ملک سے اتحاد کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اتحادیوں سے مل کر مشترکہ مفادات کا تحفظ کریں گے اور دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *