download (1)

قوم کو پوچھنا چاہئے نواز شریف کو کیوں فارغ کیا گیا ۔نواز شریف

جہلم سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کام شروع کیا دھرنے والے آگئے کینڈا سے مولانا بھی آگئے ۔ مولوی صاحب کو ہر تین ماہ بعد پاکستان کا درد اٹھتا ہے ۔ ڈکٹیٹر کمر میں درد کا بہانہ کرکے ملک سے بھاگ گیا ۔ پاکستان اوپر آرہا تھا گلا دبادیا گیا ۔ قوم کو پوچھنا چاہئے کہ نواز شریف کو کیوں فارغ کیا گیا ۔میرا دل پاکستان کی محبت میں ڈوبا ہو ا ہے ۔جب کرپشن ہی ثابت نہیں ہوا تو نا اہل کیوں کیا گیا یہ پاکستان کے کروڑوں عوام کے ووٹوں کی توہین ہے ۔ ایک منٹ میں پانچ ججوں نے فارغ کر دیا ۔ 5 معزز ججوں نے مجھے نااہل کیا لیکن انہوں نے مجھے نہیں بلکہ 20 کروڑ عوام کو نااہل کیا۔ آج تک کوئی وزیر اعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکا۔ انہوں نے ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کبھی ڈکٹیٹر، تو کبھی جج آکرآپ کے ووٹ کی پرچی پھاڑ کر ہاتھ میں دے دیتا ہے اور اوسطاً ڈیڑھ سال میں ہر وزیراعظم گھر چلا جاتا ہے مجھے اس لئے نکالا گیا کہ میں ترقی لا رہا تھا ۔جان لڑا کر پاکستان کو ترقی کی جانب لے کر جانے کا وعدہ کیا تھا۔ نیت صاف ہے دیانتداری کے ساتھ ملک کی امانت کو امانت سمجھا ۔ الحمد للہ کراچی اور بلوچستان میں امن آگیا۔آپ کے سامنے سی پیک کی سرمایہ کاری آرہی تھی ۔ عوام نے مجھے اسلام آباد بھجوایا اسلام آباد والوں نے گھر بھیج دیا۔ مجھے اقتدار کا نہیں عوام کی تقدیر بدلنے کا شوق ہے ۔ پاکستان کو بدلنا ہے تو پھر سارے نظام کو بدلنا ہوگا۔ بیٹی کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر وزیر اعظم کے منصب سے ہٹادیا گیا۔ میں وہی ہوں جس نے ایٹمی دھماکہ کیا ۔ انہوں نے کہا کیا ملک میں کوئی ایسی عدالت ہے جو ڈکٹیٹروں کو سزا دے سکے ۔ آمروں نے یہاں دس دس سال حکومت کی ۔ اس سے قبل سوہاوہ میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا مجھ پر کرپشن کا کوئی کیس نہیں بلکہ بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کی سزا ملی، لوگ کہتے تھے اربوں روپے کی کرپشن ہوئی ہے لیکن ایک روپے کی کرپشن نظر نہیں آئی۔ 5 معزز لوگوں نے مجھے نااہل کیا لیکن انہوں نے مجھے نہیں بلکہ 20 کروڑ عوام کو نااہل کیا، یہ وزیراعظم کی توہین نہیں پاکستان کے عوام کی توہین ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ آپ نے مجھے ووٹ دے کر اپنی محبت اظہار کیا، آپ کی محبت میں کوئی شک نہیں جب کہ نااہلی کے فیصلے کے خلاف سوہاوہ کے عوام نے اپنا فیصلہ سنادیا، کیا آپ کے دیے مینڈیٹ سے بنے وزیراعظم کو نااہل کرنا مناسب تھا۔ میں آپ کی نااہلی کامقدمہ لے کر نکلا ہوں۔نواز شریف نے کہ ا میرے پاس آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں جب کہ 2013 میں آپ کے پاس آیا تھا اور آپ سے کہا تھا ملک بڑی مشکل میں ہے، معیشت تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے، ملک اندھیروں میں ڈوب چکا تھا، مزدور طبقہ پریشان تھا لیکن میں نے وعدہ کیا تھا کہ اس ملک سے اندھیروں کو ختم کردوں گا اور روشنیوں کو واپس لے کر آ¶ں گا اور آج روشنیاں واپس آچکی ہیں، لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر ہے جو اگلے سال مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا آئین کو ڈکٹیٹرتوڑتے ہیں اور پھر 10،10 سال حکومت کرتے ہیں، کیا اس ملک میں کوئی ایسی عدالت ہے جو آمروں کا احتساب کرے جو کمر کی تکلیف کا بہانہ کرکے ملک سے بھاگ جاتے ہیں لیکن کبھی ڈکٹیٹر، تو کبھی جج آکرآپ کے ووٹ کی پرچی پھاڑ کر ہاتھ میں دے دیتا ہے اور اوسطاً ڈیڑھ سال میں ہر وزیراعظم گھر چلا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے جانے کے بعد دھرنے والے میدان میں آگئے اورمولوی کینیڈا سے آگئے، مولوی صاحب کوہرتین ماہ بعد پاکستان کا درد جاگتا ہے جب کہ مولوی صاحب برطانیہ میں رہتے ہیں پاسپورٹ بھی وہیں کا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *