download (3)

اردو کو عالمگیر حیثیت دینے کا سہرا مولوی عبدالحق کے سر

لاہور: اردو زبان کی ترقی کے لئے شناخت رکھنے والے مولوی عبد الحق کو دنیا چھوڑے 56 برس بیت گئے وہ 16 اگست 1961 کو کراچی میں انتقال کر گئے تھے ۔۔ انہوں نے اپنی تمام زندگی اردو زبان کے فروغ، ترویج اور اشاعت کے لیے وقف کردی تھی ۔ وہ اردو زبان کے محسن تھے ۔ اردو زبان پر جس قدر احسان ہے شاید ہی کسی اور کا ہو، اردو زبان کو آج جو ایک عالمگیر حیثیت حاصل ہے یہ مولوی عبدالحق کی پوری زندگی کی ریاضت اور محنت کا ثمر ہے۔۔1935ئ میں جامعہ عثمانیہ کے ایک طالب علم محمد یوسف نے انہیں بابائے اردو کا خطاب دیا جس کے بعد یہ خطاب اتنا مقبول ہوا کہ ان کے نام کا جزو بن گیا۔ان کی خدمات پر نظر ڈالیں وہ کام کے لئے وقف نظر آتے یںجنوری 1902ئ میں آل انڈیا محمڈن ایجوکیشن کانفرنس علی گڑھ کے تحت ایک علمی شعبہ قائم کیا گیا جس کانام انجمن ترقی اردو تھا۔ مولانا شبلی نعمانی اس کے سیکرٹری رہے تھے۔ 1905ئ میں نواب حبیب الرحمن خان شیروانی اور 1909ئ میں عزیز مرزا اس عہدے پر فائز ہوئے۔ عزیز مرزا کے بعد 1912ئ میں مولوی عبدالحق سیکرٹری منتخب ہوئے جنھوں نے بہت جلد انجمن ترقی اردو کو ایک فعال ترین علمی ادارہ بنا دیا۔ مولوی عبد الحق اورنگ آباد (دکن ) میں ملازم تھے وہ انجمن کو اپنے ساتھ لے گئے اور اس طرح حیدر آباد دکن اس کا مرکز بن گیا۔ انجمن کے زیر اہتمام لاکھ سے زائد جدیدعلمی ، فنی اور سائنسی اصطلاحات کا اردو ترجمہ کیا گیا۔ نیز اردو کے نادر نسخے تلاش کرکے چھاپے گئے۔ دو سہ ماہی رسائل، اردو اور سائنس جاری کیے گئے۔ ایک عظیم الشان کتب خانہ قائم کیاگیا۔ حیدرآباد دکن کی عثمانیہ یونیورسٹی انجمن ہی کی کوششوں کی مرہون منت ہے۔ اس یونیورسٹی میں ذریعہ تعلیم اردو تھا۔ انجمن نے ایک دار الترجمہ بھی قائم کیا جہاں سینکڑوں علمی کتابیں تصنیف و ترجمہ ہوئیں۔ اس انجمن کے تحت لسانیات، لغت اور جدید علوم پر دو سو سے زیادہ کتابیں شائع ہوئیں۔ تقسیم ہند کے بعدانہوں نے اسی انجمن کے اہتمام میں کراچی، پاکستان اردو آرٹس کالج، اردو سائنس کالج، اردو کامرس کالج اور اردو لا کالج جیسے ادارے قائم کیے۔ مولوی عبدالحق انجمن ترقی اردو کے سیکریٹری ہی نہیں مجسّم ترقّی اردو تھے۔ ان کا سونا جاگنا، اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، پڑھنا لکھنا، آنا جانا، دوستی، تعلقات، روپیہ پیسہ غرض کہ سب کچھ انجمن کے لیے تھا ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے 23 مارچ 1959ئ کو انہیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *